عام شہریوں پر فوجی عدالتوں کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند؟

سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائلز سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔عدالت عظمیٰ کے اس حکم کے بعد جہاں اس فیصلے کے اثرات زیرِ بحث ہیں تو وہیں یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ آیا اس فیصلے کا اطلاق صرف موجودہ اور آئندہ مقدمات کی حد تک ہو گا یا اس کے دائرے میں ماضی کے مقدمات بھی آئیں گے؟

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق عدالتی فیصلے سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ ’اب ملک میں کسی بھی عام شہری پر کتنے ہی سنگین الزامات کیوں نہ ہوں مگر اس کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں جا سکتا۔‘وہ بتاتے ہیں کہ آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی کا قانون پہلے سابق فوجی آمر ایوب خان کے دور میں متعارف کروایا گیا تھا اور اسی کے تحت تحریک انصاف کے کارکنان کے فوجی ٹرائل شروع کیے گئے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’سنہ 1965 کی پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جو مذاکرات ہوئے تھے اس کے خلاف پاکستان میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے تحت عام شہریوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں چلائے جاسکتے تھے۔‘

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ جب کسی سویلین کا معاملہ فوجی عدالت میں چلا جاتا ہے تو فوج کی پراسیکوشن برانچ کا ایک افسر ملزم کے خلاف تمام شواہد اکھٹے کرتا ہے اور تمام شواہد کا ریکارڈ ملزم کو فراہم کر دیا جاتا ہے۔ملزم کو شواہد کا ریکارڈ فراہم کرنے کے 24 گھنٹوں کے بعد اسے اس مقدمے کی سماعت کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔یہ خصوصی عدالت تین ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور اس تین رکنی ارکان کی سربراہی کرنے والے کو پریذیڈنٹ کہا جاتا ہے جو کہ لیفٹیننٹ کرنل رینک کا افسر ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی اہم مقدمہ ہو تو پھر جیگ برانچ کا نمائندہ بھی اس خصوصی عدالت میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ملزم پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اسے اپنے وفاع کے لیے وقت دیا جاتا ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ سات روز کا ہوتا ہے۔

فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ملزم کو خود یا اپنے وکیل کے ذریعے پراسیکوشن کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد یا گواہان پر جرح کرنے کا حق ہے۔ اس کے علاوہ ملزم کو اپنے دفاع میں کوئی گواہ یا دستاویزات بھی پیش کرنے کا حق ہوتا ہے۔سات روز کے اندر دونوں اطراف سے کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ تین رکنی بینچ اپنی رائے مرتب کر کے کنوئنگ اتھارٹی کو بھیجے گا اور یہ اتھارٹی برگیڈئر یا میجر جنرل رینک کے افسر کی ہو گی۔اس تین رکنی بینچ کی رائے پر مبنی جو بھی فیصلہ ہوگا وہ کھلی عدالت میں نہیں بتایا جائے گا بلکہ ملزم جس یونٹ کی تحویل میں ہوگا اس کو اس سزا کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔مجرم کو سزا سے متعلق آگاہ کیے جانے کے بعد اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور مجرم کے پاس اس سزا کے خلاف 40 روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔اپیل دائر ہونے کی صورت میں مجرم کی اپیل سننے کے لیے ایک عدالت قائم کر دی جاتی ہے جسے کورٹ آف اپیل کہا جاتا ہے اور یہ عدالت بھی مجرم کی اپیل پر ایک ہفتے کے اندر فیصلہ سنا دیتی ہے۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ اگر مجرم کی نظرثانی کی درخواست کورٹ آف اپیل سے مسترد ہو جاتی ہے تو پھر مجرم کے پاس فوجی عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اگر ہائی کورٹ بھی فوجی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو پھر مجرم ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا حق رکھتا ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدعام شہریوں پر فوجی عدالتوں کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے؟

فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے معاملے میں سپریم کورٹ میں درخواستگزار اور ماہرِ قانون  اعتزاز احسن کے مطابق اس فیصلے سے یہ مطلب اخذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اعتزاز احسن کا مزید کہنا ہے کہ آئین میں مشروط ترمیم کر کے مخصوص حالات اور مقدمات کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی جا سکتی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق یہ ترامیم صرف کچھ عرصے کے لیے ہی کی جا سکتی ہیں۔فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد فوجی عدالتوں میں مقدمات کے حوالے سے درخواست گزار اعتزار احسن نے کہا کہ عدالت میں اٹارنی جنرل نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر ان عام شہریوں کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں شروع کیا گیا تو پہلے اس عدالت کو مطلع کیا جائے گا تاکہ اگرعدالت حکم امتناعی دینا چاہتی ہے تو پھر ہو ایسا کر سکے۔ ’مگر عدالت کو بتائے بغیرعام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں شروع کر دیے گئے۔‘

تاہم دوسری جانب وکیل فیصل صدیقی کے مطابق اس فیصلے سے ’فوجی عدالتوں کے دروازے بند ہو گئے ہیں۔‘ان کے مطابق اب یہ فیصلہ صرف نو سے 11 مئی تک کے ملزمان کی حد تک نہیں رہ گیا بلکہ یہ ’ایک ڈکلیریشن ہے اور اس سے ہر کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔‘ماہرِ قانون فیصل صدیقی نے کہا ہے کہ ابھی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنا ہے جس سے یہ پتا چل سکے گا کہ اس کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر ہو سکے گا یا نہیں۔ان کے مطابق اگر عدالت اس فیصلے تک پہنچی ہے کہ عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں کے سامنے نہیں چلائے جا سکتے تو پھر جن کا ٹرائل ہو چکا ہے اور حتمی فیصلہ نہیں ہوا تو وہ مقدمات بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

فیصل صدیقی نے کہا کہ اس وقت ایک سماجی رہنما ادریس خٹک کی مثال سامنے ہے جن کا ٹرائل کالعدم قرار دی جانے والی شق کے تحت ہوا تھا اور اب ان کی اپیل آرمی چیف کے سامنے زیر التوا ہے۔تاہم دوسری طرف اعتزاز احسن کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں ’یہ نہیں لکھا کہ اس کا اطلاق ماضی سے ہو گا۔‘ ان کے خیال میں عدالت ’اگر ایسا لکھتی ہے تو پھر سینکڑوں اور ہزاروں مقدمات کی نوعیت مختلف ہے اور اس سے بڑا قانونی چیلنج پیدا ہو سکتا ہے۔‘ان کی رائے میں عام شہریوں کے مقدمات اب آئندہ سے فوجی عدالتوں میں دائر نہیں کیے جا سکیں گے۔

پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین عابد ساقی کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے ’دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔‘انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی طرف سے جو مختصر فیصلہ آیا ہے اس سے نہ صرف نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار افراد کو ریلیف ملے گا بلکہ اس سے قبل جو افراد فوجی عدالتوں سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد سزائیں کاٹ رہے ہیں وہ بھی اس عدالتی فیصلے سے مستفید ہو سکیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان درخواستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں یہ بات سامنے آئے گی کہ کیا اس فیصلے کا اطلاق ان افراد پر بھی ہوگا جو شدت پسندی اور فوجی افسران کو نشانہ بنانے کے واقعات میں ملوث

نواز شریف کی تقریر نے کس کس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ؟

ہیں، جن کا مختلف فوجی عدالتوں میں ٹرائل چل رہا ہے۔

Back to top button