پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردی

پاکستان نے میزبان اور ثالث ملک ترکیہ کی درخواست پر افغان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
ذرائع کے مطابق، افغانستان کے ساتھ مذاکرات غیر نتیجہ خیز رہنے پر پاکستانی وفد کی آج وطن واپسی متوقع تھی، تاہم ترکیہ کے حکام کی درخواست پر وفد نے اپنا قیام استنبول میں بڑھا دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان حکام نے بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی سطح پر رابطے کیے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ترکیہ کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے کہ اس کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات نتیجہ خیز اور پائیدار ثابت ہوں۔
ذرائع کے مطابق، پاکستانی وفد جو واپس روانہ ہونے والا تھا، اب استنبول میں مزید قیام کرے گا تاکہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جا سکے اور امن کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔
مذاکرات کے دوران پاکستان اپنے اس مرکزی مطالبے پر قائم رہے گا کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف واضح، قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کرے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق، افغان فریق کے ساتھ ہونے والے آئندہ مذاکرات میں وہی پاکستانی حکام شریک ہوں گے جو پہلے بھی اس عمل کا حصہ تھے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے اعلان کیا تھا کہ استنبول میں ہونے والے پاک-افغان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ 19 اکتوبر کو قطر کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس کے بعد سیز فائر میں توسیع بھی کی گئی تھی۔
