قائد حزب اختلاف شہباز شریف 8 ماہ بعد کوٹ لکھپت جیل سے رہا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے کیس ضمانت کی منظوری کے بعد کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوگئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے شہباز شریف کو ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی تھی۔
آج جیل حکام کے سامنے ان کی رہائی کے احکامات پیش کیے گئے تھے جس کے بعد انہیں فوراً ہی جیل سے رہا کردیا گیا۔ کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ اسد وڑائچ نے شہباز شریف کی رہائی کی تصدیق کردی۔ شہباز شریف جیل سے رہائی پانے کے بعد اپنی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ کےلیے روانہ ہوگئے۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاو میں تیزی کی وجہ سے شہباز شہباز شریف کی رہائی منانے کےلیے کوئی ریلی نہیں نکالیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 14 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ میں جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے صدر مسلم لیگ (ن) کی ضمانت منظور کی تھی جب کہ جسٹس اسجد جاوید گورال نے اسے مسترد کردیا تھا۔ چنانچہ یہ معاملہ ریفری جج کی نامزدگی کےلیے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تھا۔ جس پر ریفری بینچ نے گزشتہ روز سماعت کرتے ہوئے شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا اور 50، 50 لاکھ روپے کے 2 مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی۔ یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ شہباز شریف نے 26 مارچ کو منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کےلیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی جس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں احاطہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا تھا۔ قبل ازیں 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور کنبے کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔
بعد ازاں 20 اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کےلیے منظور کیا تھا۔ ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کےلیے کوئی وسائل نہیں تھے۔ اس میں کہا گیا کہ شہباز خاندان کے کنبے کے افراد اور بے نامی داروں کو اربوں کی جعلی غیر ملکی ترسیلات ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں ملی ہیں، ان ترسیلات زر کے علاوہ بیورو نے کہا کہ اربوں روپے غیر ملکی تنخواہ کے آرڈر کے ذریعے لوٹائے گئے جو حمزہ اور سلیمان کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع تھے۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کا کنبہ اثاثوں کے حصول کےلیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔ اس میں کہا گیا کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔ مذکورہ ریفرنس میں شہباز شریف ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف سمیت 10 ملزمان پر 11 نومبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
