ثاقب نثار پر الزامات کا نواز شریف کو کتنا فائدہ ہو گا؟

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) کے اوپر نیچے دو سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز خود کو ایون فیلڈ کیس میں سنائی گئی عدالتی سزاؤں کے خلاف اپیلوں میں انہیں بطور ثبوت پیش کریں گے یا نہیں؟
ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) کا آڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد جہاں مسلم لیگ نواز کی جانب سے ایون فیلڈ کیس سے متعلقہ مزید ’ہوشربا ثبوت‘ سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہیں حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے جعلی شواہد کی کوئی حقیقت نہیں جن کا مقصد صرف ملکی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔ ان دعوؤں کے بعد یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ کیا ثاقب نثار کی آڈیو لیک اور رانا شمیم کا بیان حلفی اس نوعیت کے ’شواہد‘ ہیں جنہیں عدالت میں پیش کیے جا سکے اور آیا یہ شواہد اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف اور مریم کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف زیر سماعت اپیلوں پر اثر انداز ہو پائیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ماضی میں اس نوعیت کے تنازعات اور مبینہ شواہد سامنے آنے کے بعد کیا ملزمان کو عدالت سے ریلیف مل پایا یا نہیں؟
اس معاملے پر مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے وہ ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) کی آڈیو اور گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی جیسے بڑے ثبوتوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ایون فیلڈ ریفرنس اپیل کیس میں اپنے حق میں استعمال کرے گی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آڈیو لیک اور بیان حلفی جیسے معاملات عدلیہ اور فوج کے خلاف ایک منظم مہم کا حصہ ہیں اور چونکہ ایون فیلڈ ریفرنس پر اپیل کا معاملہ ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اسی لیے آڈیو لیک پر عدالت حکومت کو جو حکم دے گی وہ اس کے مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ مسلم لیگ نواز ان ’شہادتوں‘ کو ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیلوں میں استعمال کر کے اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور انھیں اس معاملے میں ریلیف ملنے کے بھی امکانات ہیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو ایس جی ایس کوٹیکنا کیس میں پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ سزا لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ملک محمد قیوم کی قیادت میں بنچ کی طرف سے سنائی گئی تھی۔ انھی دنوں میں ایک آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی جس میں مذکورہ جج کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اور اس وقت کے احتساب کمیشن کے چیئرمین سیف الرحمن آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور ملزمان کو سزائیں سنانے کے حوالے سے جج پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے مختلف احتساب کیسوں میں ایک وکیل سردار لطیف خان کھوسہ نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ملک قیوم کی آڈیو ٹیپ کو اس فیصلے کے خلاف اپیل میں نہ صرف بطور شہادت پیش کیا گیا تھا بلکہ اس آڈیو ٹیپ کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس جہانگیری کی سربراہی میں قام ہونے والے پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے بھی سنایا تھا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے۔ انھوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ میں اس اپیل کی سماعت ہوئی تو اس وقت سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو ملک سے باہر تھیں اور ان کی عدم موجودگی میں سپریم کورٹ میں ایپل کی سماعت ہوئی تھی۔ لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے سزا کے خلاف اس اپیل پر اعتراض لگایا تھا کہ پہلے بینظیر کو سرنڈر کرنا پڑے گا تاہم رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف انھوں نے اپیل دائر کی تھی جس کی سماعت اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے اپنے چیمبر میں کی تھی اور انھوں نے ان کی اپیل منظور کرلی تھی۔انھوں نے کہا کہ پانچ رکنی لارجر بینچ نے اس معاملے کو دوبارہ سماعت کے لیے بھیج دیا تھا اور راولپنڈی کی احتساب کی عدالت نے ایس جی ایس اور کوٹیکنا کیس میں آصف علی زرداری کو بری کردیا تھا۔
واضح رہے کہ احتساب عدالتیں قائم ہونے سے پہلے کرپشن کے کیسوں کی سماعت ہائی کورٹ میں ہوتی تھی۔ سردار لطیف کھوسہ کے مطابق اس آڈیو ٹیپ کے منظر عام آنے کے بعد نہ صرف ملک قیوم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا بلکہ اس وقت سپریم کورٹ کے جج جسٹس راشد عزیز کو بھی گھر جانا پڑا تھا۔ سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اور قانون دان امجد شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینے سے متعلق احتساب عدالت کے جج ملک ارشد کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد تب کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک درخواست کی سماعت پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو جج انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا اور دباؤ میں آ کر کوئی فیصلہ دے تو ایسے شخص کو کسی طور پر بھی انصاف کی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں اور یہ کہ اس طرح کی ویڈیو آنے کے بعد اعلی عدلیہ میں کام کرنے والے ججوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔
امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مبینہ شہادتوں کو نواز شریف اور ان کی بیٹی کو احتساب عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیلوں میں استعمال کیا جائے گا اور ایسے حالات میں ملزم کو ریلیف ملنے کے امکانات ہوتے ہیں۔
تاہم انھوں نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک الگ کمیشن بنایا جائے جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کے ان الزامات کا بھی جائزہ لے جو انھوں نے اعلیٰ عدلیہ میں بینچوں کی تشکیل سے متعلق لگائے تھے۔
اگر عمران وزیراعظم بن سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟
دوسری جانب مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) کی آڈیو ٹیپ سے عدلیہ کی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے، جس کی تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس آڈیو کے ساتھ فارنزک رپورٹ بھی لگی ہوئی ہے جو آڈیو ٹیپ کے اصل ہونے کا ثبوت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کو سزا دینے سے متعلق یہ چوتھا ثبوت سامنے آیا ہے کہ کس طرح ججز کو کنٹرول کیا گیا لہذا اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔
