کیا پرویز خٹک بھی عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے والے ہیں؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اپنے بیانات، الزامات اور دھمکیوں کی وجہ سے اکثر تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ جہاں پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین گنڈاپور کی بدزبانی کا نشانہ بنتے رہتے ہیں وہیں کئی بار وزیر اعلی خیبرپختونخوا اپنی توپوں کا رخ پی ٹی آئی کے موجودہ یا سابقہ رہنماؤں کی طرف بھی موڑ لیتے ہیں۔ تازہ پیشرفت کے مطابق علی امین گنڈاپور نے پہلی بار اپنے سابق باس اور سابق وزیر اعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک پر عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا الزام لگا دیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے ایسا کرنے کی صورت میں پرویز خٹک کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی خاموش نہیں رہے۔ انہوں نے بھی الزام کا جواب دیا اور واضح کیاکہ نیب نے انہیں طلب کیا ہے اور وہ ضرور پیش ہوں گے اور وہ گنڈاپور جیسے لوگوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونگے۔
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے چند روز قبل سیاسی جلسے سے خطاب میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو آڑے ہاتھوں لیا اور الزام لگایا کہ پرویز خٹک عمران خان کے خلاف کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے جارہے ہیں۔انہوں نے پرویز خٹک کو ان پر عمران خان کے احسانات بھی یاد کرائے اور انہیں احسان فراموش قرار دیا۔ ساتھ ہی خبر دار کیاکہ اگر پرویز خٹک نے ایسا کیا تو صوبے میں ان کا داخلہ بند ہوگا۔
مریم نواز نے میٹرک پوزیشن ہولڈرز پر انعامات کی بارش کردی
علی امین کے الزامات کے بعد پرویز خٹک بھی کھل کر میدان میں آگئے۔ اور علی امین کو یاد دہانی کرائی کہ ان کا تعلق بھی خٹک قبیلے سے ہے وہ کھوکھلی بڑکوں اور دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں۔علی امین گنڈاپور کو دیے گئے جواب میں پرویز خٹک نے تصدیق کی کہ عمران خان کے کیس میں نیب نے انہیں طلب کیا ہے جس میں وہ نیب کے سامنے پیش ہوں گے۔ پرویز خٹک نے واضح کیاکہ ان کے سامنے کابینہ میں جو کچھ ہوا تھا وہ نیب کو بتا دیں گے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی امین اور پرویز خٹک کا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ سیاسی تنازع ہے جو صرف بیانات کی حد تک ہے۔ علی امین کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ کون کس کی ایما پر کہاں پیش ہوگا۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پرویز خٹک اس وقت سیاسی طور پر تنہا ہوگئے ہیں اور اپنی سیاسی بقا کے لیے لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پرویز خٹک کو تحریک انصاف یا عمران خان سے کچھ ملنے کی امید مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔’پرویز خٹک کو اگر اپنی بقا نظر آئی تو وہ ضرور گواہی دینے جائیں گے‘۔ پرویز خٹک کو اندازہ ہے کہ گواہی دینا کتنا اہم ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کے لیے بھی مشکلات ہو سکتی ہیں اور کوئی نیا محاذ کھل سکتا ہے۔ ’پرویز خٹک نے کون سے انکشافات کرنے ہیں، وہی بتانا ہے جو ان کے سامنے کابینہ میں ہوا تھا‘۔
مبصرین کے مطابق علی امین کی جانب سے دھمکی کے باعث پرویز خٹک پیچھے نہیں ہٹیں گے، کیونکہ لگ رہا ہے انہیں دوبارہ سے کچھ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ پرویز خٹک کا عمران خان کے خلاف گواہ بننا اہم ہے اور انہوں نے ایسے ہی اٹھ کر نیب میں پیش ہونے کا فیصلہ نہیں کیا، بلکہ انہیں کچھ دینے کی یقین دہانی ہوئی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ پرویز خٹک کے بارے میں سب کو پتا ہے کہ وہ کس طبیعت کے انسان ہیں۔ ’اگر کسی کا سوال بھی پرویز خٹک کو پسند نہ آئے تو وہ اس کا جواب نہیں دیتے، نیب میں گواہی مفت کبھی نہیں دیں گے‘۔انہوں نے کہاکہ پرویز خٹک مقتدر حلقوں سے ناراض ہیں جس کی بڑی وجہ انتخابات میں ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہ ہونا ہے۔ابھی تک عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف جانے پر پرویز خٹک نے نقصان ہی اٹھایا ہے، جس کا انہیں بھی اندازہ ہے، تاہم ان کی پارٹی میں واپسی بھی ممکن نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی نظریں مقتدر حلقوں پر ہی ٹکی ہوئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پرویز خٹک آرام کررہے ہیں اور جونہی انہیں دوبارہ موقع ملے گا وہ میدان میں نظر آئیں گے۔
