’’نظام‘‘ کس پرندے کا نام ہے

تحریر: حماد غزنوی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
چھت زمیں بوس، دیواریں منہدم، بام و در شکستہ، اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھے ہوئے شخص کو خبر ملتی ہے کہ "زلزلہ آ رہا ہے۔” وہ شخص مخبر کی طرف دیکھتا بھی نہیں، دور افق کو گھورتا رہتا ہے۔ گھر میں تھا کیا تیرا غم جسے غارت کرتا۔ ہمیں جب کوئی خبر دیتا ہے کہ سسٹم کلیپس کر گیا ہے تو ہمارا بھی کچھ ایسا ہی ردِ عمل ہوتا ہے، ہم تو سسٹم کے ملبے پر پتھرائے ہوئے بیٹھے ہیں، بے سایہ، بے سروسامان۔ ہم عوام سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ یہ نظام مسمار ہو چکا ہے، اور کب کا مسمار ہو چکا ہے۔ انہدامِ نظام ہمارے لیے کوئی سنی سنائی بات نہیں، یہ ہماری ہڈ بیتی ہے، یہ بے سائبانی ہمارے صبح و شام ہیں، یہ بے آسرا پن ہمارے لیل و نہار ہیں۔

نظام کی لاش کے سرہانے بیٹھ کر آہ و بُکا کرنے والی رودالیاں کون ہیں؟سات سالہ زینب انصاری کو 2018 میں قصور شہر میں زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ بچی کا قاتل عمران علی پکڑا گیا تھا۔ بعد میں وڈیوز سے معلوم ہوا کہ عمران علی بچی کے قاتل کی گرفتاری کیلئے ہونے والے احتجاج میں پیش پیش تھا، وہ بچی کے جنازے میں دھاڑیں مار کر روتا ہوا بھی پایا گیا تھا، وہ مقتولہ کے والدین سے تعزیت کرنے والوں کی صفِ اول میں شامل تھا۔ مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ عمران علی ایک سیریل کلر تھا جو کتنی ہی بچیوں کو زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار چکا تھا۔ اس ملک کے نظام کا بھی کوئی سیریل کلر ہے؟ مغمومین کی فہرست غور سے دیکھیں، پُر سوز نوحہ گروں کی انجمن کا جائزہ لیں، ماتمی گروہ کے ماضی پر ایک نظر ڈالیں، کیا خبر یہ شناخت پریڈ آپ کو نظام کے ذابح تک پہنچا دے۔

ویسے نظام کس پرندے کا نام ہے؟ ہمارے لیے تو یہ”ہما” کے مترادف کوئی مخلوق ہے، جسکی زیارت سے ہم بدنصیب آج تک محروم رہے ہیں۔ اس لفظ کا معنیٰ سمجھنےکیلئے ہمیں کوئی مثال کسی اور خطے سے درآمد کرنا ہو گی، ورنہ ہم تو یونہی ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے، کج بحثی کی لت میں مبتلا رہیں گے، کبھی نئے صوبوں کی ہوک اُٹھے گی، کبھی کسی آئینی ترمیم کی۔ ہر گفتگو کا انجام اسی تاسف انگیز جملے پر ہوتا رہے گا کہ "ہمارے ہاں کوئی نظام ہی نہیں ہے۔” یہ جو سو بیماریاں ہم اپنے آس پاس دیکھتے ہیں یہ سب "علامات” ہیں”مرض” نہیں ہے۔ اور مرض کی علامات مٹانے سے بیماری دور نہیں ہو جاتی۔ ایک فقرے میں، نظام کی داغ بیل ڈالنے کی پہلی شرط ہے معاشرے میں طاقت کی حتی الوسع تقسیم، بس! باقی سب تفصیلات ہیں اس اجمال کی۔ طاقت کا ارتکاز نظام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ مرتکز طاقت، سیاسی طاقت پر بھی قابض ہو جاتی ہے، اپنے جونیئر پارٹنرز کی شکل میں سیاسی اشرافیہ پیدا کرتی ہے اور سیاسی طاقت کو عوام کی "دست بُرد” سے دور رکھتی ہے۔ طاقت کے ارتکاز کی ایک بنیادی شرط معاشی ارتکاز ہوا کرتا ہے، طاقت معیشت کے میدان میں مسابقت پسند نہیں ہوا کرتی، طاقت سے تعلق اور اسکے نتیجے میں ملنے والی مراعات اس معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتی ہیں۔ جن ممالک کے نظاموں کو ہم آج حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں ان سب کی بنیاد ایک زمانے میں مناپلیز اور سب سڈیز پر ہوا کرتا تھی، امریکا میں اے ٹی اینڈ ٹی تو 1982 تک قریباً تمام ملک کے ٹیلیفون نیٹ ورک کی مناپلی قائم رکھنے میں کامیاب رہی، ایسے ہی راک فیلر کی سٹینڈرڈ آئل، کارنیگی سٹیل اور امریکن تمباکو کمپنی ملٹی بلین ڈالر کی مناپلیز تھیں۔ برطانیہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی مناپلی کی سب سے "روشن” مثال ہے، جس کے علاوہ کسی اور کمپنی کو ہندوستان میں تجارت کی اجازت نہیں تھی۔ (دنیا میں کارپوریشنز کا عفریت ایک بار پھر اپنا کریہہ پھن پھیلا چکا ہے اور مختلف ممالک کے "نظام” اس سے برسرِ پیکار ہیں) قانون کی حکم رانی مناپلیز اور مراعات کا یہ نظام توڑنے کی مسلسل کوشش کا دوسرا نام ہے، انصاف اور احتساب کا نظام قائم کرنا جن اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ ادارے ان ممالک میں کبھی "مقبوضہ” ہوا کرتے تھے، صدیوں میں وہ ادارے مضبوط ہوئے، چیک اینڈ بیلنس کا نظام آیا، آئین کی بالا دستی کا تصور راسخ ہوا۔ آئین طاقت کی تقسیم کا ایک موثر نظام ہے، آئین بنیادی مرض کا علاج کرتا ہے، آئین دائرے بناتا ہے، طاقت کی مناپلی توڑتا ہے۔ اسی لیے آئین و قانون سے چِڑنا طاقت کا فطری ردِ عمل ہے۔ آنجہانی ضیاالحق صاحب کا فرمان ہے "آئین کیا شے ہے، ایک دس بارہ صفحے کا کتابچہ، جسے میں پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں۔” آئین ہائے مملکتِ خداداد کی سیریل کلنگ کا فقط ایک نتیجہ نکلا ہے، اس ملک میں کوئی نظام اپنے پاؤں نہیں جما سکا، کیوں کہ ہر اچھے برے نظام کی بنیاد مقدور بھر طاقت کی تقسیم کے عزم سے شروع ہوتی ہے۔ طاقت سے جڑی ہوئی سیاست و معیشت نظام کی دشمن ہوتی ہیں۔ نظام عوام کے حق میں ہوتا ہے، بے نظام خطے طاقتور اشرافیہ کے راجواڑے ہوتے ہیں۔ آئندہ جب آپ تنو مند اشرافیہ کے کسی نمائندے کو نظام کی شکستگی پر گریہ کرتے دیکھیں تو اس کے گھڑیالی آنسوؤں کو پہچاننے میں تاخیر مت کیجیے۔

ہمارے سب مسائل علامات ہیں، نئے صوبوں کی بحث سے ملک میں امن و امان کے قضیہ تک، پارلے مان کے ضعف سے عدالتوں کی ناتوانی تک سب علامات ہیں۔ حتیٰ کہ غربت بھی علامت ہے۔ طاقت کا ارتکاز غربت کی فیکٹری ہوا کرتا ہے۔ یہ فیکٹری کب بند ہو گی؟ ہم یونہی نہیں آئین آئین”کُرلاتے” رہتے!

 

Back to top button