پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی کیوں تحلیل نہیں کریں گے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے اگلے چار ماہ تک پنجاب اسمبلی تحلیل نہ کرنے کے اعلان کے بعد عمران خان کی ایک اور دھمکی پنکچر ہوتی نظر آتی ہے جو ان کے لیے مزید خفت کا باعث بنے گی چونکہ وہ 20 دسمبر کے بعد دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان پر قائم ہیں۔ یاد رہے کہ عمران نے جلد نئے انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ آئین کے مطابق حکومت کی مدت ختم ہونے سے 6 ماہ پہلے اگر کوئی اسمبلی تحلیل ہو جائے تو ضمنی الیکشن نہیں ہوتے اور نئے الیکشن کا انعقاد اپنے وقت پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر بقول پرویز الٰہی اپریل تک اسمبلی توڑی نہیں جاتی تو پھر اس کی تحلیل کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب میں دقت یہ ہے کہ وہاں حکومت تو عمران کی جماعت کی ہے تاہم وزیرِ اعلیٰ پرویز الٰہی مسلم لیگ ق سے ہیں جس کے صوبائی اسمبلی میں صرف دس اراکین ہیں۔ یہ وہی پرویزالٰہی ہیں جنہیں ماضی میں عمران پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن پھر جب ضرورت پڑی تو گدھے کو باپ بناتے ہوئے انہوں نے پرویز کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار وزیرِاعلیٰ پرویز الٰہی کے پاس ہے۔ اس لئے سوال یہ ہے کہ کیا وہ عمران کے کہنے پر اسمبلی تحلیل کریں گے؟

پرویز الہٰی کی اب تک کی گفتگو سے تو ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ گزشتہ ماہ جیسے ہی عمران نے راولپنڈی کے جلسے میں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی حکمتِ عملی کا اعلان کیا، پرویز الٰہی نے کہا کہ وہ اسمبلی تحلیل کرنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں کریں گے۔ چند روز بعد ٹی وی چینلز پر انٹریوز کے دوران وہ اپنے اس بیان پر قائم تو نظر آئے لیکن ان کے خیالات میں تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ اب وہ سمجھتے ہیں کہ کم از کم اگلے چار ماہ تک انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں کیونکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تیاری کے لیے وقت درکار ہے۔ انتخابات آئندہ برس اکتوبر سے بھی آگے جا سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زخمی ہونے کے بعد عمران خان کی نقل و حرکت بھی اگلے چند ماہ تک محدود رہے گی چونکہ انہیں کھڑے ہونے میں تکلیف کا سامنا ہے۔ پرویز    نے یہ بھی بتایا کہ ’سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے انھیں پی ٹی آئی کی طرف جانے کا کہا تھا۔ انکے بقول اللہ نے ہمارا راستہ تبدیل کیا اور جنرل باجوہ کو بھیجا، ورنہ ہم تو مسلم لیگ ن کی طرف جا رہے تھے۔ اس سے پہلے ان کے بیٹے مونس الٰہی نے یہ انکشاف کیا تھا کہ انہیں عمران کا ساتھ دینے کے لئے جنرل باجوہ نے کہا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں باپ بیٹے نے یہ بیان جنرل باجوہ کی فرمائش پر دیے جنکا بنیادی مقصد عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے باجوہ پر ہونے والی تنقید کا راستہ روکنا تھا۔ پرویز اور مونس کے بیانات کے بعد عمران خان نے جنرل باجوہ پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق آرمی چیف نے ہمیشہ ان کے ساتھ ڈبل گیم کی اور انہیں دھوکہ دیا۔ انکا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینا انکی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ عمران نے یہ بھی کہا کہ باجوہ نے انکے اتحادیوں پر ان کا ساتھ چھوڑنے کیلئے دباؤ ڈالا۔ عمران کے مطابق اسی طرح ق لیگ کی آدھی قیادت کو پی ٹی آئی جبکہ آدھی کو پی ڈی ایم کی طرف جانے کا کہا گیا۔

ایسے میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آرہا ہے کہ عمران اور پرویز الٰہی کے مابین اختلاف شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ کیا  وزیرِاعلیٰ پنجاب عمران کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی ہدایت آنے پر اس پر عمل کریں گے؟ تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ پرویز الٰہی ایسا ہی کریں۔ وہ ان کو سمجھانے کی بھر پور کوشش کریں گے کہ اسمبلی تحلیل نہ کی جائے لیکن اگر اس کے باوجود بھی عمران اپنی بات کر قائم رہتے ہیں تو میرے خیال میں پرویز الٰہی اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔ ان دونوں کو پتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے۔ پی ٹی آئی پرویز الٰہی اور ان کی جماعت کی حمایت کے بغیر حکومت میں نہیں رہ سکتی اور پرویز الٰہی پی ٹی آئی کی حمایت کے بغیر وزیرِاعلیٰ نہیں رہ سکتے۔‘

لیکن سینئرصحافی حماد غزنوی اسکے برعکس سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے لیکن پرویز الٰہی کسی بھی صورت اپنا اقتدار اپنے ہاتھوں ختم نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق پرویزالٰہی کی جانب سے آخری لمحات میں پی ڈی ایم کا ساتھ چھوڑنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ ڈیڑھ سال کی حکومت چاہتے تھے جبکہ ان کو یہ تاثر تھا کہ شہباز حکومت تین ماہ بعد  نئے انتخابات کی جانب چلی جائے گی۔ ایسے میں وہ عمران کا ساتھ چھوڑنے کی بجائے دوبارہ پی ڈیم ایم سے ہاتھ ملانے کو ترجیح دیں گے تاکہ اقتدار میں رہیں۔ حماد غزنوی کے مطابق پرویز الٰہی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس روز انہوں نے پنجاب اسمبلی توڑ دی اس کے بعد عمران انہیں منہ لگانے کے بھی روادار نہیں ہوں گے لہذا ان کی حتیٰ الامکان کوشش ہوگی کہ اسمبلی نہ ٹوٹے۔

اسمبلی تحلیل کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری عرف مگے کا خیال تھا کہ ’پرویز الٰہی ہر کام اسٹیبلشمنٹ سے پوچھ کر اور بتا کر کرتے ہیں اور اسمبلی کی تحلیل پر بھی وہ وہی کریں گے جو فوجی اسٹیبلشمنٹ انہیں کہے گی۔اعجاز مگے کے خیال میں پرویز الٰہی کے حالیہ بیانات بھی شاید اسی وجہ سے ہیں کہ وہ نئی فوجی قیادت کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بیانات پی ڈی ایم کے مفاد میں تو ہو سکتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے مفاد میں نہیں۔ میرا ان کو مشورہ ہو گا کہ وہ ایسے بیانات دینے سے گریز کریں۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ق لیگ اور تحریکِ انصاف میں اختلاف بنیادی طور پر تین باتوں کے ارد گرد ہیں۔ پرویز الٰہی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان سے اچھے تعلقات رکھے جائیں لیکن عمران کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ پرویز الٰہی جنرل باجوہ کے کردار کے بہت معترف رہے ہیں لیکن عمران سابق آرمی چیف کی مخالف  میں بیانات دیتے رہے ہیں۔

اسحاق ڈار کے اثاثوں کی بحالی کیلئے مختلف اداروں نے کارروائی شروع کر دی

اس کے علاوہ عمران کے خیال میں ان کی جماعت کو فوری اسمبلیوں سے نکل جانا چاہیے اور نئے انتخابات کی کوشش کرنی چاہئے جبکہ پرویز الٰہی اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ سہیل وڑائچ کے بقول پرویز الٰہی سمجھتے ہیں کہ اگر اسمبلیوں سے نکل کر بھی جلد انتخابات کا مقصد پورا نہ ہوا تو سخت نقصان ہو سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ فوری طور پر اسمبلی کی تحلیل کے بھی حق میں نہیں۔

Back to top button