پاکستان کو غزہ انٹرنیشنل فوج کا حصہ کیوں نہیں بننا چاہیے؟

سینیر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ اسرائیلی اخبارات دعویٰ کررہے ہیں کہ پاکستان سمیت کچھ مسلم ممالک کی فوجوں کو غزہ میں قیام امن کیلئے تعینات کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ میں نے اس بارے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کیونکہ غزہ بھجوائی جانے والی انٹر نیشنل فورس کی ذمہ داریوں کا ابھی تعین نہیں ہوا۔ لہذا حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان کو ایسے کسی بھی معاملے سے دور رہنا چاہئے جس سے یہ تاثر ملے کہ وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ بیت المقدس پر قابض اسرائیل کی سہولت کاری کررہا ہے۔
روزنامہ جنگ کیلئے اپنے تجزیے میں ان کا کہنا ہے کہ میں نے ڈار صاحب کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اس بیان سے بھی آگاہ کیا جس میں اُس نے بڑے رعونت آمیز انداز میں کہا کہ اسرائیل فیصلہ کرے گا کہ کس مسلمان ملک کی فوج کو غزہ بھیجنا ہے اور کس مسلمان ملک کی فوج کو غزہ نہیں بھیجنا۔ ڈار صاحب نے کہا کہ ہم نے غزہ کیلئے انٹرنیشنل فورس میں اپنے فوجی دستے شامل کرنے پر آمادگی تو ظاہر کی ہے لیکن ہماری آمادگی اس فورس کی ذمہ داریوں کی نوعیت سے مشروط ہے۔ جب ذمہ داریوں کا فیصلہ ہوجائے گا تو ہم بھی کوئی فیصلہ کرلیں گے۔ پاکستان کے ارباب اختیار کو یاد رکھنا چاہئے کہ شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس میں ایک امن معاہدے کے بعد اسرائیلی یرغمالی رہا ہو گئے تو ان یر غمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل نے بڑی بے شرمی سے نا صرف غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کردی بلکہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا ۔
تحریک لبیک کی 350 مساجد پنجاب حکومت کی تحویل میں
حامد میر کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے پر قبضے کے اعلان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی پریشان کر دیا اور انہوں نے یقین دلایا کہ ایسا نہیں ہو گا ۔ ایسے میں کیا ہم صدر ٹرمپ پر یقین کر سکتے ہیں ؟ ٹرمپ امریکی تاریخ کے وہ واحد صدر ہیں جنہوں نے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا۔ جب وہ ایک طرف نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف شہباز شریف کی بھی تعریف کر ڈالتے ہیں تو ہم جیسے سادہ لوگ سوچ کے سمندر میں غوطے کھانے لگتے ہی۔ جب ہم سے کوئی عرب، ایرانی یا افغانی صحافی یہ پوچھتا ہے کہ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ نتین یا ہو اور شہباز شریف دونوں نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا تو ہمارا کوئی بھی جواب اُن کیلئے تسلی بخش نہیں ہوتا ۔ بہر حال ہم کسی کی نیت پر شک کئے بغیر بڑے مودبانہ انداز میں عرض کریں گے کہ پاکستانی فوج کو غزہ بھیجنے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر ہونا چاہیے۔ ہماری فوج کا اصل کام پاکستان کی سرحدوں کا دفاع ہے ۔ پہلے پاک افغان سرحد کو تو محفوظ بنا لیں ۔ بعد میں کسی اور طرف کا رخ کریں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ غزہ کے فلسطینی پاکستان کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اگر تو پاکستانی فوج کو غزہ کے فلسطینیوں کی حفاظت اور مدد کیلئے بھیجا جاتا ہے تو بہت اچھی بات ہے۔ ایسی صورت میں پاکستانی فوج کو اقوام متحدہ کی چھتری تلے بھیجنا زیادہ مناسب ہے اور اس امن فوج کی کمان بھی کسی مسلمان فوجی افسر کے پاس ہونی چاہئے۔ لیکن اگر پاکستانی فوج کو حماس کے خلاف آپریشن کیلئے بھیجا گیا اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی کارروائی کا حصہ بنایا گیا تو مقامی آبادی شدید مزاحمت کریگی۔ غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو عرب ممالک کی حکومتوں سے بہت شکوے شکائتیں ہیں۔ آپ حماس کی پالیسی سے جتنا بھی اختلاف کریں لیکن غزہ کے فلسطینی حماس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر پاکستانی فوج کو کسی مغربی ملک کے فوجی افسر کی کمان میں غزہ بھیجا گیا تو اسرائیل کوئی نہ کوئی ایسی سازش ضرور کرے گا جسکے نتیجے میں مقامی فلسطینیوں اور پاکستانی فوج میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ پاک فوج نے مئی 2025 میں بھارت کو عبرتناک شکست دیکر جو مقام بنایا ہے اسے اسرائیلی سازشوں کے نشانے پر نہ لائیں ۔ ان کے مطابق صرف فلسطینی نہیں بلکہ عام پاکستانی بھی چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان کو غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں بلکہ بیت المقدس کی آزادی کیلئے بھیجا جائے ۔ یہ بات کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگے گی۔ لیکن کسی بھی شہر یا قصبے کے چوک میں کھڑے ہو کر عام پاکستانیوں سے پوچھ لیں کہ پاکستانی فوج کو غزہ کیوں بھیجنا چاہئے؟ اکثریت کہے گی کہ اپنی فوج کو فلسطینیوں کی حفاظت اور بیت المقدس کی آزادی کیلئے بھیجیں۔
