نیب ملک ریاض کی 6 میں سے صرف ایک جائیداد بیچنے میں کامیاب

قومی احتساب بیورو کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض حسین کی ضبط شدہ جائیدادوں کی نیلامی کا منصوبہ بظاہر تب ناکام ہو گیا جب نیب چھ میں سے صرف ایک پراپرٹی بیچنے میں کامیاب ہو پایا۔ سات اگست کو اسلام اباد میں بحریہ ٹاؤن کی چھ کمرشل پراپرٹیز کی نیلامی کی تقریب کے دوران صرف ایک ہی پراپرٹی کی نیلامی ہو پائی۔
عجیب بات یہ تھی کہ نیلامی کی تقریب میں میڈیا کو کوریج کے لیے مدعو تو کیا گیا تھا لیکن اسے آخری لمحات میں کوریج کی اجازت نہیں ملی۔ بعد ازاں نیب نے ایک بیان میں دعوی کیا کہ نیلامی کے دوران بحریہ ٹاؤن کی روبیش مارکی نامی پراپرٹی 50 کروڑ 80 لاکھ روپے میں نیلام کر دی گئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ قیمت ریزروڈ پرائس سے 2 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ نیب کی پریس ریلیز کے مطابق اس پراپرٹی کی ادائیگی اور منتقلی کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔
نیب کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے کارپوریٹ آفس ون اور ٹو خریدنے کے لیے مشروط آفر ملی یے لیکن ابھی اسکا سودا نہیں ہو پایا۔ نیب نے دعوی کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے کارپوریٹ آفس ون کو خریدنے کے لیے 87 کروڑ 60 لاکھ کی مشروط بولی لگی۔ اسی طرح کارپوریٹ آفس ٹو کے لیے 88 کروڑ 15 لاکھ کی مشروط بولی لگی۔ لیکن ابھی چونکہ دونوں بولیاں مشروط ہیں اس لیے حتمی منظوری میں کچھ وقت لگے گا۔
نیب نے اپنی پریس ریلیز میں تسلیم کیا کہ وہ بحریہ ٹاؤن کی ایک جائیداد بیچنے میں کامیاب ہوا، دو پراپرٹیز کی مشروط بولی لگی جبکہ تین جائیدادوں کی نیلامی مؤخر کر دی گئی کیونکہ اسے مطلوبہ بولی نہیں مل پائی۔ بتایا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی جن 6 جائیدادوں کو نیلامی کے لیے پیش کیا گیا ان کی مالیت پانچ ارب روپے سے زیادہ ہے۔ میڈیا کو نیلامی کے لیے مدعو کیا گیا تھا مگر اسے یہ عمل دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ دو گھنٹے میں ایک جائیداد کی نیلامی کا عمل مکمل کرنے کے بعد ایک پریس ریلیز میں اس کی تفصیلات بتائی گئیں۔ جن تین جائیدادوں کی مطلوبہ بولی موصول نہیں ہو پائی ان میں ارینا سینیما، بحریہ ٹاؤن انٹرنیشنل اکیڈمی اور بحریہ ٹاؤن سفاری کلب شامل ہیں۔
یاد رہے کہ نیب نے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض حسین کے تعمیراتی پراجیکٹ بحریہ ٹاؤن کے دو کارپوریٹ دفاتر سمیت اربوں روپے مالیت کی چھ جائیدادوں کی نیلامی کے لیے 7 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اس نیلامی کو رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا تاہم ہائیکورٹ نے نیلامی رکوانے کی بحریہ ٹاؤن کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ تاہم ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف بحریہ ٹاؤن نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ جائیدادوں کی نیلامی کا عمل روکا جائے۔
بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی کا حکم احتساب عدالت نے تین مختلف مقدمات میں ملک ریاض حسین کو اشتہاری قرار دینے کے بعد کیا گیا تھا۔
احتساب عدالتوں نے بحریہ ٹاؤن کی جن جائیدادوں کو نیلام کرنے کا حکم دیا، وہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی حدود میں واقع ہیں اور ان تمام جائیدادوں کو تجارتی بنیادوں پر چلایا جا رہا تھا۔ ان میں بحریہ ٹاؤن کے دو کارپوریٹ دفاتر، ایک تعلیمی ادارے کی عمارت، سفاری کلب اور ایک شادی ہال کے علاوہ سنیما گھر بھی شامل ہے۔ اخبارات میں شائع اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ان اثاثوں کی بولی اشتہار میں دی گئی قیمت سے شروع ہو گی اور سب سے زیادہ بولی دینے والے شخص کو کامیاب قرار دیا جائے گا۔ ان میں نیب نے بحریہ ٹاؤن کے کمرشل ایریا میں واقع سنیما گھر کی قیمت ایک ارب دس کروڑ روپے تجویز کی جبکہ انٹرنیشل اکیڈمی کی عمارت کی نیلامی کی بولی ایک ارب سات کروڑ روپے سے شروع ہو گی۔ اس کے علاوہ بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں واقع سفاری کلب کی قیمت ایک ارب 24 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ اس اشتہار میں کہا گیا کہ کامیاب بولی دہندہ کو نیلامی والے دن جائیداد کی قیمت کا 5 فیصد بطعت سکیورٹی ڈیپازٹ ادا کرنا ہو گا، اس کے بعد ایک ماہ کے اندر دس فیصد جبکہ جائیداد کی قیمت کا باقی 85 فیصد تین ماہ کے اندر ادا کرنا ہو گا۔ جائیداد کی مکمل رقم جمع ہونے کے بعد یہ پراپرٹی بولی میں کامیاب ہونے والے کے نام کی جائے گی جبکہ ناکامی کی صورت میں زربیعانہ کی رقم ضبط تصور ہو گی۔ اشتہار میں یہ بھی کہا گیا کہ تمام ٹیکسز، ٹرانسفر فیس اور دیگر حکومتی اخراجات بولی میں کامیاب ہونے والا ہی اٹھائے گا۔
عمران کی احتجاجی سیاست نےPTIکوکیسے تباہ کیاہے؟
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ملک ریاض نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں نیب کی جانب سے مختلف شہروں میں سرکاری زمینوں پر قبضے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب کا ’بے سروپا پریس ریلیز دراصل بلیک میلنگ کا نیا مطالبہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کے قانون کی پاسداری کی اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔‘ انہوں نے نیب کے بیان کو سیاسی صورت حال سے جوڑتے ہوئے بلیک میلنگ کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ’وہ کسی کے خلاف گواہی دیں گے اور نہ ہی کسی کے خلاف استعمال ہوں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ ’گواہی کی ضد‘ کی وجہ سے بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ ملک ریاض کا شمار پاکستان کی ان بااثر کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں دونوں میں اہم لوگوں سے رابطے رکھتے ہیں تاہم گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کی اس بااثر کاروباری شخصیت کے ستارے گردش میں رہے ہیں۔ نیب کی جانب سے بحریہ ٹاون کی جائیدادیں ضبط کرنے اور انہیں نیلام کرنے کے فیصلے کے بعد ملک ریاض نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ میں دل کی گہرائیوں سے آخری اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں سنجیدہ مکالمے اور باوقار حل کی طرف واپسی کا موقع دیا جائے۔ ہم اس مقصد کے لیے کسی بھی ثالثی میں شریک ہونے اور اس کے فیصلے پر سو فیصد عملدرآمد کا یقین دلاتے ہیں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر ثالثی کا فیصلہ ہماری جانب سے رقوم کی ادائیگی چاہے گا تو ہم ادائیگی یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دل و جان سے پاکستان کے عوام اور ریاست کے مقتدر ترین اداروں کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، اور وطن عزیز کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
