آئی ایم ایف پٹرول اور بجلی مہنگی کرنے پر مجبور کیوں کر رہا ہے؟


تین ہفتوں کے اندر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 84 روپے فی لیٹر اضافے کا تاریخی جھٹکا کھانے والے پاکستانی عوام کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر آئی ایم ایف قرض دینے کے بدلے حکومت کو تیل کی قیمتیں بڑھانے، بجلی اور گیس پر ملنے والی سبسڈی واپس لینے اور پرسنل انکم ٹیکس بڑھانے جیسے مطالبات ماننے پر کیوں مجبور کررہا ہے؟

شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے تین ہفتوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیسرا بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت 234 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل ڈیزل 265 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل کا یہ کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کرنا حکومت کی مجبوری ہے اور اسکی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کیا گیا وہ بدترین معاہدہ ہے جو پی ٹی آئی کی حکومت نے کیا۔

آئی ایم ایف تیل اور بجلی کے شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی کو اہنے ساتھ کیے گے معاہدے سے انحراف قرار دیتا یے۔ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں اور حزبِ اختلاف کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ 30 فی صد اضافے پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اسی طرح دونوں جانب سے بجلی کے شعبے میں بدانتظامی، غلط معاہدوں سے گردشی قرضہ بڑھنے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی فنڈ سے قرض کے حصول کے لیے یہ شرائط ماننا ضروری ہیں۔

دوسری جانب اس حوالے سے ماہرینِ معاشیات الگ رائے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی ملک آئی ایم ایف سے قرض لیتا ہے تو آئی ایم ایف کسی قسم کی شرط عائد نہیں کرتا، سوائے اس کے کہ اُسے قرض سود کے ساتھ واپس مل جائے گا۔ ان کے مطابق اس کے لیے آئی ایم ایف کا اصرار یہی ہوتا ہے کہ آپ اپنے دو قسم کے خساروں پر قابو پالیں تو ہمارا قرض لوٹانے میں آسانی ہوگی۔ ان میں سے ایک بجٹ خسارہ اور دوسرا جاری کھاتوں کا خسارہ شامل ہے۔ ظاہر ہے کہ اسی خسارے کی وجہ سے تو کوئی ملک آئی ایم ایف کے پاس قرض لینے جاتا ہے اور یہی پاکستان کے معاملے میں بھی ہوا ہے۔ ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ جب حکومت ان خساروں پر قابو پانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی تو وہ آئی ایم ایف کو کہتی ہے کہ فی الحال ادھار واپس نہیں ہوسکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پیسے ری کور نہیں ہو پا رہے، ہم خسارے میں ہیں۔ ایسی صورت میں آئی ایم ایف معلوم کرتا ہے کہ حکومت کے محاصل اور اخراجات کیا ہیں۔ پھر حکومت آئی ایم ایف کو بتاتی ہے کہ وہ کس کس شعبے میں کس قدر اخراجات کر رہی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کو بتاتی ہے کہ بجلی پر کتنی سبسڈی دی جارہی ہے۔ ٹیکس کلیکشن کتنی ہو رہی ہے۔ ٹیکس کون کون سے شعبوں سے وصول کیے جا رہے ہیں اور کون کون سے طبقات سے وصول نہیں کیے جارہے، وغیرہ وغیرہ۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے اگر اشیا عالمی منڈی سے زیادہ قیمت میں خرید کر مفت یا کم قیمت پر دی جا رہی ہوں، ریونیو کے اہداف حاصل نہ ہو رہے ہیں یا اخراجات حد سے زیادہ ہونا شروع ہو جائیں تو یہ سب حکومت ہی کی نااہلی ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں آئی ایم ایف قرض دینے سے قبل پیشگی اقدامات سے آگاہ کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ خسارے کو کم کرنے کے لیے کس کس چیز کو مہنگا کرنا ہے۔ ٹیکس ریونیو کیسے جمع کرنا ہے، کہاں پر ٹیکس چھوٹ دینی ہے اور کہاں نہیں۔ اس چیز کو جب عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے تو حکومت بتاتی ہے کہ یہ آئی ایم ایف نے کہا ہے لیکن درحقیقت یہ آئی ایم ایف نے نہیں کہا ہوتا بلکہ یہ حکومت کی اپنی معاشی کمزوری، بدانتظامی اور کم وسائل کے باوجود شاہانہ اخراجات کا شاخسانہ ہوتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف سمیت کسی کو بھی اس سے کیا سروکار ہو سکتا ہے کہ ملک میں بجلی سستی ہے یا مہنگی۔ یا انہیں اس سے کیا ملے گا کہ ملک میں کوئی ٹیکس دے رہا ہے یا نہیں۔ اس کی صرف اور صرف ایک ہی تشویش ہوتی ہے کہ فنڈ کی جانب سے دیا گیا قرض بشمول سود کیسے واپس ملے گا۔ آئی ایم ایف کے پاس دنیا بھر کے اُن ممالک کے پیسے ہوتے ہیں جو اس ادارے کو فنڈنگ کرتے ہیں اور آئی ایم ایف سے یہ ممالک حساب لیتے ہیں کہ ان کا پیسہ کب اور کیسے واپس ہورہا ہے؟ اسی حساب سے وہ حکومتوں کو راستے بتاتا ہے جس پر عمل کرکے ہی قرض کا حصول ممکن ہو پاتا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ قرض اسی صورت میں ملے گا جب آپ اپنے خساروں پر قابو پانے کے لیے ہماری تجاویز پر عمل کریں گے۔ ان تجاویز کا تعلق سبسڈی کا خاتمہ کرکے بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات وغیرہ کی قیمتوں میں تبدیلیوں سے ہوتا ہے کیوں کہ ائی ایم ایف کے خیال میں خساروں کی وجہ سے سبسڈی دینے کی گنجائش ختم یا کم ہوجاتی ہے۔ اسی لیے آئی ایم ایف تجویز کرتا ہے کہ یہ سبسڈی ختم کی جائے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے سے پیدا ہونے والے اثرات سے وہ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اس اضافے کے علاوہ آئی ایم ایف سے پی ٹی آئی حکومت میں کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد کے کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے عالمی مالیاتی فنڈ سے یہ بدترین معاہدہ کیا اور برے معاشی فیصلے کیے، وہ کیسے معصومیت کا بہانہ کرسکتے ہیںنانہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملک اس بحران سے جلد نکل جائے گا۔

کئی معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزامات کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ ان کے خیال میں معیشت کو جاری کھاتوں کے خسارے سے بچانے کے لیے غیر ضروری اور پر تعیش اشیا کی درآمدات پر مکمل اور کئی سال تک پابندی عائد کرنی ہوگی۔ماہرین کے مطابق اشرافیہ کو زیادہ ٹیکس دینے پر قائل کرنا ہوگا۔ٹیکس چوری جو وزیرِ خزانہ کے مطابق تین ہزار ارب روپے تک ہے، کو روکنا ہوگا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ زرعی شعبے میں بڑے جاگیرداروں سے ٹیکس کا حصول بڑھانا ہوگا۔ بعض کے خیال میں دفاعی شعبے میں بھی غیر جنگی اخراجات میں فوری کٹوتی کرنی ہوگی تاکہ حکومت کے معاشی خساروں کو پورا کرنے کے لیے بوجھ عام آدمی کی جیب پر کم سے کم پڑے۔

Back to top button