افغانستان میں TTP کے خلاف پاکستانی فوجی کارروائی کا امکان

چین کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے مابین ثالثی کی حالیہ کوششوں کے باوجود کابل اور اسلام آباد کے مابین تعلقات ابتر ہوتے چلے جا رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی ہے۔ یاد رہے کہ افغان طالبان کی حکومت پر تحریک طالبان کے دہشتگردوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ افغان سر زمین پر موجود ٹی ٹی پی کے دہشت گرد نیٹ ورک کیخلاف پاکستان کی جانب سے فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے معروف سیاسی تجزیہ کار اور سابقہ سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے روزنامہ ڈان کے لیے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اسی لیے چند روز پہلے وزیر اعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان اور تحریک طالبان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والے سرحد پار حملے ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔

ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ اس سے قبل دونوں ممالک کے حکام کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ اس برس اگست کے آخر میں افغان وزارت خارجہ نے پاکستان پر اس کے دو مشرقی صوبوں ننگرہار اور خوست پر فضائی حملے کرنے کا الزام لگایا اور اسے ’اشتعال انگیز عمل‘ قرار دیا تھقا جس میں افغان شہریوں کی جانیں گئیں۔ افغان وزیر دفاع محمد یعقوب نے کہا تھا کہ پاکستان اپنی سیکیورٹی کی ناکامیاں چھپانے کے لیے دہشتگردانہ حملوں کا الزام افغان سرزمین پر ڈال رہا ہے۔ لیکن پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے محمد یعقوب کے دعووں کا مسترد کرتے ہوئے اسے صورت حال کی سنگینی کو چھپانے کی کوشش قرار دیا تھق۔

یاد رہے کہ چار سال قبل طالبان کے کابل میں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد سے پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے نے کالعدم عسکریت پسند گروہوں کو دوبارہ منظم کرنے اور سرحد پار سے حملوں کو بڑھانے کے قابل بنایا ہے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستانی حکام اور طالبان حکام کے درمیان ٹی ٹی پی پر مذاکرات کے ان گنت دوروں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان نے بارہا کابل پر زور دیا کہ وہ ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرے، اس کے رہنماؤں کو گرفتار کرے اور اسکی پُرتشدد سرگرمیوں کو لگام ڈالے۔ جواب میں افغان طالبان رہنماؤں نے یقین دہانیاں کروائیں اور اس حوالے سے وقت بھی مانگا مگر انہوں نے عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ پاکستان کی جانب سے کابل کو سخت عوامی انتباہات کے باوجود، افغان طالبان حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کوئی معنی خیز کارروائی نہیں کی۔

سرحد پار عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، دہشتگردانہ حملوں میں اضافہ اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے پھر پاکستان کو افغانستان میں ٹی ٹی پی رہنماؤں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی کارروائی کرنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ ماضی کے برعکس اپریل 2024ء میں اسلام آباد نے باقاعدہ تسلیم کیا کہ اس نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اس پر کابل کی جانب سے سخت الفاظ میں ردعمل سامنے آیا اور سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ تاہم اسلام آباد نے خبردار کیا کہ جب تک تحریک طالبان کے دہشتگردوں گرد باز نہیں  آتے، تب تک پاکستان کی جانب سے ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

دسمبر 2024ء میں پاکستانی لڑاکا طیاروں نے صوبہ پکتیکا میں 4 مقامات پر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر غیر اعلانیہ فضائی حملے کیے تھے۔ پاکستان کی جانب سے یہ سٹرائیکس مکین میں ایک سرحدی چوکی پر ٹی ٹی پی کے حملے کے بعد کی گئیں جس میں 16 پاکستانی سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ اس کارروائی نے پاکستان کو جوابی کارروائی پر مجبور کیا۔ اسی کے ساتھ ہی پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندیاں سخت کر دیں۔ اسکے علاوہ دو طرفہ تجارت پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ پاکستان نے یہ قدم افغان طالبان کی حکومت پر ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر اٹھایا۔

بعدازاں پاکستان میں مقیم غیر دستاویز شدہ افغان شہریوں اور افغان شہری کارڈ رکھنے والوں کو ملک بدر کرنا شروع کر دیا گیا جو پاکستانی حکام نے چند سال پہلے جاری کیے تھے۔ اب تک تقریباً 12 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ تاہم رواں سال پاکستان نے اس دباؤ کی پالیسی سے ہٹ کر مراعات اور تنبیہ دینے کی پالیسی اپنائی۔ اس پالیسی نے امید باندھی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگا۔ اس کے بعد پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق نے اعتماد سازی کے لیے کابل کے کئی دورے کیے اور اپریل میں افغانستان کے وزیر تجارت نورالدین عزیزی کا دورہ اسلام آباد بھی ہوا۔ ان دوروں کا مقصد طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔ اس سلسلے میں چین نے بھی سفارت کاری کی۔

تازہ ترین سفارتی کوششوں میں سب سے اہم لمحہ اس وقت آیا جب پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اپریل 2025 میں کابل کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ اور ٹرانزٹ ٹریڈ مسائل پر پیش رفت ہوئی جن میں ترجیحی تجارتی معاہدہ اور افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے شامل تھے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی بتاتی ہیں کہ پاکستان نے اس سلسلے میں افغان طالبان کی بہت سی درخواستوں کو قبول کیا۔ جواب میں افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو مؤثر طریقے سے ’قابو‘ کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن سب کھوکھلے دعوے ثابت ہوئے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ اس کے باوجود پاکستان نے طالبان حکام کو بات چیت کے عمل میں شامل کرنے کی اپنی سفارتی حکمت عملی جاری رکھی۔ پاکستان نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کو اسلام آباد میں بات چیت کے لیے مدعو کیا اور اگست میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس سے قبل ان کے دورے کی تیاری کی۔ تاہم وہ یہ دورہ اقوام متحدہ کی جانب سے ان پر عائد سفری پابندی کی وجہ سے نہ کرسکے۔پاکستان نے امیر خان کو سفر کرنے کی اجازت دینے کے لیے سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی سے استثنیٰ طلب کیا جو نہ مل سکا۔ جولائی میں اسحٰق ڈار نے پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کے درمیان ایک ریل منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے کابل کا دورہ کیا جس کا مقصد علاقائی رابطوں کو فروغ دینا تھا۔ اس کے بعد اسحٰق ڈار سہ فریقی اجلاس کے لیے دوبارہ کابل گئے جوکہ 5 ماہ میں ان کا تیسرا دورہِ افغانستان تھا۔ تمام فریقوں کے مثبت عوامی بیانات کے باوجود، اجلاس اپنے ایجنڈے کے سب سے اہم مسئلہ یعنی سیکیورٹی کے حوالے سے بےنتیجہ رہا۔

پاکستانی اور چینی دونوں وفود اس نتیجے پر مایوس ہوئے۔ کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا گیا کیونکہ طالبان نے اس اجلاس میں ٹی ٹی پی کا نام لینے سے انکار کر دیا تھا۔ افغان طالبان کے اس انکار نے ثابت کیا کہ وہ تحریک طالبان کے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کے عزم سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ افغانستان سے سرحد پار سے مسلسل عسکریت پسند حملوں کی وجہ سے طالبان حکومت سے پاکستان کو جتنی مایوسی ہے وہ شاید پہلے کبھی نہ تھی لیکن اسلام آباد نے کابل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ اس سے تعلقات میں مذید خرابی کا خطرہ ہو سکتا ہے جو پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ طالبان سے تجارتی تعلقات منقطع کرنا اور انہیں الگ تھلگ کرنا کارگر ثابت نہیں ہوگا کیونکہ ماضی میں یہ طریقہ ان کے طرز عمل میں تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔ اس نے پاکستان کو مشکل صورت حال میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی کابل کو آگاہ کر دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی کاروائیاں پاکستان کو فوجی ردعمل دینے پر مجبور کربرہی ہیں لہذا ان کا راستہ روکا جائے ورنہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید ابتری کی طرف چلے جائیں گے۔ اب تک پاکستان کے ٹی ٹی پی کے خلاف فضائی حملے سرحدی علاقوں تک محدود ہیں۔ لیکن مستقبل میں پاکستان افغان سرزمین کے اندرونی علاقوں میں بھی حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

Back to top button