آئیندہ حکومت میں نواز اور شہباز باری باری وزیراعظم بنیں گے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ مسلم لیگ نون کی طرف سے وزیراعظم کے امیدوار نواز شریف ہونگے الیکشن جیتے تو وہ وزیر اعظم بنیں گے تاہم نواز شریف اپنی ٹرم مکمل نہیں کریں گے سال دو سال بعد وہ اپنے بھائی شہباز شریف کو وزیراعظم بنا دیں گے اور خود حکومت سے باہربیٹھ کر ان کی رہنمائی کریں گے۔ اپنے ایک کالم میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ کوئی مانے یا نہ مانے نواز شریف کے آنے کے بعد سیاسی منظر نامہ بدل چکا ہے، مستقبل کی سیاسی سکیم واضح ہوچکی ہے، صاف نظر آ رہا ہے کہ نوازشریف کو اقتدار دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان کے پاکستان میں اترتے ہی نگران حکومتوں کا سحر ٹوٹنا شروع ہوگیا ہے۔ نوکر شاہی یا اقتدار پسندوں کے دوسرے گروہ، سب نواز شریف کے گرد جمع ہونا شروع ہو جائیں گے، نئی سیاسی صف بندیاں ہونگی اور نئے تانے بانے بُنے جائیں گے۔ کہا گیا ہے کہ انتقام نہیں لیا جائے گا یہ خوش آئند اعلان ہے لیکن اس کی عملی شکل کیا ہوگی؟ کیا عمران خان اور اس کی پارٹی کو بھی کھلا میدان ملے گا یا پھر ان کو جیل میں ہی کوئی رعایت ملے گی؟ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بظاہر 9مئی کے ذمہ داروں اور کھلاڑی کے نمایاں ساتھیوں کے ساتھ کوئی ڈھیل ہوتی نظر نہیں آرہی شکنجہ اور کسا جا رہا ہے، نون لیگ کے لیڈر اور مقتدرہ کے لئے سب سے پہلا مسئلہ یہی ہے کہ کھلاڑی کے بارے میں کسی فیصلے تک پہنچیں، ظاہر ہے کہ یہ ایسا فیصلہ ہونا چاہئے جو عقلی طور پر سب کے لئے قابل قبول ہو ۔ نواز واپس آئے ہیں تو سب کچھ یک دم بھول تو نہیں سکتے ان کے خلاف پاشوں، ظہیر الاسلاموں اور رضوانوں نے جو جو گل کھلائے جو جو سازشیں کیں وہ سب انہیں یاد ہوں گی۔ فیض حمید، باجوہ اور راحیل شریف کے خفیہ اور کھلے وار اسے کچوکے تو لگاتے ہوں گے۔ کھلاڑی اور عسکری خان مل کر جو جو کرتے رہے وہ بھلانا مشکل ہو گا اسے وہ انصاف خان بھی نہیں بھول سکتے جنہوں نے پانامہ کے نام پر اقامہ کے ذریعے اسے سزا دی، نااہل قرار دیا، اسکے مینڈیٹ کے باوجود اسے گھر بھیج دیا اسے وہ گالیاں، بے عزتی اور نفرت بھی نہیں بھولی ہو گی جس کا سامنا اس کو لندن میں کرنا پڑتا رہا۔اگر تو نواز شریف عام لیڈر رہنا چاہتے ہیں تو ان سب زیادتیوں کو یاد رکھ کر اپنی پالیسیاں بنائیں اور ایک ایک سے بدلہ لیں تاکہ آئندہ کوئی منتخب وزیراعظموں کے ساتھ ایسا نہ کر سکے لیکن اگر وہ عظیم لیڈر بننا چاہتا ہے تو پھر نیلسن منڈیلا بننا ہوگا۔
بے نظیر بھٹو کی طرح اپنی جان کے دشمنوں کو بھی مفاہمت کی طرف لانا ہوگا، سب سے پہلے سیاست کے کرداروں میں مفاہمت ہونی چاہئے پھر ہی سیاست اور مقتدرہ کے معاملات طے ہوں گے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نواز شریف کے آنے کے بعد سے مقتدرہ اور اہل سیاست کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری لڑائی بھی پھر سے یاد آئے گی، نواز شریف کو یہ سوال ضرور پریشان کرتا ہوگا کہ اگر انہیں اقتدار مل بھی گیا تو کیا اس میں اختیار بھی ہوگا؟ کیا مقتدرہ کو نئے وزیر اعظم کی بجائے کہیں نئے کاکڑ کی تلاش تو نہیں۔ اگر مقتدرہ نے معیشت، زراعت اور خارجہ پالیسی خود چلانی ہے تو پھر وہ اقتدار لیکر کیا کریں گے ؟وہ تین بار پہلے وزیراعظم رہ چکے اس لئے ان کے لئے اختیار سے خالی وزیراعظم کا عہدہ بیکار ہوگا۔
دوسری طرف مقتدرہ زراعت، معیشت، معدنیات اور خارجہ امور کے بارے میں بہت سے معاملات پہلے سے طے کئے بیٹھی ہے، ایسے میں وزیراعظم کو اختیار کہاں ملے گا؟ یہی وجہ ہے کہ نئی بحث یہ اٹھائی گئی ہے کہ وہ پارٹی کو چلائیں، انتخابی مہم کو لیڈ کریں، پلان بنائیں مگر خود وزیر اعظم نہ بنیں بلکہ اپنے چھوٹے بھائی کو ہی دوبارہ وزیر اعظم بنا دیں کیونکہ وہ مقتدرہ کے ساتھ چلنے کا کامیاب تجربہ رکھتا ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میرا اندازہ یہ ہے کہ معاملہ خاندانی طور پر پہلے سے طے ہوچکا ہے، جس کے مطابق نون لیگ کے وزیراعظم کے امیدوار نواز شریف ہونگے الیکشن جیتے تو وہ وزیر اعظم بنیں گے تاہم وہ اپنی ٹرم مکمل نہیں کریں گے سال دو سال بعد وہ اپنے بھائی کو اپنی جگہ لے آئیں گے اور خود حکومت سے باہربیٹھ کر ان کی رہنمائی کریں گے۔ اگلی سیاست میں نواز شریف کی نمائندہ مریم ہونگی، مریم کی خواہش وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی ہے مگر اب تک جو معاملات نظر آ رہے ہیں اس میں انکی یہ خواہش الیکشن کے فوراً بعد پوری ہوتی نظر نہیں آتی، اس خاندان کو دوبارہ اقتدار ملے تو اوپر اور نیچے دونوں بڑی سیٹوں پر خود کو رکھنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔
بہتر ہوگا کہ مریم کو موقع ملے تو وہ بلاول کی طرح ابھی کسی وزارت یا مشاورت کے ذریعے گورننس کا مزید تجربہ حاصل کریں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی ایسا ہوجاتا ہے تو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کہاں اکاموڈیٹ ہونگے؟ لگتا ہے کہ نواز شریف کو اس بات کا احساس ہے کہ شہباز اور حمزہ کو جگہ دینی ہے اسی لئے مینار پاکستان کے سٹیج پر مریم کے بعد ان کی توجہ کا سب سے بڑا مرکز شہباز شریف اور حمزہ رہے ۔ بڑا لیڈر وہ ہوتا ہے جو صرف اپنے بارے میں نہ سوچے بلکہ اپنے مخالفوں کے بارے میں بھی سوچے، صرف اپنے حامیوں کو خوش کرنے کی پالیسی نہ بنائے بلکہ اپنے مخالفوں کو بھی خوش کرنے کے بارے میں سوچے اکثر لیڈر تنگ نظر ہوتے ہیں وہ مخالف کو مار کر سمجھتے ہیں کہ انہیں زندگی مل جائے گی جبکہ مخالف مرجائے تو مارنے والے کی زندگی کے دن بھی گنے جانے شروع ہو جاتے ہیں۔یاد رکھیں کہ جس دن میاں نواز شریف نے لاہور ہائیکورٹ کے بدنام زمانہ فیصلے کے ذریعے بے نظیر بھٹو کو نااہل قرار دلوایا تھا اسی روز یہ طے ہو گیا تھا کہ اب اگلی باری نواز شریف کی ہو گی اور ویسا ہی ہوا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق حالیہ تاریخ میں جب عمران خان اپنے حریف نواز شریف کو جیل میں ڈال کر فخر سے سینہ پُھلائے پھرتے تھے اسی وقت سے نظر آنا شروع ہو گیا تھا کہ نواز شریف رہا ہونگے اور جب عمران خان اقتدار سے اتریں گے تو وہ بھی جیل یاترا کرینگے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ اہل سیاست کو یہ سادہ سی بات کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ دوسروں کے لئے گڑھا کھودنے والا خود اسی میں گرتا ہے ۔اب وقت ہے کہ نواز شریف بڑے لیڈر بنیں دوسرے کے کھودے گڑھے مٹی سے بھریں اور ایک نئی سیاست کا آغاز کریں۔ وہ اس وقت اس خطے کے سب سے تجربہ کار سیاست دان ہیں مودی ہو، طالبان ہو، حسینہ واجد ہو یا ایرانی قیادت سب ان سے تجربے میں جونیئر ہیں وہ آج سے 33سال پہلے بھی وزیر اعظم تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اب صرف وزیر اعظم نہ بنیں بلکہ تاریخ بنائیں ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ اگر نواز شریف کو اقتدار ملتا ہے تو وہ کھلاڑی کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں ، اگر تو انہوں نے کھلاڑی کو اس کے حال پر چھوڑ دیا، وہ جیل میں سڑتا رہا، اسے الیکشن میں برابر کے مواقع نہ دیئے تو پھر نواز شریف میں اور کھلاڑی میں کیا فرق رہ جائے گا۔
انہیں بڑا بننا ہے تو کھلاڑی اور اس کے مینڈیٹ کو بھی عزت دیں، اس کا ہاتھ پکڑ کر گڑھے سے نکالیں اور اپنے سامنے والی نشست پر بٹھائیں، جس دن تضادستان میں ہم نے سیاسی مخالفوں کو عزت دینا شروع کر دی اس دن سے ہی پاکستان کا ایک نیا جنم ہوگا۔اسی دن سے ہی آئین، جمہوریت اور پارلیمانی روایات کا بول بالا ہوگا، نواز شریف کے آنے کے بعد بہت کچھ کا انحصار ان کے رویے پر ہوگا اگر وہ نہلے پر دہلے مارتے رھے تو پھر کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ ہاں اگر نواز شریف نے تاریخ میں اپنا نام بنانا ہے تو انہیں کھلاڑی کو بھی کھلانا ہوگا ۔
