فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کو ٹھینگا دکھا دیا

عمران خان کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں لانے والی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد رابطے بحال کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ٹھینگا دکھا دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ فوج غیر سیاسی ہو چکی ہے۔ سینئر صحافی عمر چیمہ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی لاچاری بیان کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے روابط اس وقت فوج میں سینئر لیول سے گرتے ہوئے اب میجر لیول تک آ گئے ہیں اور اب کوئی تحریکِ انصاف والوں کا فون سننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ عمر چیمہ نے اپنے یوٹیوب چینل پر وی-لاگ میں بتایا کہ عمران خان کے خلاف عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں زیر التوا کیسز بہت سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ ان کی بیٹی ٹیری وائٹ کو گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا کیس ان کے سیاسی کیریئر کے لیے کافی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں عمران خان سے صادق اور امین ہونے کا سرٹیفکیٹ واپس لئے جانے کا امکان ہے جس کے بعد ان کے لیے نااہلی سے بچنا مشکل ہو جائے گا۔
عمر چیمہ کے مطابق عمران خان کو ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ تحریکِ انصاف کے روابط اس وقت سینئر لیول سے نیچے گرتے ہوئے اب میجر لیول تک آ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کیا عمران خان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنائے جانے کے بعد بھائی لوگ تحریک انصاف والوں کا فون سننے کو بھی تیار نہیں اور اگر کوئی سنتا بھی ہے تو وہ میجر لیول سے اوپر کا افسر نہیں ہوتا۔ عمر چیمہ نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو منع کریں کہ وہ اب اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کرنے کی کوشش نہ کریں ورنہ ان کی رہی سہی عزت بھی خراب ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عمران فوج پر دباؤ ڈالنے کے لیے جنرل باجوہ کو میر صادق اور میر جعفر کہتے رہے اور اب انھوں نے یہی رویہ نئی فوجی قیادت کے ساتھ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے بھی دباؤ میں لایا جا سکے، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ جنرل باجوہ کے جانے کے بعد اب فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی تبدیل ہو چکی ہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے بھی مل سکتا ہے۔
لیگی قیادت کی حمزہ کو فوری طور پر پاکستان پہنچنے کی ہدایت
