برونائی کی شہزادی کی 10 روزہ شاہی شادی کی تقریب

دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے برونائی کے سلطان کنگ حسن البلقیہ کی بیٹی شہزادی فضیلہ نے عراق کے ایک غیر معروف شہری عبداللہ الہاشمی سے پسند کی شادی کر لی ہے۔ شہزادی فضیلہ برونائی کی قومی نیٹ بال ٹیم کی کپتان بھی ہیں اور برطانیہ کی کنگسٹن یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کر چکی ہیں۔

ان کے شوہر کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں بس یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ عراق سے تعلق رکھتے ہیں مگر کینیڈا میں مقیم ہیں۔شادی کی 10 روزہ تقریبات کا انعقاد 16 جنوری ہوا 26 جنوری تک ہوا۔ برونائی کے سلطان 20 ارب ڈالرز سے زیادہ کے مالک ہونے کے باعث دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔

36 سالہ شہزادی فضیلہ سلطان کی 12 اولادوں میں 9 ویں نمبر پر ہیں۔ ان کی والدہ حاجہ مریم کی سلطان سے علیحدگی 2003 میں ہوگئی تھی۔ اس جوڑے کے 4 بچے ہیں جن میں 30 سالہ شہزادہ متین بھی ہیں جو انسٹاگرام اسٹار بھی سمجھے جاتے ہیں۔ شادی کی حتمی تقریب سلطان کی رہائش گاہ آستانہ نورالایمان میں ہوئی جو دنیا کے چند بڑے محلوں میں سے ایک ہے جس میں 1700 کمرے اور ایک بینکوئٹ ہال ہے۔

کیا پاک بھارت فضائی راستے بحال ہونے والے ہیں؟

شادی کی ایک تقریب برونائی کے دارالحکومت کی معروف عمر علی سیف الدین مسجد میں ہوئی۔ شہزادی فضیلہ کا عروسی لباس ملائیشین ڈیزائنر برنارڈ چندرن نے ڈیزائن کیا جبکہ انہوں نے ایک تاج بھی پہنا جس میں ناشپاتی کی شکل کا ہیرا دل کی شکل کے ایک ہیرے کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ ایک تقریب کے دوران شہزادی نے جو تاج پہنا اس میں 6 قیمتی ترین زمرد جڑے ہوئے تھے۔

 یاد رہے کہ برونائی میں کوئی اپوزیشن جماعت نہیں یے اور یہاں کے عوام کی آمدن پر کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں۔ اس ملک میں صدر مملکت، بیک وقت وزیر اعظم، آرمی چیف، وزیر خزانہ اور مذہبی طبقے کا قائد بھی ہوتا ہے۔ اس وقت یہ تمام عہدے برونائی کے سلطان کنگ حسن البلقیہ کے پاس ہیں جو ذاتی طور پر لوگوں کو تمام اہم عہدوں پر مقرر کرتا ہے۔ اسی لیے زیادہ تر اعلی عہدے دار سلطان کے ہی رشتے دار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برونائی میں اتنی خوشحالی ہے کہ وہاں حزب اختلاف کی کوئی جماعت ہی نہیں ہے۔

Back to top button