’پے پال‘ پاکستان میں اپنی براہ راست سروسز شروع کرنے سے گریزاں کیوں؟

پاکستان سے بیرون ممالک فری لانسنگ کا کام کرنے والے شہری یہ خبر سن کر اظہار مسرت کر رہے تھے کہ اب ’پے پال‘ پاکستان میں اپنی سروسز شروع کر رہا ہے، جس کے بعد انہیں کسی بھی ملک سے رقم ملنے میں آسانی ہو گی مگر بعد ازاں حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے کیونکہ پے پال پاکستان میں براہ راست اپنی سروسز شروع نہیں کر رہا بلکہ صرف تھرڈ پارٹی کے ذریعے ادائیگیاں کرے گا۔
وزارت آئی ٹی کے اعلی حکام کے مطابق پے پال اس وقت پاکستان نہیں آرہا لیکن اسٹریٹجک پارٹنر کے ذریعے پاکستان میں ادائیگیوں پر رضامندی ہوگئی ہے۔تھرڈ پارٹی کے ذریعے پاکستان میں صرف ادائیگیاں کی جائیں گی۔
خیال رہے کہ پے پال دنیا میں آن لائن رقوم اور ترسیل کے لیے سب سے بڑی امریکی کمپنی ہے جو دنیا بھر میں آن لائن رقم کی منتقلی کرتی ہے۔ کمپنی آن لائن وینڈرز، نیلامی سائٹس اور بہت سے دوسرے تجارتی صارفین کے لیے ادائیگی کے پروسیسر کے طور پر کام کر رہی جس کا وہ معاوضہ بھی لیتی ہے۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ پے پال کا تھرڈ پارٹی سے معاہدہ کب تک متوقع ہے؟
حکام کے مطابق پے پال کی تھرڈ پارٹی معاہدے کے حوالے سے تقریب 11 جنوری کو ہوگی۔ پے پال پاکستان میں براہ راست اپنی سروسز شروع کرنے کی بجائے پائیونیر نامی موجودہ ادائیگیوں کی سروس کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے کام کرے گی۔ دونوں کمپنیوں کی شراکت داری سے ہے پال کو پائیونیر کے صارفین کو ادائیگی کی اجازت مل سکے گی۔تھرڈ پارٹی کے ذریعے بھی ادائیگیوں سے فری لانسرز کو فائدہ ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پے پال کی مکمل سروسز شروع کرنے کے لیے حکومتی سطح پر سالوں سے کوششیں جاری ہیں۔ اس سے قبل وزارت آئی ٹی کے قلمدان سنبھالنے والے وزراء پے پال کو پاکستان لانے میں حائل رکاوٹییں دور کرنے پر زبانی جمع خرچ کرتے رہے مگر عملاً ایسا کچھ نہ ہو سکا۔پے پال کا پاکستان میں کام شروع نہ کرنا بنیادی طور پر الیکٹرانک منی اداروں کے لائسنسنگ نظام سے وابستہ سمجھی جانے والی پابندیوں، منی لانڈرنگ کے خدشات اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان پر عائد پابندیوں سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں فری لانسنگ کے ذریعے کام کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں فری لانسرز کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ پاکستان کو دنیا میں چھوتھی بڑی مارکیٹ بناتا ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان کی سربراہ نگہت دادکے مطابق اس وقت پے پال کی تھرڈ پارٹی کے ذریعے اپنی سروسز مستقبل میں پے پال کی براہ راست سروسز کا موجب بن سکتی ہے۔’پاکستان کو آئی ٹی کے شعبے میں ترقی کے لیے پائیدار پالسیوں پر کاربند رہنے کی ضرورت ہے۔ جب تک باہر سے آنے والی کمپنیوں کے تحفظات دور نہیں کیے جائیں گے عالمی کمپنیاں یا تو پاکستان آئیں گی نہیں یا پھر مشروط طور پر اپنی سروسز فراہم کریں گی۔‘
دوسری جانب ماہر آئی ٹی امور مسعود رضا کے مطابق پے پال کی پاکستان میں براہ راست سروسز شروع کرنے میں بڑی رکاوٹ سکیورٹی مسائل ہیں۔ پاکستان میں منی لانڈرنگ اور اس پر فیٹف کے تحفظات عالمی کمپنی کی عدم دلچسپی کی وجہ ہے۔’حکومتی سطح پر پے پال کے ساتھ براہ راست معاہدہ کرنے کی ضرورت ہے جس میں کمپنی کو یقین دہانی کروائی جائے کہ ہم صارفین کی اسکروٹنی کریں گے تا کہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی
میں ملوث نہ ہوں۔‘
