اگلی حکومت اتحادی نہیں ایک جماعت کی ہو گی؟

آئندہ عام انتخابات کے نتیجے میں ایک مستحکم سیاسی حکومت پانچ سال کیلئے اقتدار سنبھالے گی۔ اتحادی حکومت کے بجائے کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ جو جماعت پنجاب میں کلین سوئپ کریگی، وہی جماعت وفاق میں مضبوط سیاسی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار سیاسی تجزیہ کار حذیفه رحمان نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ وزیراعظم شہبازشریف اپنی حکومت کی آئینی مدت کے مقررہ وقت پر اختتام کا باضابطہ اعلان کرچکے ہیں۔ اگست کے تیسرے ہفتے تک وفاق میں بھی نگران حکومت قائم ہوچکی ہوگی۔ ملک تیزی سے عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔
کیا عام انتخابات 90روز میں ہو جائینگے، اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ مگر یہ طے ہے کہ آئندہ چند ماہ میں عام انتخابات کا انعقاد ہو جائیگا۔ جس کے نتیجے میں ایک مستحکم سیاسی حکومت پانچ سال کیلئے اقتدار سنبھالے گی۔ اتحادی حکومت کے بجائے کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ کیونکہ معاشی استحکام براہ راست سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے اور سیاسی استحکام کیلئے ضروری ہے کہ وفاق میں ایک مضبوط مستحکم حکومت ہو، جو ہر طرح کی سیاسی بلیک میلنگ سے آزاد ہو۔ مگر وفاق میں سادہ اکثریت کیلئے ضروری ہے کہ پنجاب کو فتح کیا جائے۔ جو جماعت پنجاب میں کلین سوئپ کریگی، وہی جماعت وفاق میں مضبوط سیاسی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔ اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کا مقابلہ ہے۔
دو، تین حلقوں کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ پنجاب ہمیشہ سے مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن نے جب بھی مرکز میں حکومت بنائی تو وہ پنجاب کی ہی مرہون منت تھی۔ پنجاب جس کیساتھ کھڑا ہو جاتا ہے، اسلام آباد میں بھی پنجے اسی کے مضبوط ہوتے ہیں، حذیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ ن کیلئے پنجاب کو واضح اکثریت سے فتح کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ایک سال کی پی ڈی ایم حکومت میں سب سے زیادہ سیاسی قیمت مسلم لیگ ن نے ادا کی ہے۔ معیشت بچانے کیلئے جو سخت فیصلے کئے گئے، اس سے ایک عام آدمی پر بوجھ پڑا۔ عوام توقع کر رہے تھے کہ یہ حکومت آتے ہی انہیں بڑا ریلیف دیگی اور عمران دور کی مہنگائی، کرپشن اور بدانتظامی کا مداوا کریگی۔
لیکن زبوں حال معیشت نے شہباز حکومت کو ایسا کچھ کرنے نہیں دیا، جو سرنگیں تحریک انصاف کے چار سالہ دور میں بچھائی گئی تھیں، وہ شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی توقع سے کہیں زیادہ تھیں۔ اس لئے مسلم لیگ ن کے ووٹر کو وہ ریلیف نہیں مل سکا،جسکی وہ توقع کئے بیٹھا تھا۔ لیکن یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پنجاب کے عوام کی اکثریت آج بھی نوازشریف کیساتھ ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان نے مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کو متاثر تو کیا ہے لیکن پنجاب آج بھی نواز شریف کیساتھ کھڑا ہے۔ کیونکہ انکی جماعت کو انتخابی سیاست پر کافی عبور حاصل ہے۔
پنجاب کے حلقوں کی بات کریں تو مسلم لیگ ن کے پاس آج بھی تحریک انصاف کے مقابلے میں بہترین امیدوار ہیں۔ مسلم لیگ ن کو عام انتخابات کے دنگل میں اترنے سے پہلے اپنی بہترین ٹیم کو میدان میں لانا ہوگا. نوازشریف مسلم لیگ ن کے کپتان ہیں اور شنید ہے کہ وہ اس انتخابی مہم کو خود لیڈ کرینگے۔ مگر کس کھلاڑی کو کہاں کھلانا ہے۔ اس حوالے سے انتہائی سوچ بچار کرنا ہوگی، حذیفہ رحمان مشورہ دیتے ہیں کہ اس مرتبہ میاں نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز اورحمزہ شہباز شریف کو ملکر پنجاب کے سیاسی دنگل میں اترنا ہوگا۔ نواز شریف پنجاب کے عوام کی نبض خوب جانتے ہیں۔ انکے فرنٹ پر آکر انتخابی مہم کو لیڈ کرنے سے مسلم لیگ ن کو بہت فائدہ ہوگا۔ کیونکہ نوازشریف آج بھی پنجاب کے عوام میں بہت مقبول ہیں۔
لیکن اس مرتبہ انہیں اپنے ووٹر کو مطمئن کرنے کیلئے آئندہ پانچ سال کا روڈ میپ دینا ہوگا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران لوگوں کی مایوسی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی نے عوام کی اکثریت کا سکون تک چھین لیا ہے۔ ووٹر کو چارج کرنے کیلئے مسلم لیگ ن کو ایک موثر منشور دینا ہوگا۔ایک ایسا منشور جو واضح اور جامع ہو۔ عوام کی اکثریت مسلم لیگ ن کے منشور سے قائل ہوگئی تو پھر مسلم لیگ ن کے بڑی تعداد میں نکلنے والے ووٹر کو کوئی نہیں روک سکے گا اور اگر پنجاب کے عوام نے مسلم لیگ ن کے حق میں فیصلہ سنادیا تو پھر وفاق سادہ اکثریت سے پانچ سال کیلئے مسلم لیگ ن کے پاس ہوگا۔ لیکن اس مرتبہ اعصاب کی جنگ ہے۔ جو بہتر حکمت عملی
کیا مدھوبالا، ذوالفقار علی بھٹو کی پسندیدہ اداکارہ تھیں؟
کا مظاہرہ کرے گا فتح اسی کا مقدر ہوگی۔
