نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کی تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج

پی ٹی آئی کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تعیناتی کو عدالت اعظمیٰ میں چیلنج کر دیا گیا ہے، تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے بطور سیکرٹری درخواست دائر کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی نے محسن نقوی کو بطور نگران وزیراعلیٰ کام سے روکنے کی استدعا کی ہے۔درخوست میں استدعا کی گئی ہے کہ محسن نقوی کا نگران وزیراعلیٰ تعیناتی کا نوٹیفکیشن غیر آئینی قرار دیا جائے۔
پی ٹی آئی نے راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا نوٹیفکیشن بھی چیلنج کردیا۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن ممبر بابر حسن بھروانہ اور اکرام اللہ خان کی تعیناتی غیر آئینی قرار دی جائے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف نے محسن نقوی کی تعیناتی پر تحفظات کر اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا تھا جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ رجیم چینج میں سب سے بڑا کردار محسن نقوی کا تھا۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی صاف و شفاف انتخابات کرانے نہیں آئے اور میں جب تک زندہ ہوں ملک کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 26 سال پہلے اپنی جماعت کا نام انصاف کی تحریک رکھا تھا اور جن ممالک میں قانون کی بالادستی ہے وہ خوشحال ہیں۔ مجھے حکومت سے سازش کے تحت باہر نکالا تو عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلے۔
انہوں نے کہا کہ آج تک جتنی عزت مجھے ملی اتنی کون سے وزیر اعظم کو ملی ؟ میرے لیے وزارت عظمیٰ کی کوئی اہمیت نہیں جبکہ آج قوم ایک بہت خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ ظلم اور ناانصافی کے سامنے کھڑے ہونے کا نام جہاد ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہم پرجہاد فرض کیا ہوا ہے، عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں پہلے عدل و انصاف آیا پھر خوشحالی آئی کیونکہ خوشحالی انصاف کے ساتھ ہوتی ہے اور چین نے 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال لیا۔
پنجاب کی نگران کابینہ کو قلمندان سونپ دیئے گئے
