پاکستانی میڈیکل سٹوڈنٹس چینیوں کے ہاتھوں رل گئے

تین سال قبل چین کے میڈیکل کالجز میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے داخلہ لینے والے پاکستانی طلبہ واپس چین جانے کے خواہش مند ہیں کیونکہ پاکستانی حکام میڈیکل کی آن لائن تعلیم کو تسلیم نہیں کرتے جبکہ چینی تعلیمی ادارے کرونا وبا کی وجہ سے اب طلبہ کو صرف آن لائن تعلیم ہی آفر کر رہے ہیں،

ایسے میں کرونا کے باعث پاکستان واپس آنے والے میڈیکل کے طلبہ کو اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے

متاثرین میں سے بہت سے طلبہ مدد مانگنے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی مل چکے ہیں، لیکن وہ بھی انہیں ٹال دیتے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کرونا کے آغاز میں بھی پاکستانی حکومت نے ووہان میں پھنسے طالب علموں کی وہاں سے نکالنے کی درخواست اس لئے مسترد کر دی تھی کہ پاکستان اس مشکل وقت میں پاکستانی طلبا کو ووہان سے باہر نکال کر چینی حکومت کو برا محسوس نہیں کروانا چاہتا تھا۔اس صورت حال میں پاکستانی طالب علم یا تو صبر کر سکتے ہیں یا اپنی کوششوں کا رخ چینی حکومت کی طرف موڑ سکتے ہیں، اس کے لیے وہ چینی میسجنگ ایپ وی چیٹ یا چین میں ٹوئٹر کے متبادل ’ویبو‘ پر کیمپین چلا سکتے ہیں، لیکن اس صورت میں انہیں سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس چین میں کرونا کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن اس کے باوجود چینی حکومت نے پاکستانیوں سمیت غیر ملکی طلبا کی یونیورسٹیوں میں واپسی کیلئے کوئی پالیسی جاری نہیں کی، کرونا سے قبل چینی جامعات میں پانچ لاکھ کے قریب غیر ملکی طلبا زیر تعلیم تھے جو اب بھی چینی حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ غیرملکی طلبا کی چین آمد کا سلسلہ دو سال سے زیرو ٹالرینس پالیسی کی وجہ سے رکا ہوا ہے، چین نے کرونا کی وجہ سے مارچ 2020 میں چینی جامعات میں زیرِتعلیم ان تمام بین الاقوامی طالب علموں کے سٹوڈنٹ ویزے کینسل کر دیئے تھے، جو اُس وقت چھٹیوں یا کرونا کے باعث اپنے ملکوں میں موجود تھے، انہیں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے گھروں میں حفاظت سے رہیں اور چین واپسی کے حوالے سے چینی حکومت کی نئی پالیسی کا انتظار کریں۔ دو سال بعد بھی چینی جامعات اور چینی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی طالب علموں کی واپسی کے حوالے سے کوئی پالیسی جاری نہیں کی گئی ہے جبکہ حکومت، جامعات اور چینی سفارت خانے اسے حوالے سے کوئی بیان بھی جاری نہیں کر رہے ہیں، چین میں زیر تعلیم نصف سے بھی زائد طلبا کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے۔

2019 تک چینی جامعات میں پاکستانی طالب علموں کی تعداد 28 ہزار تھی، چین میں آخری دفعہ ستمبر 2019 میں عالمی طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے مدعو کیا گیا، اس کے بعد سے چینی جامعات ہر سال نئے طالب علموں کو داخلے بھی دے رہی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے والے طالب علموں کو گریجویٹ بھی کر رہی ہیں جو طالب علم چین میں موجود نہیں ہیں، ان کے لیے یہ سارا عمل آن لائن ہو رہا ہے۔جن طالب علموں کا سال 2020 میں دو سالہ ڈگری میں داخلہ ہوا تھا، وہ اس سال جولائی میں چین آئے بغیر ہی گریجویٹ ہو جائیں گے۔اس مشکل صورت حال کے شکار طالب علم گذشتہ کئی ماہ سے سوشل میڈیا پر #TakeUsBackToChina #TakeStudentsBackToChina کی مہم چلا رہے ہیں۔

Pakistani medical students fell into the hands of Chinese video

Back to top button