نواز شریف کی تقریر نے کس کس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ؟

2017 میں جس طرح ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا گیا، انہیں قید و بند کی صعوبتیں دی گئیں، اُن کیخلاف مقدمات بناکر جلاوطنی پر مجبور کیا گیا،ایسے میں انتقام کی آگ پیدا ہونا قدرتی عمل ہے مگر نواز شریف کے اس موقف سےکہ ’’اگر انہیں دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو وہ مخالفین سے کوئی انتقام نہیں لیں گے۔‘‘ ان لوگوں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔، جو یہ توقع کررہے تھے کہ نواز شریف اپنی 21 اکتوبر کی تقریر میں اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز صنعت کار ، پاکستان کے اعزازی سفیر اور کالم نگار مرزا اشتیاق بیگ نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ 4سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد ’’اُمید پاکستان فلائٹ‘‘سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی سے ان کے مخالفین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے جو بڑے وثوق سے یہ دعوے کرتے رہے کہ نواز شریف کی سیاست ختم ہوگئی ہے اور وہ کبھی وطن واپس نہیں آئیں گے ۔ مینار پاکستان پر ملک بھر سے آئے لاکھوں عوام نے نواز شریف کا والہانہ استقبال کرکے مخالفین کو حیرت زدہ کردیا ۔نواز شریف کی واپسی اور عوام کے جم غفیر سے خطاب نے پارٹی میں ایک نئی روح پھونک دی اور یہ غلط ثابت کردیا کہ پارٹی کی مقبولیت پہلے کی طرح نہیں رہی۔ لاہور کے کامیاب پاور شو نے یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ پنجاب کی سیاست میں (ن) لیگ ہی ایک مقبول جماعت ہے
مرزا اشتیاق بیگ بتاتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی ’’امید پاکستان فلائٹ‘‘ میں اُن کے چہرے پر وہ اطمینان دیکھا جو اللہ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے۔ فلائٹ میں نواز شریف کے قریبی ساتھی ناصر جنجوعہ کے علاوہ سینیٹر عرفان صدیقی اور نواز شریف کی جلاوطنی میں ہر قدم ساتھ دینے والے شکور کریم بھی موجود تھے۔ پاکستان روانگی سے قبل نواز شریف کو دبئی ایئرپورٹ پر یو اے ای حکومت نے خصوصی پروٹوکول کے ساتھ رخصت کیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک کے حکمراں نواز شریف کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ فضائی سفر کے دوران وقتاً فوقتاً ماحول ’’نواز شریف زندہ باد، وزیراعظم نواز شریف‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہا۔ اس دوران بیشتر وقت نواز شریف اپنی تقریر لکھنے میں مصروف رہے۔ طیارے نے جب اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کیا تو میاں صاحب نے ہاتھ اٹھاکر دعا کی۔
اشتیاق بیگ کے مطابق نواز شریف کو کئی مرتبہ آزمائشوں میں ڈالاگیا مگر وہ ہر بار آزمائش پر پورے اترے اور جب بھی وطن واپس لوٹے، زیادہ قوت کے ساتھ آئے۔ ان آزمائشوں کے دوران نواز شریف کی زندگی میں دو خواتین نے اہم کردار ادا کیا۔ پہلی ان کی اہلیہ کلثوم نواز تھیں۔ جب پرویز مشرف نے نواز شریف کو پابند سلاسل کیا تو وہ چٹان کی طرح اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی تھیں اور مشرف حکومت کی ظلم زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلیں۔ دوسری اُن کی بیٹی مریم نواز ھیں جو پی ٹی آئی دور حکومت میں اپنے والد نواز شریف کے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی رہیں اور مفاہمت کے بجائے مزاحمت کی سیاست اپنائی۔ مریم نواز اپنے موقف پر آخری وقت تک ڈٹی رہیں اور نواز شریف ایک فاتح کے طور پر وطن واپس لوٹے۔ وہ منظر بھی بڑا دل موہ لینے والا تھا جب مریم نواز نے نم آنکھوں کے ساتھ اپنے والد کے ماتھے کو چوما ، جس نے ہر دیکھنے والے کی آنکھیں نم کردیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ نواز شریف نے 21 اکتوبر کی اپنی تقریر میں کوئی منفی یا بدلے کی سیاست کی بات نہیں کی اور ملک کو ازسر نو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا 9 نکاتی ایجنڈا قوم کے سامنے رکھا۔ اگر نواز شریف برسراقتدار آئے اور اپنے ایجنڈے پر عمل کیا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔گوکہ میاں نواز شریف نے وطن واپس آکر، پاور شو کا مظاہرہ اور سحر انگیز خطاب کرکے پہلا مرحلہ کامیابی سے طے کرلیا ہے مگر انہیں سیاسی اور قانونی محاذ کا بھی سامنا کرنا ہوگا جس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔آخر میں مرزا اشتیاق بیگ کہتے ہیں کہ وقت نے ثابت کیا ہے کہ انتقام کی سیاست نے پاکستان کو ہمیشہ نقصان پہنچایا ہے۔وقت آگیا ہے کہ ہم آئیندہ انتقامی سیاست سے اجتناب برتیں۔ پاکستان کو آج سیاسی جماعتوں اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتحاد، یکجہتی، برداشت اور باہمی تعاون کی جتنی ضرورت ہے، وہ
اداکارہ میرا نے مداحوں سے دعا کی اپیل کیوں کر دی؟
پہلے کبھی نہیں تھی۔
