عمران فوج کے سامنے کھڑا ہو چکا لیکن فوج خاموش ہے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ ماضی میں سیاسی قیادت، سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ میں موجود لوگ فوج پر تھوڑی سی بھی تنقید کرتے تھے یا اختلاف رائے کرتے تھے تو اُنہیں نشانِ عبرت بنایا جاتا تھا۔ لیکن موجود حالات میں ایک تاثر قائم ہو رہا ہے کہ عمران خان کھل کر فوج کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں اور فوج بیچاری وضاحتیں دے رہی ہے جس سے عمران کو سیاسی فائدہ ہو رہا ہے۔ اپنی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رُکن قومی اسمبلی علی وزیر کی مثال دیتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ سب کے سامنے ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا۔ حامد میر نے یہ باتیں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیں۔
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کی بربریت جاری، مزید 2نوجوان شہید
یاد رہے عمران خان اقتدار سے برطرفی کے بعد سے مسلسل اپنے خلاف امریکی سازش کا الزام دہرا رہے ہیں اور اب تو آخری حدیں پھلانگتے ہوئے فوجی ترجمان کو بھی دو بدو جواب دے رہے ہیں۔ عمران حکومت کے خاتمے کے لیے مبینہ بیرونی سازش کے معاملے پر تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور افواجِ پاکستان کے ترجمان میجر جنرل بابر افتحار کے مابین ہونے والی لفظی نوک جھونک کے باعث یہ معاملہ پھر شہ سرخیوں میں ہے۔ فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتحار نے چند روز پہلے کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مسلح افواج کے سروسز چیف کے علاوہ انٹیلی جنس سربراہان بھی موجود تھے اور ان سب کا اتفاق تھا کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی۔ اس پر اور تمام دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ فوجی ترجمان سیاسی معاملات پر بیان بازی سے گریز کریں، ویسے بھی یہ فیصلہ انہوں نے نہیں کرنا کہ کوئی سازش ہوئی تھی یا نہیں، انکا کہنا تھا کہ اس بات کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کر سکتی ہے۔
دوسری جانب افواجِ پاکستان کے ترجمان نے عمران خان کے حلیف اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے اس بیان کی بھی تردید کی کہ آرمی چیف یا سروسز چیف نے امریکی سازش سے انکار نہیں کیا۔ بابر افتحار کا کہنا تھا کہ وہ فوج کی ترجمانی کرتے ہیں اور جب وہ بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ادارے کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ لیکن مبصرین سمجھتے ہیں کہ اداروں پر تنقید کوئی نئی بات نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اِس میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ بہتر ہو گا کہ اِن کے معاملات کو خوش اسلوبی سے سلجھایا جائے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر سمجھتے ہیں کہ شیخ رشید احمد نے بیرونی سازش سے متعلق بیان میں فوج کی ترجمانی کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ آرمی چیف سمیت سروسز چیف نے مبینہ سازش کی نفی نہیں کی۔ اسی لیے ترجمان پاک فوج کو شیخ رشید کے اس بیان کی تردید کرنا پڑی۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے آخری اجلاس میں امریکہ میں تعینات رہنے والے پاکستان کے سفیر اسد مجید کو بھی بلایا گیاتھا تاکہ معاملے کی گہرائی تک جایا جا سکے۔ اس اجلاس میں اُنہوں نے واضح کیا تھا کہ حکومتِ پاکستان کو بھجوائے گئے مراسلے میں سازش کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ مراسلہ اسد مجید خان نے خود تحریر کیا تھا اور اس میں ایک سینئر امریکی افسر کے ساتھ ملاقات کا احوال بیان کیا گیا تھا۔
دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کہتے ہیں کہ جس طرح ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور فوج کے درمیان اعتماد کا فقدان تھا، اسی طرح اب تحریکِ انصاف اور فوج میں بداعتمادی ہے۔ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ڈی جی آئی ایس پی آر اسی طرح وضاحتیں دیتے رہیں گے تو فریقین کے درمیان خلیج مزید بڑھے گی۔ اُن کے بقول ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کی صورت میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔ اس سے تحریکِ انصاف اور فوج کے درمیان بداعتمادی کم ہو گی۔
دوسری جانب حامد میر سمجھتے ہیں کہ عمران خان چونکہ ایک مقبول سیاسی لیڈر ہیں۔ وہ ریاستی اداروں پر اپنی تنقید سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان نے پہلے امریکہ مخالف بیانیہ بنایا اور اِس کے بعد اُنہوں نے فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام کا عمران کا مطالبہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران ایک من گھڑت بیانیے کے ذریعے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس معاملے پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ پاکستان میں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی سب سے بڑا سول اور عسکری فورم ہے۔اُن کے بقول اس فورم نے دو مرتبہ عمران کی حکومت کے خلاف کسی بھی غیر ملکی سازش کی نفی کی ہے جب کہ افواجِ پاکستان کے ترجمان بھی دو مرتبہ بیرونی سازش کو رد کر چکے ہیں۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے عمران کے اصرار پر جوڈیشل کمیشن بنا بھی دیا تو بھی وہ اپنی مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
جنرل (ر) غلام مصطفٰی کہتے ہیں کہ کمیشن بنانے کا مطالبہ عمران خان کا ہے۔ اگر کمیشن غیر جانب دار بنے گا تو وہ ضرور اُس کے فیصلے کو تسلیم کر لیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہا اگر کمیشن بن گیا اور عمران خان نے اُس میں پیش ہو کر اپنا مؤقف دیا تو کمیشن کے فیصلے کا ماننے یا نہ ماننے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
لیکن حامد میر اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر عمران خان کی درخواست پر جوڈیشل کمیشن بن بھی جائے تو اُس کا جو بھی فیصلہ آئے گا عمران خان اُسے بھی تسلیم نہیں کریں گے اور یہی کہیں گے کہ شفاف تحقیقات نہیں ہوئیں۔ اُن کے بقول اگر حکومت عمران خان کے کہنے پر فوری الیکشن کرا بھی دے اور وہ الیکشن نہ جیت سکے تو بھی وہ دھاندلی کا الزام عائد کریں گے۔
