اب جسمانی اعضا ہر کسی کو لگائے جاسکیں گے

صحتمند شخص اگرکسی مریض کو کوئی عضوعطیہ کرتا ہے تو کئی پیچیدگیاں پیش آتی ہیں جن میں بلڈ گروپ مختلف ہونے کی بنا پرایک شخص کا عطیہ دوسرے کو نہیں دیا جاسکتا۔ اب اینزائم تھراپی کی بدولت پیچیدہ اعضا بھی غیریکساں بلڈ گروپ والے افراد میں لگائے جاسکیں گے۔

اب کینیڈا میں مختلف اداروں کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کئی برس کی محنت کے بعد اینزائم ٹریٹمنٹ وضع کی ہے جس کے تحت ایک عضو کو عالمی او اقسام کے بلڈ گروپ والے مریضوں کو بحفاظت لگایا جاسکے گا، ہم جانتے ہیں کہ خون کے سرخ خلیات کی سطح پر اینٹی جِن ہی بلڈ گروپ کا تعین کرتے ہیں۔

کچھوے کی کھال والی بچی جو صرف 20 برس جی پائے گی

اے اینٹی جن کا مطلب اے گروپ ہوتا ہے، بی اینٹی جن کی بدولت خون کا بی گروپ بنتا ہے۔ اے بی بلڈ گروپ میں دونوں گروپ ہوتے ہیں اور او میں کوئی اے اور او اینٹی جن غائب ہوتے ہیں۔

اب خون کی منتقلی ہو یا پھر پیوندکاری ہو اگر خون کی قسم یکساں نہ ہو تو معاملہ پیچیدہ ہوسکتا ہے ۔ اس طرح مختلف گروپ والا عضو لگایا جائے تو بدن سب سےپہلے اس کا دشمن بن کر اسے مسترد کردیتا ہے۔

Back to top button