کیا اپوزیشن عمران مخالف تحریک عدم اعتماد پر متفق ہو گی؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افواہیں گرم ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے مابین وزیراعظم عمران خان کے خلاف مستقبل قریب میں تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے رابطے شروع ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی نے 27 فروری سے حکومت مخالف لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ پی ٹی ایم اتحاد 23 مارچ کو لانگ مارچ کرنے جا رہا ہے۔ تاہم اب یہ اطلاعات ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت حکومت مخالف نواز شروع کرنے کے حوالے سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دے سکتی ہے اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ایک ہی روز مارچ کرنے پر متفق ہو جائیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے مناسب وقت کے انتخاب کے لئے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے مابین مذاکراتی عمل جاری ہے۔ پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ لانگ مارچ شروع کرنے کے فورا بعد تحریک عدم اعتماد لائی جائے جبکہ نواز لیگ کا خیال ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے میں دیر نہ کی جائے۔
قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے حالیہ ملاقاتیں اسی سلسلے کی کڑی سمجھی جا رہی ہیں۔ ماضی میں منقسم رہنے والی حزبِ اختلاف اب ایک بار پھر مشترکہ حکمتِ عملی کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ حزبِ اختلاف رہنماؤں کی ملاقاتوں کا بنیادی نکتہ تحریکِ عدم اعتماد بتایا جاتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ایوان کے اندر تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے اور یہی حزبِ اختلاف کے پاس بہترین جمہوری راستہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے خاتمے کے لیے حزبِ اختلاف کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ مبصرین کا بھی ماننا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے بڑھتے ہوئے رابطے اور کم ہوتے فاصلے حکومت کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حکمران جماعت تحریکِ انصاف کو اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ قلیل اکثریت حاصل ہے۔ البتہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا ماننا ہے کہ وہ حکمران جماعت کے ناراض اراکین کی حمایت اور اتحادی جماعتوں کو علیحدہ کرنے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ سمجھتے ہیں کہ حزبِ اختلاف مشترکہ حکمتِ عملی سے کپتان حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کو کامیاب کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت کے خاتمے کے لیے ہر جمہوری راستہ اپنانے کو تیار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں ان کی جماعت نے اپنی تجاویز دیگر اپوزیشن جماعتوں کے سامنے رکھ دی ہیں اور اگر اتفاق رائے ہو گیا تو حکومت کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد لائی جائے گی۔
کیا اپوزیشن عمران مخالف تحریک عدم اعتماد پر متفق ہو گی؟
اس سوال پر کہ حکومت کے اتحادی بدستور ان کے ساتھ کھڑے ہیں تو تحریکِ عدمِ اعتماد کیسے کامیاب ہو گی؟ خورشید شاہ نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی نے اسی ایوان سے حکومت کی اکثریت کے باوجود کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تو تحریک انصاف میں بھی کئی پارٹی اراکین کھل کر عمرانن خان کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہیں اور قومی اسمبلی میں ناراض حکومتی اراکین کی جانب سے فارورڈ بلاک بنانے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی تحریکِ انصاف کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی تھی جس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑا تھا۔اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کہتے ہیں کہ تحریکِ عدمِ اعتماد کے معاملے پر بھی بات چیت جاری ہے اور پارلیمان میں اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیرِ اعظم کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق حزبِ اختلاف جماعتوں کے درمیان وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد لانے پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدمِ اعتماد پیش کی جا سکتی ہے۔
قواعد کے مطابق وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ ایوان کو تقسیم کر کے یعنی اوپن ووٹنگ ہو گی جب کہ اسپیکر کے خلاف اراکین خفیہ رائے شماری کا حق استعمال کریں گے۔ وزیرِ اعظم عمران خان سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد لانے کا مقصد حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے درمیان باہمی اعتماد کو بحال کرنا ہے۔
