73برس میں تاریخی مہنگائی کا نیا ریکارڈ قائم

الیکشن 2018 کے بعد تبدیلی کا نعرہ لگا کر نیا پاکستان بنانے کے عزم سے اقتدار میں آنے والی وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے ملک کی 73 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی کرنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے جس کے نتیجے میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بلبلا اٹھے ہیں۔ اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے نہ صرف متوسط اور غریب طبقہ پریشان ہے بلکہ اس نے مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
عمران خان کے پچھلے تین سالہ دور اقتدار میں عوام پر مسلسل گرائے جانے والے مہنگائی کے بموں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف لوگوں کے کچن کا خرچہ ہی کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ آج سے تین سال پہلے دس کلو چکی آٹا 500 سے 530 روپے کے درمیان آتا تھا لیکن آج آٹے کے دس کلو تھیلے کی قیمت 750 روپے سے 800 روپے تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح تیل کا ایک پیکٹ جو آج سے تین سال پہلے 200 سے 210 روپے تک دستیاب تھا آج اس کی قیمت 340 سے 350 تک پہنچ چکی ہے۔ ایک کلو چینی جو 55 سے 60 روپے میں ملتی تھی، آج 110 روپے سے بھی زیادہ پر فروخت ہو رہی ہے۔
حزب اختلاف مسلم لیگ نواز کی جانب سے جب تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کی جاتی ہے تو خوردنی اشیاء کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لازمی پیش کیا جاتا ہے جس میں نواز لیگ کے دور میں اشیائے خورد و نوش کی کم قیمتوں کو دکھایا جاتا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر وزارت خزانہ نے خوردنی اشیاء کی قیمتوں کے سلسلے میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں یہ اعتراف تو کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے عالمی سطح پر خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو مکمل طور پر صارفین کو منتقل نہیں کیا اور عالمی سطح پر ہونے والے اضافے کو برداشت کر کے صارفین کو قیمتوں میں بہت زیادہ ہونے والے اضافے سے بچایا ہے۔
حکومت کے اس دعوے میں کتنی حقیقت ہے، اس کے متعلق اجناس اور معیشت کے ماہرین کہتے ہیں کہ اس دعوی میں بہت زیادہ سچائی نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے کیا جانے والا دعویٰ اس حد تک تو صحیح ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی سطح پر زیادہ قیمت کو پوری طرح عوام پر منتقل نہیں کیا گیا تاہم کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ پوری طرح عوام کو منتقل ہوا ہے۔
حکومتی بیوروکریٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بڑی مقدار میں خوردنی اشیا کی درآمد ہو رہی ہے جو ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ تاہم عوام اس دعوے کو ایک بھونڈے لطیفے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے کیونکہ وفاقی حکومت نے اس بات کا کئی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں مقامی سطح پر اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تین سال پہلے تحریک انصاف کی حکومت مسلم لیگ نواز کی حکومت کے بعد برسر اقتدار آئی تھی۔ تاہم جہاں حکومت مقامی سطح پر قمیتوں میں اضافے کا اعتراف کر رہی ہے تو دوسری جانب اس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ملکی سطح پر صارفین کو عالمی سطح پر خورد و نوش کی چیزوں میں ہونے والے بے پناہ اضافے سے بھی اس نے بچایا ہے اور بڑھتی ہوئی قیمتوں میں سے زیادہ حصہ اس نے خود برداشت کیا ہے اور اس کا کم حصہ صارفین تک پہنچایا ہے۔
وزارت خزانہ نے اس سلسلے میں ایک چارٹ بھی جاری کیا ہے جس میں مختلف خوردنی چیزوں کی عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ اور مقامی سطح پر ان کی قیمتوں میں اضافے کا تناسب دکھایا گیا ہے۔
ان خوردنی اشیا میں چینی، گندم، گھی، دال چنا اور نیڈو دودھ کی قیمتوں کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس چارٹ کے مطابق:
عالمی سطح پر چینی کی قیمت میں اگست 2018 سے لے کر اگست 2021 تک 83 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مقامی سطح پر اس کی قیمتوں میں 41 فیصد اضافہ ہوا۔ گندم کی قیمت میں عالمی سطح پر 51 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مقامی سطح پر اس کی قیمتوں میں 53 فیصد اضافہ ہوا۔ گھی کی قیمتوں میں عالمی سطح پر 98 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت 41 فیصد بڑھی۔ دال چنا کی قیمت میں عالمی مارکیٹ میں 40 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت 37 فیصد بڑھی۔ نیڈو دودھ کی قیمت عالمی سطح پر 52 فیصد بڑھی جبکہ ملکی سطح پر اس کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔
کپتان حکومت کی جانب سے پچھلے تین برس میں اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں کو کم کرنے اور عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے کے بھونڈے دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ادارہ شماریات ملک میں مہنگائی کی شرح ساڑھے آٹھ فیصد بتا رہا ہے جبکہ آزاد معاشی ماہرین اور ادارے اس شرح کو بارہ ساڑھے بارہ فیصد تک بتا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا اعداد و شمار کے ساتھ ’ہیر پھیر‘ کیا جاتا ہے تاکہ اپنی ’تھوڑی بہت کارکردگی کو بہت نمایاں کیا جائے اور ناکامی کو چھپایا جا سکے۔ تاہم سچ تو یہی ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی مسلسل دوہرے ہندسوں میں رہی ہے اور اس نے عام آدمی کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس مہنگائی سے اب لوئر مڈل کلاس کے ساتھ ساتھ اب مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کی بھی چیخ نکلنا شروع ہو گئی ہیں۔
