نواز شریف کی واپسی سے آئین و قانون کی کیا خلاف ورزی ہوئی ؟

’’سیاہ کاریوں‘‘ کے طمانچے کھانے اور چار برس دیار غیر میں گزار کر وطن واپس آنے والے نواز شریف نے، قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ میں پاکستان واپس آ کر آپ کے سامنے پیش ہونا چاہتا ہوں۔ عدالت نے حفاظتی ضمانت کی عرضی منظور کرلی۔ وہ جیل کی دیواریں پھلانگ کر نہیں، ڈاکٹروں کی رپورٹس کے بعد حکومت اور عدالت کی اجازت سے گیا تھا۔ واپس آتے ہی خود کو قانون کے حوالے کردیا لیکن کچھ دل ۔۔۔ بغض وکدورت کی ’’کچرا کنڈیاں‘‘ بن چکے ہیں۔ خودساختہ دانشوروں کی بیمار دانش، انگاروں پہ لوٹنے لگی ہے۔ کل تک ایک ’’سیاہ کار‘‘ فیصلے پر سردھننے والے آج آئین کی دہائی دینے لگے ہیں۔ یہ نہیں بتا پارہے کہ عدالت نے آئین اور قانون کی کس شِق کو نظرانداز کیا ہے؟ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ نون کے سینیٹر اور سینئر سیاسی تجزیہ کار عرفان صدیقی نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ عزت وعظمت اور ذلّت و رسوائی کے فیصلے قادر مطلق کے دست قدرت میں ہیں۔ کامرانی کے احساس سے سرشار کسی سہولت شعار جرنیل کا ٹویٹ اُسکے باطن کی ترجمانی تو کرسکتا ہے، ہمیشہ کیلئے لوحِ محفوظ پہ لکھے اٹل فیصلے نہیں مٹا سکتا۔ یہ فیصلے، کئی سالہ محنت بچانے پر کمربستہ کسی جرنیل کے دائرۂِ اختیار واقتدار سے بھی ماوریٰ ہوتے ہیں۔ بندوق یا ترازو کا ملاپ کچھ عرصے کیلئے اپنی مرضی کے موسم تخلیق کرسکتا ہے، ازلی وابدی اصولوں کو نہیں بدل سکتا۔ 10ستمبر2007ء کو کم وبیش سات برس کی جلاوطنی کاٹ کر وطن واپس آنے والے نوازشریف ائیر پورٹ سے ہی دوسرے طیّارے میں بٹھا کر جدہ بھیج دیاگیا۔ یہ ’’سیاہ کاری‘‘ اب پس منظر میں جاچکی ہے۔ 13 جولائی 2018:ء کو نوازشریف اور مریم کو احتساب عدالت نے لمبی قید کی سزائیں سنادیں۔ دونوں جاں بہ لب بیگم کلثوم نواز کو بستر مرگ پر چھوڑ کر سزا بھگتنے لندن سے نکلے۔ لاہور ائیر پورٹ پر باپ اور بیٹی کو دھکیلتے ہوئے ایک اور چھوٹے سے طیارے میں ڈال کر پہلے اسلام آباد اور پھر اڈیالہ جیل پہنچا دیاگیا۔ یہ ’’سیاہ کاری‘‘ بھی قِصّہ پارینہ ہوچکی ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ نوازشریف سب سے زیادہ ریاستی اور عدالتی سیاہ کاریوں کا نشانہ بننے والا زندہ سیاستدان ہے۔ ہماری تاریخ کے کسی دوسرے وزیراعظم پر وہ نہیں گزری جو 12اکتوبر1999ءکو نوازشریف پر بیتی۔ اُسے وزیراعظم ہائوس سے اٹھا کر کالے شیشوں والی گاڑی میں ڈالا گیا اور چکلالہ چھائونی کے کسی نامعلوم مقام پر پہنچا دیاگیا۔ تنگ وتاریک بیرک کے چھوٹے سے کمرے میں چار جرنیلوں نے اس کے سامنے ایک کاغذ رکھا ’’میں بطورِ وزیراعظم، قومی اسمبلی تحلیل کرتا ہوں۔‘‘اُس نے انکار کردیا۔ کرخت دھمکیوں کا سلسلہ دراز ہوا تو اُس نے کہا __ ’’مجھے چاہے گولی مار دو۔ میں دستخط نہیں کروں گا۔‘‘ لمحہ بھر بعد وہ بولا __ ’’اسکے لئے تمہیں میری لاش پر سے گزرنا ہوگا ‘‘ (OVER MY DEAD BODY)۔ اُسے گورنر ہائوس مری کے ایسے کمرے میں ڈال دیاگیا جہاں دن اور رات کی تمیز بھی مشکل تھی۔ ہفتوں کسی کو خبر نہ ہوئی کہ وہ کہاں ہے؟۔ اٹک قلعے سے لانڈھی جیل لے جاتے ہوئے ہتھکڑیاں ڈال کر اُسے سیٹ سے باندھ دینے والی مکروہ ’’سیاہ کاری‘‘ بھی بھولی بسری کہانی ہے۔ اٹک قلعہ، اڈیالہ، کوٹ لکھ پت، لانڈھی، گم نام بیرکس، بے نام بندی خانے، سب ماضی کے سیاہ کار قصّے بن چکے۔چھ برس کے دوران، جرنیلوں اور ججوں کے گٹھ جوڑ سے سیاہ کاریوں کی جو متعّفن داستان لکھی گئی، اُس کی نظیر خود ہماری سیاہ رُو تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ صرف پانامہ کو دیکھ لیں۔ پی۔ٹی۔آئی کو، کھوسہ کی طرف سے پانامہ کیس عدالت میں لانے کی سیاہ کار پیشکش، سیاہ کار وٹس ایپ کالز ، سیاہ کار جے۔آئی۔ٹی، سیاہ کار ہیرے، سیاہ کار مانیٹرنگ بینچ، ’’سسلین مافیا‘‘ اور ’’گاڈفادر‘‘جیسے سیاہ کار ریمارکس، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزارت ِعظمیٰ سے سبکدوشی اور عمر بھر کی نااہلی کا سیاہ کار فیصلہ، سیاہ کار ریفرنسز اور سیاہ کارسزائوں کی ایک لمبی قطارہے۔
آخر میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ 21 اکتوبر کو جب فلائی دبئی کی چارٹرڈ پرواز نے اسلام آباد کے ہوائی اڈے کو چھوا تو نوازشریف نے بے ساختہ کہا ’’الحمدللہ۔‘‘ اسکی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ اُس نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور پھر دیر تک دعا گو ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپے رکھا۔ طیارے میں بیٹھے بیسیوں مسلم لیگی کارکن نعرہ زن تھے ’’وزیراعظم نوازشریف۔‘‘
