پاکستان، ایران کنفیڈریشن کی تجویز

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ : روزنامہ جنگ
سوویت یونین کے توسیع پسندانہ عزائم کے پیش نظر پاکستان، ایران، عراق، ترکی اور برطانیہ نے 1955ء میں بغداد پیکٹ نامی دفاعی معاہدے پر دستخط کئے جو آگے چلکر سینٹرل آرگنائزیشن ٹریٹی یعنی ”سینٹو“ کہلایا۔ 14جولائی 1958ء کو اس حوالے سے ہونیوالے ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کیلئےصدر پاکستان میجر جنرل اسکندر مرزا کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کے ہمراہ استنبول میں موجود تھے۔ شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی بھی اس اجلاس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے تھے۔ اچانک خبر ملی کہ عراقی فوج کے کمیونزم سے متاثر فوجی افسروں نے ہاشمی حکومت کیخلاف بغاوت کردی ہے اور عراقی فرمانروا شاہ فیصل ثانی کو شاہی خاندان کے تمام افراد اور عراقی وزیراعظم نوری السعید سمیت قتل کردیا گیا ہے۔ دراصل عراق میں شریف مکہ کے پوتے شاہ فیصل حکمران تھے جو اُردن میں تخت نشین شاہ حسین کے کزن تھے۔ شاہ حسین نے شاہ فیصل کیساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے پر دستخط کر رکھے تھے جولائی 1958ء میں شاہ فیصل نے 42سالہ میجر جنرل عبدالکریم قاسم کی سربراہی میں فوجی دستے اردن روانہ کئے تاکہ شاہ حسین کیخلاف ممکنہ بغاوت کو کچلا جا سکے۔میجر جنرل عبدالکریم قاسم کی قیادت میں اردن کی طرف پیشقدمی کر رہی فوج نے اچانک منزل تبدیل کرکے واپس بغداد کا رُخ کر لیا۔ میجر جنرل عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف کی قیادت میں یہ فوجی دستے14جولائی 1958ء کی صبح بغیر کسی مزاحمت کے بغداد میں داخل ہوگئے اور وہاں اہم عمارتوں اور سرکاری دفاتر پر قبضہ کرلیا۔ ایک شاہی باورچی جو جان بچا کر انقرہ کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوا اس نے فوجی انقلاب کی رودادد سنائی تو یہ تفصیل ٹائم میگزین میں شائع ہوئی۔ یہ بہت خونریز فوجی بغاوت تھی۔ عراقی فوج نے 23سالہ بادشاہ فیصل اور انکے چچا 46سالہ ولی عہد شہزادہ عبداللہ کو قتل کر دیا۔ شاہی محل کی کئی خواتین کو بھی ماردیا گیا۔عراقی وزیراعظم نوری السعیدی جو بھیس بدل کر برقع پہن کر چند خواتین کے ساتھ فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، انکا پیرہن نوچ کرنیزے کی نوک میں پرو دیا گیا اور پھر ان لاشوں کو نشانِ عبرت کے طور پر نہ صرف سڑکوں پر گھسیٹا گیا بلکہ کئی دن تک اُلٹا لٹکا کر رکھا گیا۔ عراق میں عنان اقتدار پر قابض باغی فوجی افسروں میجر جنرل عبدالکریم اور کرنل عبد السلام عارف نے بغداد پیکٹ دفاعی معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا توامریکی وائٹ ہاؤس اور پینٹا گون میں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کے پاکستان کے صدر اسکندر مرزا سے بہت قریبی مراسم تھے مگر انہیں معلوم تھا کہ اصل حکمران جنرل ایوب خان ہیں۔ چنانچہ شاہ ایران نے عراق کی فوجی بغاوت سے گھبرا کر پاک فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کو ایران اور پاکستان پر مشتمل کنفیڈریشن تشکیل دینے کی پیشکش کی جسکے سربراہ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی ہوں اور دونوں ملکوں کی مشترکہ فوج کے سپہ سالار جنرل ایوب خان ہوں۔یہ تجویز محض سرسری نوعیت کی نہیں تھی کیونکہ تب مصر اور شام نے یونائیٹڈ عرب ری پبلک کے نام سے اتحاد کررکھا تھا،عراق اور اردن کنفیڈریشن شمار ہوتے تھے۔ ترکی نیٹو میں شامل ہوچکا تھا،پاکستان اور ایران دو ایسے اہم ممالک تھے جنکی کوئی صف بندی نہیں تھی مگرایوب خان نے شاہ ایران کی اس بات کا کوئی حتمی جواب نہ دیا اور پاکستان واپس آکر بھی شاہ ایران کی پیشکش سے متعلق کسی کو کچھ نہ بتایا۔جنرل ایوب خان یہ پیشکش ہرگز قبول نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ تو خود بادشاہ سلامت بننے کے خواہاں تھے۔پاکستان کی طرف سے مایوس ہونے کے بعد شاہ ایران نے امریکہ سے اُمیدیں وابستہ کرلیں مگر وہاں سے بھی کچھ نہ ملا۔ 9مارچ 1956ء کو بغداد پیکٹ سے متعلق کراچی میں ہونیوالے اجلاس کے دوران شاہ ایران کی گورنر جنرل ہاؤس میں امریکی وزیر خارجہ John Dullesسے ملاقات ہوئی جس میں شاہ ایران نے ایران کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایران دنیا کے نقشے پر بہت اہم ملک ہے لہٰذا امریکہ اسے اپنا دفاع مضبوط بنانے کیلئے 75ملین ڈالر سالانہ امداد دے۔امریکی وزیر خارجہ نےکہا ہر ملک کا یہی دعویٰ ہے،حتیٰ کہ میزبان ملک یعنی پاکستان کا بھی یہی موقف ہے کہ وہ سوویت یونین کے خلاف بہت اہم مورچہ ہے۔ امریکہ کی طرف سے مسلسل نظر انداز کئے جانے کے باوجود شاہ ایران مایوس نہیں ہوئے۔معروف مصنف Dilip Hiro اپنی کتاب Iran under the ayatollahs میں لکھتے ہیں کہ جولائی 1958ء میں عراقی بادشاہ فیصل دوئم کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد شاہ ایران نے امریکی صدر آئزن ہاور سے رابطہ کیا اوردو طرفہ دفاعی معاہدہ کرنے کو کہا مگر امریکی صدر نے انکار کردیا۔قیام پاکستان کے بعد مئی 1950ء میں ایران کیساتھ فرینڈ شپ ٹریٹی اور پھر مارچ 1956ء میں کلچرل ٹریٹی پر دستخط کئے گئے۔افغانستان کیساتھ پاکستان کا سرحدی تنازع چل رہا تھا مگر ایران جسکے ساتھ پاکستان کی 909کلومیٹر طویل سرحد ہے،یہاں کسی قسم کا اختلاف رائے نہ ہوا اور6فروری 1958ء کو سرحدی حد بندی پر اتفاق ہوگیا۔ بعد ازاں جنرل ایوب خان بزعم خود فیلڈ مارشل بن گئے اور صدر اسکندر مرزا کو گھر بھیج کر عنان اقتدار پر قبضہ کرلیا تو اسکے بعد بھی شاہ ایران کی طرف سے پاکستان کی طرف پیشقدمی کا سلسلہ جاری رہا۔ ایوب خان نے1959ء میں9 سے 18نومبر تک ایران کا 8روزہ سرکاری دورہ کیا۔ ایوب خان کا ایران میں نہایت پرتپاک استقبال ہوا، وہ کئی شہروں میں گئے، مشہد، اصفہان اور شیراز میں ہونیوالی تقریبات میں شرکت کی، امام رضا کے روضہ پر حاضری دی، انہوں نے اسپورٹس فیسٹیول دیکھے، ملٹری ڈرل کا معائنہ کیا،تہران یونیورسٹی سے انہیں اعزازی ڈگری دی گئی۔ اس موقع پر تقریریں کرتے ہوئے،ایوب خان نے کہا، آپ کا اور ہمارا عقیدہ ہی نہیں ثقافت اور تہذیب بھی ایک ہے، آپ کا لٹریچر ہمارا ادب ہے،آپ کے ہیروز ہمارے ہیروز ہیں، آپ کے دوست ہمارے دوست اور آپ کے دشمن ہمارے دشمن ہیں۔ پوری دنیا کی نظریں اس دورے پر مرکوز تھیں مگر بعد ازاں جب ایوب خان نے عرب ممالک سے دوستی اور تعلقات بڑھائے تو شاہ ایران کسی حد تک خفا ہوگئے۔
