نئے آرمی چیف کے امیدوار5 سینئر ترین جرنیل کون ہیں؟


عمران خان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنانے کی کوششوں کے بعد وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کر دیا ہے کہ نومبر2022 میں جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے پہلے نیا آرمی چیف ماضی کی طرح پانچ سینئر ترین جرنیلوں میں سے ہی چنا جائے گا۔ خواجہ آصف کے بیان سے یہ بھی طے ہوگیا ہے کہ جنرل قمر باجوہ پھر سے توسیع لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ چند ماہ پہلے فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار بھی واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ 28 نومبر 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ وزیر دفاع نے واضح کیا ہے کہ نیا آرمی چیف سینئر موسٹ 5 جرنیلوں میں سے بنایا جائے گا، اور انشاءاللہ اس اصول سے روگردانی نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ ادارے کی مشاورت سے کرتے ہیں اور ان شاء اللہ بہترین فیصلہ کیا جائے گا۔

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کا فیصل آباد جلسے میں بیان انکے چیف آف سٹاف شہباز گل کے بیان کی دوسری قسط ہے جس نے پاک فوج کے رینک اینڈ فائل میں نفاق پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب اس سازش کی دوسری قسط خان نے خود لانچ کرتے ہوئے فوج کے سینئر ترین تھری اسٹار جرنیلوں میں نفاق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف نے بھی ہمیشہ ٹاپ 5 جرنیلوں میں سے ہی ایک کو آرمی چیف بنایا، صرف بھٹو دور میں ضیاء الحق کو گیارہویں بارہویں نمبر سے منتخب کیا گیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف ہو یا بھٹو، جنرل ضیاء سے لے کر جنرل مشرف تک کسی بھی وزیر اعظم نے کبھی نئے چیف کا انتخاب سنیارٹی کے اصول پر نہیں کیا تھا۔ یہ فیصلے سیاسی بنیادوں پر ہوئے اور اسی وجہ سے ضیاء اور مشرف دونوں نے حکومتیں پلٹ کر مارشل لا نافذ کر دیا۔ شاید اسی لیے اب یہ سوچ تقویت پکڑ رہی ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرح آرمی چیف کا انتخاب بھی سنیارٹی اصول کے تحت کیا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اب نئے آرمی چیف کا انتخاب قریب آنے پر عمران خان نے نیا پنگا ڈالتے ہوئے یہ بیان داغا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری اپنی پسند کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں چونکہ کوئی محب وطن فوجی سربراہ آگیا تو وہ ان کی چوریوں کا حساب لے گا۔ ایسے میں یہ بات طے ہے کہ جو بھی نیا آرمی چیف آئے گا عمران خان نے اسے ابھی سے متنازعہ بنا دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان پچھلے کئی برسوں سے اپنے عزیز ترین اور متنازعہ ترین جرنیل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف بنانے کی تیاریاں کر رہے تھے تاکہ وہ 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن کی طرح انہیں 2023 کا الیکشن بھی جتوا کر پانچ سال مزید حکومت کرنے کا موقع فراہم کر دیں۔ لیکن خواجہ آصف کے بیان کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جنرل فیض حمید اب آرمی چیف کی دوڑ میں نہیں رہے چونکہ ان کا نام 5 پانچ سینئر ترین جرنیلوں میں نہیں آتا جن میں سے کسی ایک کو فوجی سربراہ بنایا جائے گا۔

موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ 28 نومبر کو ہونا ہے لیکن نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان ان اگلے چند ہفتوں میں متوقع ہے۔ لیکن آرمی چیف ہی وہ واحد فور سٹار عہدہ نہیں جو نومبر میں خالی ہوگا بلکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا بھی ریٹائر ہوجائیں گے، دو فور سٹار جرنیلوں کے بیک وقت تقرر کی گنجائش پیدا ہونے سے حکومت کو فیصلے میں تھوڑی آسانی میسر آئے گی تاکہ وہ اعلیٰ فوجی افسران میں بے چینی پیدا کیے بغیر ہی کمانڈر کا انتخاب کر لے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت چھ سینئر لیفٹیننٹ جنرلز میں سے چار جرنیل ایک ہی بیچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لاٹ کی سنیارٹی کا تعین تکنیکی بنیادوں پر کیا جاتا ہے یعنی پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ان کے تربیتی دنوں سے انہیں تفویض کردہ پی اے نمبر کے ذریعے اس کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دو جرنیلوں کی نسبت باقی تقریباً پوری لاٹ نسبتاً جونیئر افسران پر مشتمل ہے۔

یاد رہے کہ جب اگلے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے تقرر کا فیصلہ کیا جائے گا تو لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر موجودہ لاٹ میں سب سے سینئر ہوں گے، گو کہ انہیں ستمبر 2018 میں بطور دو سٹار جنرل ترقی دی گئی تھی لیکن انہوں نے دو ماہ بعد عہدے کا چارج سنبھالا جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ جنرل کے طور پر ان کا چار سالہ دور 27 نومبر کو تب ختم ہوگا جب موجودہ چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اپنی فوجی وردی اتار رہے ہوں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بہترین افسر ہیں اور اس عہدے کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہیں لیکن انہیں عمران خان کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔ عاصم منیر کو 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر 2017 میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا، تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر مدت کے لیے رہا کیونکہ عمران خان کے اصرار پر آٹھ ماہ کے اندر ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا آئی ایس آئی چیف بنا دیا گیا تھا، کہا جاتا ہے کہ عاصم منیر کو ہٹانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عمران خود کو 2018 کا الیکشن جتوانے والے فیض حمید کو اس عہدے پر لگانا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عاصم منیر نے عمران خان کو بشری ٰبی بی کے خاندان کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے آگاہ کیا تھا جس پر وہ ناراض ہوگئے تھے۔ بعد ازاں انہیں کور کمانڈر گوجرانوالہ مقرر کردیا گیا تھا۔ اس وقت عاصم منیر جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور تعینات ہیں۔

عاصم منیر کے علاوہ جس جرنیل کے آرمی چیف بننے کا امکان موجود ہے وہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا ہیں۔ وہ ایک ہی بیچ سے تعلق رکھنے والے آرمی چیف کے چار امیدواروں میں سب سے سینئر ہیں۔ ان کا تعلق سندھ رجمنٹ سے ہے جو کہ موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کا پیرنٹ یونٹ ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا فوج میں بہت متاثر کن کیریئر رہا ہے اور گزشتہ 7 برسوں کے دوران انہوں نے اہم لیڈرشپ عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔ ان کو جنرل راحیل شریف کے دور کے آخری دو برسوں میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی حیثیت سے توجہ ملنا شروع ہوئی۔ اس حیثیت میں وہ جی ایچ کیو میں جنرل راحیل شریف کی اس کور ٹیم کا حصہ تھے جس نے شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان کے خلاف آپریشن کی نگرانی کی۔ لیفٹیننٹ جنرل بننے کے بعد انہیں چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کیا گیا۔

اکتوبر 2021 میں انہیں کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کیا گیا۔ یون ساحر شمشاد بھی چیف آف آرمی اسٹاف یا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے تگڑے امیدوار ہیں۔ تاہم انہیں جنرل فیض حمید کے کافی قریب تصور کیا جاتا ہے کیونکہ دونوں کا تعلق چکوال سے ہے اور دونوں بہترین دوست ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس آرمی چیف کے امیدواروں کی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس وقت وہ چیف آف جنرل اسٹاف ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جی ایچ کیو میں آپریشنز اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹس کی نگرانی کرتے ہوئے عملی طور پر فوج کو چلاتے ہیں۔ اس سے قبل وہ 10 کور کی کمانڈ کر چکے ہیں۔ آرمی چیف کے عہدے کے ایک اور امیدوار بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر ہیں۔ وہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے چیف انسٹرکٹر کے طور پر بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

آرمی چیف کے چوتھے امیدوار لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کا تعلق آرٹلری رجمنٹ سے ہے اور اس وقت وہ گوجرانوالہ کور کی کمان کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایجوٹینٹ جنرل تھے۔ بطور میجر جنرل انہوں نے 2017 اور 2018 میں 10 انفنٹری ڈویژن کی کمان کی ہے جو کہ لاہور میں تعینات ہے۔ وہ چیف آف آرمی اسٹاف سیکریٹریٹ میں ڈی جی اسٹاف ڈیوٹیز بھی رہ چکے ہیں جس کے باعث وہ کمانڈ عہدوں اور جی ایچ کیو کا خاطر خواہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل وہ 2011 سے 2013 تک سابق صدر آصف زرداری کے ملٹری سیکریٹری بھی رہے ہیں۔ اپنے کیریئر کے دوران وہ آج کے فیصلہ سازوں کے بہت قریب رہے ہیں۔

آرمی چیف کے پانچویں امیدوار لیفٹیننٹ جنرل محمد چراغ حیدر ہیں جو کہ کور کمانڈر ملتان ہیں۔ انکا تعلق فرنٹیئر رجمنٹ سے ہے اور وہ 12 ستمبر 2023 کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ آرمی چیف کے چھٹے امیدوار لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ہیں جو کہ اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں۔ انکا تعلق پنجاب رجمنٹ سے ہے اور وہ 12 ستمبر 2023 کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان سینئر ترین جرنیلوں میں سے آرمی چیف کا عہدہ کسے ملتا ہے؟

Back to top button