محسن بیگ گرفتاری، ڈائریکٹر ایف آئی اے کو شوکاز نوٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے محسن بیگ گرفتاری کیس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ بابر بخت قریشی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے آئین سے بالا ہے ؟ کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں محسن بیگ کے خلاف مقدمات خارج کرنے کی درخواستوں پرسماعت ہوئی ، سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی، محسن بیگ کی بیگم کی جانب سے لطیف کھوسہ اور ریاست کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔

جبکہ عدالت کے طلب کیے جانے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ بابر بخت قریشی چیف جسٹس کے سامنے پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے گرفتاری سے قبل محسن بیگ کو نوٹس جاری کیا تھا جس پر بابر بخت نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر چیف جسٹس نے انتہائی برہمی کا اظہار کیا تو بابر بخت نے التجا کی جسٹس صاحب رحم کھائیں، ہم آپ کے بچے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ نہ آپ میرے بچے ہیں نہ میں آپ کا والد ہوں۔

درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس، ڈی جی ایف آئی اے، ایس ایچ او تھانہ مرگلہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے، ریاست سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، لطیف کھوسہ نے بتایا کہ محسن بیگ کے خلاف مجرمانہ مقدمے اور تمام نتیجہ خیز کارروائیوں کو منسوخ کیا جائے، ایف آئی آر کا اندراج اور اس کے نتیجے میں ہونے والی کارروائیاں حقائق، قانون کی خلاف ورزی کے نتائج ہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ایف آئی آر کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر نمبر 34/2022 درخواست گزار کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے، ایف آئی آر نمبر 34/2022 کا شکایت کنندہ ایک موجودہ وفاقی وزیر ہے، سیاسی عزائم، رنجش کی بنیاد پر فوجداری مقدمات بنائے گئے۔

لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ محسن بیگ ایف آئی اے ٹیم اور پولیس اہلکاروں کے غیرقانونی فعل اور طرز عمل سے بری طرح زخمی ہوا ہے، تاہم اس حقیقت کا تذکرہ ایف آئی آر میں نہیں کیا گیا، محسن بیگ کو پولیس اور ایف آئی اے کی ٹیم نے بُری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔

سوئس اکاؤنٹ کیس:جنرل ضیاالحق کے انٹیلی جنس سربراہ کا نام بھی شامل

وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس اور ایف آئی اے کی طرف سے کیے گئے جرم کو چھپانے کے لیے غیر قانونی ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے، محسن بیگ کو پولیس اور ایف آئی اے کی ٹیم نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا تھا، پی ایس مارگلہ کی پولیس نے روزریمچہ کو بھی معزز عدالت کے بیلف کے حوالے نہیں کیا گیا۔

محسن بیگ کے وکیل نے بتایا کہ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ویسٹ کی کارروائی ان حقائق کی عکاسی کرتی ہے، کچھ نامعلوم افراد نے قیدی محسن بیگ کے گھر میں سول ڈریس میں گھس گئے تھے، پولیس کو ایمرجنسی کال 15 بھی کیا گیا، سول افراد سے کہا گیا کہ وہ وارنٹ اور سرچ وارنٹ دکھائیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کی رٹ قائم ہونی چاہیے، قانون ہاتھ لینے کی کسی کو ضرورت نہیں، دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی نے محسن بیگ سےمتعلق رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی،رپورٹ میں بتایا گیا کہ محسن بیگ کو گرفتار کیا، تھانے میں آمد روانگی کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، موقع پرجھگڑا ہوا جس پر محسن بیگ نےایف آئی اے کے 2اہلکاروں کو مارا۔

محسن بیگ نے حوالات لے جاتے ہوئے شدید مزاحمت کی، تھانے میں آنے کے بعد پھر جھگڑا ہوا، جس پر سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ محسن بیگ کے خلاف 4مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، لاہور اور اسلام آباد میں دو مقدمات درج کیے گئے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کا کہنا تھا کہ وکیل کو تھانے میں رسائی دی گئی، ایف آئی اے کی جانب سے کسی کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا شکایت کنندہ اسلام آباد میں تھا تو مقدمہ لاہور میں کیوں درج ہوا؟ کیا ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈر کی ساکھ کی حفاظت کے لیے کام کر رہا ہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ایف آئی اے قانون، آئین سے بالا ہے؟ کیوں نہ ایف آئی اےے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں۔جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ریاست کی رٹ ہونی چاہئے، بےشک کوئی ان کے گھر غلط گیا ہوگا مگر قانون ہاتھ میں کیوں لیا؟ اس سے متعلق جو بھی دفاع ہے وہ متعلقہ ٹرائل کورٹ میں پیش کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے پر محسن بیگ کا جو دفاع ہے، وہ ٹرائل کورٹ میں پیش کریں، محسن بیگ کے خلاف درخواست دینے والا شکایت کنندہ اسلام آباد میں تھا؟

Back to top button