نئے وزیراعلی آفریدی کا فوج کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان

عمران خان کی جانب سے علی امین گنڈا پور کو وزارت اعلی سے ہٹائے جانے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا تحریک انصاف دوبارہ یہ کرسی حاصل کر پائے گی یا اپوزیشن اس پر قابض ہو جائے گی۔ تاہم تحریک انصاف نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے 90 ووٹوں کے ساتھ سہیل آفریدی کو گنڈا پور کی جگہ نیا وزیراعلی منتخب کر لیا ہے۔ اپوزیشن نے وزیراعلی کے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا چونکہ اس کا یہ موقف تھا کہ گورنر خیبر پختون خواہ نے ابھی تک گنڈاپور کا استعفی قبول نہیں کیا لہذا نئے وزیر اعلی کے انتخاب کا عمل غیر آئینی ہے۔
نئے وزیراعلی خیبر پختون خواہ نے اپنے الیکشن کے فورا بعد فوج کے خلاف اعلان بغاوت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں کسی طالبان مخالف فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ ادھر خیبر پختون خوا اسمبلی کے سپیکر نے سہیل آفریدی کے الیکشن کے فورا بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹنٹ جنرل احمد شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اب بھی آپ سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ معاملات خراب نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو منتخب ایوان کا فیصلہ قبول کرنا ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ سہیل آفریدی اپنے عہدے کا حلف کس سے لیتے ہیں چونکہ گورنر فیصل کنڈی نے تو ابھی تک گنڈا پور کا استعفی بھی قبول نہیں کیا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وزیر اعلی کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی اپوزیشن عدالت کا رخ کر سکتی ہے اور سہیل آفریدی کا الیکشن چیلنج کر سکتی ہے۔ چنانچہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ خیبر پختون خواہ میں ایک نیا آئینی بحران کھڑا ہونے کا خدشہ ہے اور وزیراعلی سہیل آفریدی کا الیکشن بھی تنازعات کا شکار ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران نے گنڈاپور کو ہٹا کر ایک بڑا سیاسی جوا کھیلا ہے جسکے اثرات نہ صرف تحریک انصاف بلکہ مجموعی طور پر ملک کے سیاسی نظام، وفاقی ڈھانچے اور سول ملٹری تعلقات پر بھی پڑیں گے۔ اپنے الیکشن کے فورا بعد خیبر پختون خواہ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے عمران خان کا ایجنڈا آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر عمران خان کو اڈیالہ جیل اسلام آباد سے کسی اور جیل شفٹ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ پورا پاکستان جام کر دیں گے۔
علی امین گنڈاپور کو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹانے اور مراد سعید کے شاگرد سمجھے جانے والے سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا فیصلہ دراصل عمران کا وہ سیاسی قدم ہے جس سے ان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ گنڈاپور، اپنی جوشیلی تقاریر اور سخت بیانات کے باوجود، عمران خان کے لیے اس وقت ناقابلِ قبول ہو گئے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس شدت سے مزاحمت نہ دکھا سکے جسکی عمران کو امید تھی۔ اب خان کی نظریں سہیل آفریدی پر ہیں جو کسر نفسی سے کام لینے والے اپنے سیاسی استاد مراد سعید کی طرح خان کے لیے ہر حد تک جانے کیلئے تیار رہتا ہے۔ صوبائی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں سہیل افریدی نے سخت ترین لہجہ اختیار کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے موقف کو رد کیا اور دعوی کیا کہ عمران کے دور حکومت میں خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی ختم ہو گئی تھی۔
سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق عمران خان کے اس فیصلے کے دو بڑے ممکنہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ عمران خان فوجی اسٹیبلشمنٹ پر اپنی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر اسلام اباد پر چڑھائی کا ایک نیا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن دوسرا اور زیادہ خطرناک نتیجہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ عمران خان فوج اور وفاقی حکومت کی دہشتگردی کے خلاف حکمتِ عملی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لیے سہیل آفریدی کی حکومت کو استعمال کر سکتے ہیں۔
عمران خان کی خواہش ہے کہ نہ تو طالبان دہشتگردوں کے خلاف عسکری کارروائی ہو اور نہ ہی افغانستان سے تعلقات اس بنیاد پر خراب کیے جائیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ عمران خان چاہتے تھے کہ گنڈاپور ایکطرف فوج کو طالبان مخالف آپریشن روکنے پر مجبور کریں، اور دوسری طرف صوبائی حکومت کے ذریعے افغانستان سے براہِ راست بات چیت کی راہ نکالیں۔ جب گنڈاپور اس سمت میں وہ پیش رفت نہ کر سکے تو انہیں ہٹا کر سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلی بنانے کا فیصلہ سامنے آیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران کا بھارت نواز طالبان کے ساتھ کھڑے ہونے کا پلان صرف اور صرف ریاست پاکستان کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ان کے معاملات بہتر ہونے کی بجائے مزید ابتری کی جانب چلے جائیں گے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ طالبان نواز سہیل آفریدی کے متنازعہ الیکشن کے بعد صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ انکا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، خیبر پختونخوا کے نئے وزیر اعلی کی جانب سے صوبے میں فوجی اپریشن کی مخالفت کا کھلا اعلان بغاوت کے مترادف ہے جس کے سنگین نتائج برامد ہو سکتے ہیں۔
نئے وزیراعلی سہیل آفریدی کا اعلان جنگ، مرنے کو بھی تیار
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعلی بن کر سہیل آفریدی واقعی عمران خان کی پالیسی کے مطابق چلتے ہیں، تو عمران خان اور فوج کے درمیان تصادم اس حد تک جا سکتا ہے جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ رہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں ہے کہ عمران کی یہ جنگ اصولی ہے یا سیاسی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کا نتیجہ پاکستان کے مفاد میں نکلے گا؟ بظاہر ایسا نظر نہیں آتا۔
