کیا پیپلز پارٹی اپنی اتحادی نون لیگ کو واقعی بلیک میل کر رہی ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ یپلز پارٹی مرکز اور پنجاب مین نون لیگ کی اتحادی بن کر مسلسل بلیک میلر والا کردار ادا کر رہی ہے جو افسوسناک امر یے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کئی برسوں سے سیاست کا چلن یہ ہے کہ سیاسی گفت و شنید اور مار دھاڑ پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی کے درمیان ہی ہو رہی ہے۔ ان جماعتوں کے درمیان ہر موضوع پر وہ اکھاڑہ سجتا ہے کہ کسی اور بحث کی گنجائش ہی نہیں بچتی۔ عوام الناس بھی سیاسی صورت حال کو انہی دو جماعتوں کے نقطہ نظر سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ لوگ کسی بھی قضیے پر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس مسئلے پر عمران خان کیا کہتے ہیں یا میاں صاحب کیا چاہتے ہیں؟ اس سے زیادہ سیاسی بصیرت ہماری عوام میں ہے ہی نہیں۔

عمار مسعود کے مطابق اپنے لیڈران کی پوجا پاٹ میں وہ اس قدر مشغول رہتے ہیں کہ انہیں بسا اوقات سامنے کی بات سجھائی نہیں دیتی۔ آپ خود سوچیے کہ دو سیاسی ہاتھیوں کی لڑائی کا فائدہ کس سیاسی قوت کو ہو رہا ہے؟ اس کی طرف کبھی کسی کی نظر گئی ہے؟ کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ان دو فریقوں کو دست و گریبان کرکے کون اپنا الو ہر مرحلے پر سیدھا کر رہا ہے؟ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ یہاں ذکر ف2جی اسٹیبلشمنٹ کا ہے مگر نہیں صاحب اور بھی دکھ ہیں زمانے میں۔ پیپلز پارٹی وہ سیاسی جماعت ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے صرف فائدے میں ہے۔ نہ وہ انقلاب لاتے ہیں نہ ان انقلاب کے سامنے بند باندھتے ہیں۔ نہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں نہ ان کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں، نہ حکومت کا ساتھ دیتے ہیں نہ حکومتوں کا ساتھ چھوڑنے کا عندیہ دیتے ہیں۔ نہ عوام کی آواز بنتے ہیں نہ عوام کے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ نہ انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں نہ انسانی حقوق کا نعرہ لگانا چھوڑتے ہیں۔ کسی بھی معاملے میں نہ واضح موقف اختیار کرتے ہیں نہ دوٹوک بات کرتے ہیں۔

عمار مسعود کے مطابق اس جماعت میں وقتاً فوقتاً وزیراعظم بلاول بھٹو کا نعرہ لگتا ہے، روٹی کپڑے اور مکان کا وعدہ دہرایا جاتا ہے، بھٹو کے زندہ ہونے کے ثبوت بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جماعت اب صرف موقع کی تلاش میں ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جو نہ کسی نظریے کا بوجھ سہار سکتی ہے اور نہ ان سے کبھی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جا سکتا ہے۔ ن لیگ کی 16 ماہ کی حکومت کا سارا بوجھ ن لیگ نے خود اٹھایا، کسی نے سوال نہیں کیا کہ بلاول بھٹو خود اس کی کابینہ میں دنیا بھر کے دورے کرتے رہے، اپنی پارٹی کے لوگوں کو من پسند وزارتیں دلواتے رہے اور اس کے بعد جب حکومت پر کڑا وقت پڑا اسی حکومت پر تنقید کرتے رہے جیسے اس حکومت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ یہ تعلق اور لاتعلقی ہی پیپلز پارٹی کی کچھ عرصہ سے شناخت اور سیاست ہے۔ آج بھی کسی کو نہیں معلوم پیپلز پارٹی کہاں پر کھڑی ہے؟ کیا حکومت کی اتحادی ہے یا نہیں۔ کیا کڑے وقت میں حکومت کا ساتھ دے گی یا مزید آئینی عہدوں پر بات کرے گی؟

عمران خان نے ایک بار پھرانتخابات کا مطالبہ کردیا

عمار مسعود کے بقول پیپلز پارٹی والے آج جو بیان دے رہے ہیں کہ ہم وزارتیں نہیں لیں گے تو کیا کل انہی وزارتوں کے لیے دست و گریباں نہیں ہو رہے ہوں گے؟ آج ن لیگ کے تعاون سے تمام آئینی عہدوں پر قبضے جما چکے ہیں تو کل انہی آئینی عہدوں کی وجہ سے ن لیگ کو دھمکا تو نہیں رہے ہوں گے۔ بنا کسی مؤقف اور نظریے کے یہ طرز سیاست پیپلز پارٹی کا کبھی طرز عمل نہیں رہا مگر شومئی قسمت اب یہی طرز سیاست پیپلز پارٹی کا منشور، منصب اور مقدور ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کے موجودہ طرز سیاست کو بلیک میلنگ کہا جائے یا جانے کسی اور نام سے پکارا جائے مگر یہ اس کے نظریاتی کارکنان کے لیے حوصلہ شکنی ہی ہے۔ وہ کارکن جو بھٹو کی فراست کے نغمے گاتا تھا، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی دلیری کے قصے سناتا تھا اب اسکے پاس سنانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس نے کبھی ایسی موقع پرست جماعت کا خواب نہیں دیکھا تھا جو موقع دیکھ کر محسنوں کی پیٹھ میں وار کرے۔ جو حق بات پر ہے جمالو کہنے سے انکار کرے، جسکی ساری سیاست ابہام، تذبذب اور بے یقینی کا شکار ہو، جس کے کاندھوں پر بدترین کارکردگی کا بوجھ ہو، جس پر بے پناہ کرپشن کے الزامات ہوں۔ جس کی صفوں میں ایک خاندان ہی مسلط ہو، جہاں آج بھی وڈیروں کی حکومت ہو، جہاں جمہور کی جماعت نام پر ایک خاندان کی اطاعت ہی سیاست ہو۔ جو 2 جماعتوں کی جنگ میں سے اپنا مفاد تلاش کرے۔

صافی کا کہنا ہے کہ حالات کی ستم ظریفی تو دیکھیں کہ کبھی ہم سب سے زیادہ سیاسی شعور رکھنے والے کارکن کو جیالا کہتے تھے اور اب  سیاست کی جنگ میں مال غنیمت سمیٹنے والے کو جیالا پکارا جاتا ہے۔ لوگ پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے دیکھتے ہیں کہ کون کون سے آئینی عہدے پر پیپلزپارٹی کے لوگ متمکن ہیں، کون کون سے اختیارات ان کے پاس ہیں۔ کس کس موقع پر یہ جماعت حکومت کو بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں رہتی ہے۔ کب کب بجٹ سے پہلے اس نے حکومت کی چیخیں نکلوا دیں۔ لیکن پیپلزپارٹی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ سندھ حکومت کی کارکردگی کو جانچا جائے، جو سب کے سامنے یے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصا آصف زرداری کی یہی حکمت عملی اور فہم و فراست دراصل سیاست کہلاتی ہے جو نون لیگ اور پی ٹی ائی کی قیادت نہیں سمجھتی۔

Back to top button