پاکستان میں آن لائن شاپنگ ہائی رسک معاملہ کیوں بن گئی؟

پاکستان میں آن لائن شاپنگ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہائی رسک شاپنگ بنتی جا رہی ہے، کیا آپ نے فیس بک پر اچھے ریویوز دیکھنے کے بعد کبھی کسی سیلر سے پراڈکٹ خریدے ہیں؟ پاکستان میں ایسے ہی ایک کاروبار کے مالک پر الزام ہے کہ انھوں نے کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے جی پی یوز اور گیمنگ کونسول کے پری آرڈر کے نام پر پر لوگوں سے کروڑوں روپے لیے اور پراڈکٹ دیے بغیر غائب ہو گئے۔ نہ تو صارفین کو ان کے آرڈر ملے ہیں اور نہ رقم کی واپسی کی کوئی امید نظر آ رہی ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ محض کاروباری مشکل ہے یا بہت بڑا آن لائن دھوکہ۔

بی بی سی نے اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی ہے۔ ساہیوال کے ماجد علی، کراچی کے عماد الدین، اسلام آباد کے حسیب اختر، فیصل آباد کے زید اور حیدرآباد کے فارس عبدالعزیز کا الزام ہے کہ ’زپ ٹیک‘ نام کی ایک آن لائن شاپ سے انھوں نے جی پی یوز اور سونی کے پلے سٹیشن فائیو پیسے دے کر خریدے لیکن ان سب کو کئی مہینے گزرنے کے بعد بھی یہ اشیا نہیں ملیں۔ ان چار لوگوں کے علاوہ فیس بک پر ’زپ ٹیک ایفیکٹیز‘ یعنی زپ ٹیک کے متاثرین کا گروپ بھی ہے جس میں متاثرین نے اپنی اور اپنے آرڈرز کی تفصیلات دی ہوئی ہیں جس کے مطابق اس کمپنی نے 42 شہروں کے 385 افراد سے کروڑوں روپے سے زیادہ رقم وصول کر کے ابھی تک انھیں ان کے آرڈر نہیں دیئے، اس فراڈ کے متاثرین کا یہ بھی الزام ہے کہ زپ ٹیک کے مالک پاکستان سے فرار ہوگیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر کرونا کے باعث انڈو گیمنگ کا رجحان بڑھا تو بہت بڑے پیمانے پر گیمنگ سسٹم کی فروخت شروع ہوئی، دنیا سمیت پاکستان میں بھی اس کے اثرات نمایاں تھے، اس صورتحال میں زپ ٹیک نے ایسی آفر دی، جسے ٹھکرانا مشکل تھا۔ اکتوبر 2021 میں وہ پی ایس فائیو ڈیجیٹل ایڈیشن 92 ہزار روپے کا جبکہ ڈیسک ایڈیشن ایک لاکھ 11 ہزار کا بیچ رہے تھے۔

فارس عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ جو پلے سٹیشن فائیو انھیں دوسرے دکاندار ایک لاکھ پچاس ہزار روپے میں دے رہے تھے انھیں زپ ٹیک سے ایک لاکھ 11 ہزار کا مل رہا تھا، ماجد علی نے بتایا نویڈیا کا گرافک کارڈ جو انھیں 53 ہزار کا زپ ٹیک سے مل رہا تھا وہ دیگر بیچنے والوں سے ایک لاکھ دس ہزار کا مل رہا تھا۔ بس پیچیدگی یہ تھی کہ آپ کو پری آرڈر دینا تھا یعنی 100 فیصد پیسے ابھی جمع کروائیں اور چند مہینے کے انتظار کے بعد آپ کی چیزیں آپ کے پاس۔

ایک آفر چاہے جتنی بھی اچھی ہو، بڑی رقم میں مال خریدنے سے پہلے آپ اس پر تحقیق کرتے ہیں اور اس کی ساکھ کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ایسی توقع آپ زپ ٹیک سے پری آرڈر کرنے والوں سے بھی کرتے ہوں گے، محمد زید اور عماد الدین نے بتایا کہ انھوں نے مشہور سوشل میڈیا انفلوئینسرز سے متاثر ہو کر زپ ٹیک سے خریداری کی۔

جنید اکرم نے الزام عائد کیا کہ زپ ٹیک کے اچھے تجربے کی بنیاد پر کاروبار کی غرض سے انھوں نے زپ ٹیک سے ہی 45 پی ایس فائیو خریدے جن میں سے انھیں صرف 15 ملے جبکہ زپ ٹیک نے انھیں 33 لاکھ 30 ہزار روپے کے 30 پی ایس فائیو ابھی تک نہیں دیے لہٰذا وہ بھی متاثرین میں  اس شامل ہیں۔ ایک اور متاثر ماجد علی کا کہنا تھا کہ اس نے بھی زپ ٹیک پر اس لیے بھروسہ کیا کیونکہ ایک مقبول اور قابل اعتبار فیس بک گروپ پاکستان پی سی گیمرز نے زپ ٹیک کو اپنے ’ویریفائڈ سیلرز لسٹ‘ یعنی تصدیق شدہ فروخت کرنے والوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ فراڈ کے ایک اور متاثر مرتضٰی نے بتایا کہ جو گرافک کارڈ مارکیٹ میں ایک لاکھ 90 ہزار کا مل رہا تھا وہ زپی 80 ہزار میں دے رہے تھے لیکن آپ کو تین سے چھ مہینے انتظار کرنا پڑتا تھا، پاکستان میں کوئی سستی چیز مل رہی ہو تو لوگ لیتے ہیں چاہے جہاں سے بھی ملتی ہو اس طرح زپ ٹیک کا پری آرڈر کا کاروبار شروع ہوا۔ ڈیڑھ سال تک یہ آرڈر ٹائم پر ڈیلیور ہوتے رہے، اسی وجہ سے مارکیٹ میں میجر زپی کا نام مزید پھیل گیا۔

مرتضٰی کا کہنا ہے کہ دسمبر 2021 میں انھیں زپ ٹیک اور کمانڈر زپی کے متعلق شکایات موصول ہونے شروع ہوئیں کہ وہ اپنے آرڈر ڈیلیور نہیں کر رہے، جس کے بعد پی پی جی کے ایڈمنز نے براہ راست میجر زپی سے رابطہ کر کے لوگوں کو ان کی اشیا دلوانے کی کوشش کی، منیجر زپی کا نام حسن ہے۔ ان کا یوٹیوب پر چینل بھی ہے جس پر وہ گیمنگ کی ویڈیوز سٹریم کرتے تھے، 2019 سے انھوں نے پی پی جی گروپ پر کمپیوٹر کی ایسیسریز فروخت کرنا شروع کی جبکہ 2020 میں جی پی یوز اور گیمنگ کنسولز پیچنے شروع کر دیئے۔

متاثرین کے مطابق زپ ٹیک کے نمائندے لاہور اور اسلام آباد میں بھی تھے جبکہ ملک کے دیگر شہریوں کے خریدار بینک ٹرانسفر کے ذریعے آن لائن اشیا آرڈر کرتے تھے۔ اس وقت ان کی کلفٹن میں موجود دکان کرائے کے لیے خالی ہو چکی ہے، حسن نے اس معاملے پر گذشتہ برس مئی میں زپ ٹیک کے پیج پر چند ویڈیوز شائع کی جن میں بتایا کہ ہم کچھ ہفتوں سے بتا رہے ہیں ہماری سپلائی چین کا مسئلہ ہے لیکن زپ ٹیک کے متاثرین اور پی پی سی جی گروپ کے ایڈمن اس جواب سے متفق نہیں نظر آ رہے۔

نعثمان شیخ کا کہنا تھا اگر شپنگ کا مسئلہ تھا ’تو وہ ائیر امپورٹ کی رسید دے دیتے جو کئی دفعہ مانگنے کے باوجود انھوں نے نہیں دی۔ اگر آپ سمندر سے بھی کوئی چیز درآمد کرتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ 40 سے 60 دن لگتے ہیں۔ فارس عبدالعزیر بتاتے ہیں کہ جب ان کا اکتوبر 2021 میں دیا گیا دو پلے سٹیشن کا آرڈر فروری 2022 تک نہیں پہنچا اور مزید وقت گزرنے کے بعد زپ ٹیک نے جواب دینا بھی بند کردیا۔ لہذا اب اس فراڈ کے متاثرین کسی معجزے کے انتظار میں ہیں کہ کسی طرح ان کے پیسے واپس مل جائیں۔

لیگی قیادت کی حمزہ کو فوری طور پر پاکستان پہنچنے کی ہدایت

Back to top button