ادویات فروشوں نے پیناڈول گولیاں غائب کیوں کر دیں؟

پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے جہاں کے عوام کسی وبا میں مبتلا ہو جائیں تو بے حس اور لالچ کے مارے ادویات فروش پہلے اس مرض کی دوا غائب کرتے ہیں اور پھر اسے دو سے چار گنا زائد قیمت پر فروخت کر کے مال بناتے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے انہیں رتی بھر بھی شرم محسوس نہیں ہوتی حالانکہ انکے اس عمل سے سینکڑوں لوگ جانوں سے چلے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ ایک بار پھر پاکستان بھر میں بخار کی وبا پھیلنے کے بعد بڑھتا نظر آتا ہے کیونکہ پیناڈوال گولیوں کی مارکیٹ میں شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ اسی برانڈ کی پیناڈول ایکسڑا مارکیٹ میں موجود ہی نہیں۔
ایسے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پیناڈول کی دوبارہ قلت کی اصل وجوہات کیا ہیں اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ اسوقت حالات یہ ہیں کہ میڈیکل سٹورز والے گاہکوں کو پیناڈول کا صرف ایک پتا ہی دے رہے ہیں جبکہ پیناڈول ایکسٹرا دستیاب ہی نہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں اس وقت پیناڈول کا ایک پتا، جسکی اصل قیمت 20 روپے ہے، 40 سے 80 روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ میڈیکل سٹور والوں کو دس گولیوں کا پتا ہول سیلر سے 26 روپے میں مل رہا ہے جس پر وہ سینکڑوں گنا منافع کما رہے ہیں۔
کئی شہروں میں تو یہ صورتحال ہے کہ پیناڈول کی گولی واقعی مارکیٹ سے غائب ہوچکی ہے جس کے بعد سٹور والے اسکی جگہ گاہکوں کو پونسٹان کی گولی خریدنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ پاکستان میں پیناڈول گولی کی قلت کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل نومبر 2021 میں بھی اس کی قلت سامنے آئی تھی جس کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ڈریپ کی جانب سے مداخلت نے ہی اس کی دستیابی یقینی بنائی تھی۔
پاکستان میں پیناڈول گولی کی قلت پر تبصرہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کا کہنا یے کہ پیراسیٹامول کے خام مال کی آمد میں کمی اس قلت کی ایک اہم وجہ ہے۔ پاکستان ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر ادویات کی درآمدات چین سے ہوتی ہیں اور چین میں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے آدھی سے زیادہ انڈسٹریز بندش کا شکار ہیں جس کے باعث خام مال کی قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔
کراچی میں ڈرگ اسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین شیخ نے بتایا کہ ’پاکستان میں پیراسیٹامول کا خام مال چین سے درآمد کیا جاتا ہے وہاں فیکٹری کو حکومت نے آلودگی کی وجہ سے بند کر دیا ہے اور دیگر دو فیکٹریوں سے خام مال آ رہا ہے لیکن اس کی مقدار کم ہے۔ لہٰذا خام مال کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ دوا تیار نہیں کی جا رہی لہٰذا پیناڈول کے ساتھ بروفن کی بھی قلت کا سامنا ہے۔
سونے کی فی تولہ قیمت میں 1800 روپے کمی
صلاح الدین کے مطابق اس وقت پاکستان کے انڈیا سے تعلقات بہتر نہیں ہیں اس لیے وہاں سے خام مال منگوایا نہیں جا سکتا جبکہ پاکستان میں خام مال ذخیرہ کرنے کی سہولت نہیں اور نہ ہی حکومت ان ضروری ادوایات کا خام مال رکھتی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں اس کا استعمال کیا جا سکے۔
ادھر لاہور میں ڈرگ کورٹ میں ایک درخواست زیرسماعت ہے جس میں مدعی کا مطالبہ ہے کہ مصنوعی قلت کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ بلیک مارکیٹ کے باعث اس کی قلت پیدا کی گئی ہے۔ ڈریپ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ رواں سال چار کروڑ سے زیادہ پیناڈول ٹیبلٹس تیار کی گئیں تھیں۔ کمپنی کو مزید دو کروڑ پیناڈول بنانے کے لیے خام مال فراہم کیا گیا تھا لیکن یہ صرف 17 لاکھ سے گولیاں بنا سکی ہے۔
پاکستان میں جہاں گذشتہ سال نومبر سے پیناڈول اور بروفن کی قلت کی شکایات تھیں وہاں نئے سال کے پہلے ہی مہینے میں ڈریپ کی جانب سے نو سے 15 فیصد قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی گئی۔ تاہم اس اضافے کی واحد وجہ قلت نہیں۔ ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق انڈسٹری سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ بہت سی ادویات کم قیمت ہونے کی وجہ سے ان کی تیاری کاروباری لحاظ سے موزوں نہیں رہی اور ڈریپ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے مشکل فیصلے کو روکے رکھا۔
لیکن جب مارکیٹ میں جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی عدم دستیابی بڑھنے لگے گی تو مریضوں کے وسیع تر مفاد میں قیمتوں میں مناسب اضافے کا قدم اٹھایا گیا۔ تاہم ظلم کی بات یہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود وہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں اور مہنگے داموں بیچنے کے لیے ان کا ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔
