افغان حکومت سے امن معاہدہ: پاکستان نے کابل کو کیا دھمکی دی؟

پاکستان نے دوحہ مذاکرات کے دوران افغان حکام پر واضح کر دیا ہے کہ انہیں یا تو افغانستان میں موجود تحریک طالبان کی مطلوب دہشت گرد قیادت اسلام آباد کے حوالے کرنا ہو گی، اور یا پھر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کے ٹی ٹی پی کے جنگجو سرحد پار کر کے پاکستان میں مزید کوئی واردات نہ کریں، ورنہ جنگ بندی کا فوری خاتمہ ہو جائے گا اور افغانستان پر فضائی بمباری دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
باخبر ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے دوحہ مذاکرات کے دوران افغان حکام پر واضح کیا کہ ان کی عبوری حکومت کا ماضی وعدوں کی پاسداری کے حوالے سے کافی داغدار ہے لہذا یہ نہ سمجھا جائے کہ وقتی ریلیف کے لیے پاکستان سے امن معاہدہ کر کے ملک مشکل وقت گزار کیا جائے گا اور بعد میں دوبارہ پنگے بازی شروع ہو جائے گی۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ اسلام اباد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اب اگر سرحد پار تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کوئی ایک بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوا تو جواب میں افغانستان پر 10 فضائی حملے کیے جائیں گے۔
گزشتہ چار سال سے دنیا افغان طالبان سے توقع کر رہی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ 2020 میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت ہوئے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔ تاہم انہوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کابل پر قبضہ کر لیا اور اپنی عبوری حکومت قائم کر لی۔ 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت کابل میں ایک حقیقی نمائندہ حکومت قائم ہونا تھی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو پایا، اسکے علاوہ خواتین کے حقوق کا احترام کرنے کی بجائے ان کی مسلسل پامالی کی جانب رہی ہے۔ معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں کو آپریٹ نہیں کرنے دیا جائے گا لیکن تمام تر وعدوں کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے۔
خیبرپختونخوا کی بلٹ پروف گاڑیاں بلوچستان کو دی جائیں جائیں : وزیراعلیٰ بلوچستان
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں افغانستان کی طالبان حکومت بھارت کے ایما پر پاکستان کے ساتھ مسلسل پنگے بازی کر رہے ہیں لہذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ افغان طالبان اب بھارت کیساتھ یاری ڈال رہے ہیں حالانکہ ماضی میں انڈیا ہی ان طالبان کو پاکستان کی پراکسی قرار دیتی تھی۔ طالبان حکومت کا یہ موقف ہے کہ ان کی بھارت کے ساتھ قربت کا مقصد نہ صرف صحت، تعلیم اور بنیادی انفرااسٹرکچر میں انڈیا کی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانا ہے بلکہ یہ بتانا بھی ہے کہ پاکستان کا دشمن افغانستان کا دوست ہے۔
دوسری جانب بھارت جو ماضی میں طالبان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے، اس نے اپنی پالیسی یکسر بدل دی ہے تاکہ وہ طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکے، بالکل اسی طرح جیسے طالبان بھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ بھارت کو امید ہے کہ وہ طالبان کو پاکستان سے مزید دور لے جاسکے اور حتیٰ کہ چین کے اثر سے بھی نکال سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی دوہری چال کا دوسرا رخ ان کی جارحانہ عسکری کارروائیوں میں اضافہ ہے جس کا مقصد پاک-افغان سرحد غیر مستحکم کرنا ہے۔ افغان حکومت کی جانب سے تحریک طالبان کی مسلسل سرپرستی پر ہونے والی مسلسل احتجاج کو اب تک نظر انداز کیا جا رہا تھا لہذا فوجی قیادت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور طالبان دہشت گردوں کے حملوں کے جواب میں کابل اور قندھار پر شدید بمباری کی گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب قطر اور ترکی جیسے ممالک نے ثالثی کرتے ہوئے پاک افغان سیز فائر کروا دیا۔
