نئے آرمی چیف کا فیصلہ جنرل قمر باجوہ نے ہی کرنا ہے

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اگلے آرمی چیف کا فیصلہ نہ تو آصف زرداری نے کرنا ہے اور نہ ہی شہباز شریف نے، یہ فیصلہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کرنا ہے۔
یاد رہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر 2022 میں اپنے عہدے کی دوسری معیاد پوری کر کے ریٹائر ہونے والے ہیں لیکن اس دوران ایک مرتبہ پھر ان کو ایک سال کی توسیع دینے کی افواہیں بھی گرم ہے۔ تاہم اگر وہ توسیع نہ لیں اور موجودہ حکومت سنیارٹی کی بنیاد پر اگلا چیف تعینات کرنے کا فیصلہ کرے تو کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر نئے آرمی چیف بن سکتے ہیں۔ ایک اور سینئیر جنرل، کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد بھی اس عہدے پر تعینات ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ مزید توسیع نہ لینے کا فیصلہ کریں۔ فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار چند ہفتے پہلے ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح الفاظ میں بتا چکے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ نومبر 2022 میں ریٹائرد ہو جائیں گے۔ تاہم جنرل باجوہ کی جانب سے اس حوالے سے مکمل خاموشی ہے۔

ماہرہ خان نے سوشل میڈیا فین کو کھری کھری کیوں سنائیں؟

اس معاملے پر نیا دور کے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ نومبر میں ہونے والی آرمی چیف کی تبدیلی اب اتنی اہم نہیں رہی۔ اس لئے یہ سمجھنا غلط یے کہ وہاں ایسے کچھ فیصلے ہونے والے ہیں، جن سے حالات تبدیل ہو جائیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ کچھ اہم فیصلے کر لئے گئے ہیں۔ اگر موجودہ شہباز شریف حکومت قائم رہی تو اسٹیبشلمنٹ کی قیادت جسے بھی اگلا آرمی چیف بنانا چاہے گی وہی بنے گا اور اس معاملے پر بات اسٹیبلشمنٹ کی ہی مانی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم فیصلہ A اور S نہیں بلکہ B کرے گا۔ یعنی ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آرمی چیف کا فیصلہ آصف زرداری اور شہباز شریف نہیں بلکہ جنرل باجوہ کریں گے۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ مجھے یاد ہے جب نواز شریف کے دور میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہونی تھی، میں تب جیو ٹی وی سے وابستہ تھا۔ منیب فاروق نے پروگرام میں مجھ سے پوچھا کہ ہمیں بتا تو دیں کہ پاک فوج کا اگلا سپہ سالار کون بننے جا رہا ہے؟ لیکن تب بہت سختی سے ہر چیز پر کنٹرول تھا۔ کسی کو نئے چیف بارے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیونکہ نواز شریف نے یہ فیصلہ اپنے دل کے اندر چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ کو بھی کوئی علم نہیں تھا۔ میری چڑیا بھی ادھر سے ادھر آتی اوت جاتی تھی لیکن کوئی خبر نہیں لا پا رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے خود ہی خبر لینے کیلئے جانے کا فیصلہ کیا۔ تب مجھے جو بات پتہ چلی اس کا میں نے اپنے پروگرام میں اشارہ کیا کہ ‘’A’’ is for Apple and ‘’B’’ is for Apple of Nawaz Sharif’s Eye۔ اس وقت لوگوں نے شور مچایا لیکن سمجھنے والوں نے میری بات سمجھ لی تھی۔

نجم سیٹھی نے بتایا کہ میرا شو ختم ہوا تو مجھے فون آیا کہ آپ نے غلط کہا ہے B نہیں بلکہ A ہی آرمی چیف بنے گا۔ مجھے کہا گیا کہ آپ کل کے پروگرام میں اپنا موقف تبدیل کر لیں کیونکہ اگر آرمی چیف A بن گیا تو آپ کو نہیں چھوڑے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور پھر بالاخر B ہی آرمی چیف بن گیا۔ اب میں ایک اور بات بتانے لگا ہوں اور وہ یہ یے کہ اب نہ تو A اور نہ ہی S فیصلہ کرے گا. بلکہ نئے آرمی چیف کا فیصلہ B ہی کرے گا۔

دوسری جانب فوجی ترجمان کی جانب سے اس واضح اعلان کے بعد کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ عہدے میں توسیع نہیں لیں گے اور نومبر میں ریٹائر ہو جائیں گے، اسلام آباد میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ شاید جنرل باجوہ کو ایک توسی اور مل جائے۔
یاد رہے کہ نئے فوجی سربراہ کے بارے میں قیاس آرائیاں جنرل فیض حمید کے تبادلے اور نئے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ندیم احمد انجم کی تعیناتی کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اب فیض حمید کے نیا آرمی چیف بننے کا امکان مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے کیونکہ مرکز میں شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں۔ یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو نومبر 2019 میں تین سال کی توسیع دی گئی تھی جس کے بعد اب آئندہ برس 29 نومبر 2022 کو ان کے عہدے کی مدت مکمل ہو جائے گی۔ جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی اس وقت وجہ ’علاقائی سکیورٹی حالات‘ بتائے گئے تھے۔ تب بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا اور امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اہم علاقائی تبدیلیاں تھیں جن کو وجہ بنا کر یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔

اسوقت نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سینیارٹی لسٹ میں مختلف نام ہیں۔ نئے آرمی چیف کے لیے نام بھجوانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ موجودہ آرمی چیف سینیارٹی فہرست میں سے پہلے تین یا پہلے پانچ نام جرنیلوں کی اہلیت کی جانچ کے بعد وزارت دفاع کے ذریعے وزیراعظم کو بھجواتے ہیں۔ ہر نام کے ساتھ ان کی اہلیت کی تفصیل لکھی ہوتی ہے جس کے بعد وزیراعظم ان تین یا پانچ ناموں سے ایک نام چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جبکہ ایک نام آرمی چیف کے عہدے کے لیے منتخب کر لیتے ہیں۔ اگر سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کسی کی سفارش کرنا چاہیں تو اس کا اضافی نوٹ بھی شامل ہو سکتا ہے لیکن حتمی اختیار اور منظوری وزیراعظم کی ہو گی۔ تاہم ماضی میں دو سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کی تعیناتی کے مواقع پر تب کے وزرائے اعظم نے اپنی مرضی سے نئے آرمی چیف کا انتخاب کیا اور جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ کو مد نظر نہیں رکھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر کسی تنازع سے بچنے کے لیے شہباز شریف حکومت شاید سینئیر موسٹ جرنیل کو ہی نیا آرمی چیف مقرر کر دے۔

Back to top button