کیا پاک بھارت فضائی راستے بحال ہونے والے ہیں؟

پاکستانی و بھارتی قومیں ایک دوسرے کے قریب آنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں لیکن اس عمل میں حکومتیں ہمیشہ آڑے آ جاتی ہیں، اب پاکستان ہندو کونسل نے ہندو، مسلم، سکھ زائرین کو بھارت کیلئے فضائی سفر کی اجازت دلوانے کیلئے پاکستانی حکومت کے ذریعے مودی سرکار کو تجویز پیش کر دی ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت سمیت تمام امور پر فی الوقت ہر طرح کے رابطے منقطع ہیں۔
پاکستانی ہندو کونسل نے حکومت پاکستان کے ذریعے بھارت کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے، کونسل نے مودی حکومت کے نام اپنے ایک مکتوب میں پاکستانی زائرین کو ہوائی جہاز سے سفر کرنے کی اجازت دینے کا کہا ہے۔
بھارت کے معروف انگریزی اخبار ‘دی ہندو’ نے بھارتی حکام کے حوالے سے اس خبر کو صفحہ اول پر شائع کیا، اس کے مطابق پاکستان ہندو کونسل نے ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھ زائرین کو ہوائی جہاز کے ذریعے بھارت سفر کرنے کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی۔ اخبار نے بھارتی حکام کے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ پاکستانی ہندو کونسل کے صدر رمیش وانکوانی نے یہ تجویز اپنے ایک مکتوب کے ذریعے بھارت کو پیش کی، جسے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بھارتی وزارت خارجہ کو بھیجا ہے۔
رمیش وانکوانی نے اپنے خط میں لاہور اور کراچی سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے دو چارٹرڈ طیاروں کو زائرین کو لے کر بھارت آنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔اخبار حکومتی ذرائع کے حوالے سے لکھتا ہے کہ یہ تجویز بھارتی حکام کو پیر کے روز ہی موصول ہوئی تاہم ذرائع نے یہ کہتے ہوئے محتاط رویہ اپنایا کہ نئی دہلی میں ابھی اس تجویز کو بہت سی منظوریوں سے گزرنا ہوگا.
بلوچستان:چیک پوسٹ پر حملے میں 10 جوان شہید
پاکستان ہندو کونسل کے صدر رمیش وانکوانی نے اس سلسلے میں دی ہندو اخبار سے فون پر بات چیت کی اور اپنے مکتوب کے ذریعے مودی حکومت کو بھیجی گئی تجاویز کی تصدیق کی۔
رمیش کا کہنا تھا مجھے پوری اُمید ہے کہ ہم اجمیر شریف، نظام الدین اولیاء کی درگاہ اور دیگر مزارات کا سفر کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے یہ باہمی دورہ ہوائی جہاز کے ذریعے کرائیں گے، اور اس طرح کی پہلی پرواز ہم خود لے کر جائیں گے۔
پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق پاکستانی زائرین کا یہ سفر 29 جنوری سے یکم فروری کے درمیان ہونا ہے، جس میں وہ بھارت کا چار روزہ دورہ کریں گے۔ اس میں جے پور، اجمیر، دہلی، آگرہ اور ہری دوار جیسے شہر شامل ہیں۔
اگر بھارت پاکستان ہندو کونسل کی اس تجویز کو منظور کر لیتا ہے، تو سن 2019 میں دونوں ملکوں کے درمیان پروازوں کا آپریشن معطل ہونے کے بعد سے پی آئی اے کی یہ ایسی پہلی پرواز ہوگی جو بھارتی سرزمین پر اترے گی۔ اگر ایسا ہوا، تو تقسیم ہند یعنی 1947 کے بعد سے زائرین کو بھارت لانے والی اس نوعیت کی یہ ایسی پہلی پرواز ہوگی۔
