UAE پر میزائل اور ڈرون حملہ، ایران امریکہ جنگ بندی خطرے میں

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں متحدہ عرب امارات پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے نے ایران اور امریکہ کے درمیان قائم نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق جمعہ کی صبح فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنایا، تاہم اس واقعے نے پورے خطے میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔
اماراتی حکام نے شہریوں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ فضائی دفاعی کارروائی کے نتیجے میں گرنے والے ملبے یا مشکوک اشیا کے قریب نہ جائیں، نہ تصاویر بنائیں اور نہ ہی انہیں ہاتھ لگائیں۔ اس انتباہ سے صورتحال کی سنگینی واضح ہوتی ہے، کیونکہ حالیہ ہفتوں میں خلیجی ممالک مسلسل جنگی دباؤ اور سکیورٹی خدشات کا سامنا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کی ایران کی جانب سے مبینہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 8 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی ابھی تک بظاہر برقرار تھی۔ تاہم تازہ واقعات نے اس جنگ بندی کی پائیداری پر بڑے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ امریکی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے تین جہازوں پر ہونے والے ایرانی حملے ناکام بنائے اور اس کے جواب میں ایران کی بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ’حقِ دفاع‘ کے تحت کی گئی، جبکہ واشنگٹن نے واضح کیا کہ اس کا مقصد کشیدگی میں اضافہ نہیں بلکہ اپنی افواج کا تحفظ ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حالیہ تشدد کے باوجود جنگ بندی اب بھی قائم ہے، مگر زمینی حقائق اس دعوے کو مسلسل چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید حملوں کی زد میں ہے۔ حکام کے مطابق تنازع کے آغاز سے اب تک ایران کی جانب سے دو ہزار سے زائد ڈرون، سینکڑوں بیلسٹک میزائل اور متعدد کروز میزائل داغے جا چکے ہیں۔ اگرچہ بیشتر حملے دفاعی نظام نے ناکام بنا دیے، تاہم ان حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ توانائی کے مراکز اور اہم تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔خطے کے دیگر خلیجی ممالک بھی اس کشیدگی سے متاثر ہوئے ہیں، اگرچہ انہوں نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ یا اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا حصہ نہیں۔ اس کے باوجود جنگ کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں، خصوصاً توانائی، تجارت اور فضائی سلامتی کے شعبوں میں۔
امارات نے حالیہ حملوں کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ اسی مقصد کے لیے ایک قومی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو انسانی، معاشی اور مادی نقصانات کا مکمل ریکارڈ تیار کرے گی۔ اماراتی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت کے زمرے میں آتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر خطے میں فوری سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو یہ کشیدگی ایک بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ مبصرین کے بقول پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے مذاکرات اگرچہ کسی بڑے معاہدے تک نہ پہنچ سکے، لیکن اب بھی عالمی طاقتیں سفارتی حل کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم تازہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام ابھی بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
