حکومت نے اسرائیل سے موبائل فون ہیکنگ ٹیکنالوجی خرید لی؟

  پاکستان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باجود موبائل فون ہیک کرنے کی ٹیکنالوجی خریدنے پر حکومت سخت تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین سوشل میڈیا پر حکومت کو اس معاملے پر آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں اور پاسپورٹ پر نمایاں الفاظ میں لکھا ہے کہ ’ اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے‘۔ اس کے باوجود پاکستان نے اسرائیلی فرم سے سیل فون ہیکنگ ٹیکنالوجی خریدی جو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے اور پولیس کے زیر استعمال ہیں۔اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فرم ” سیلیبریٹ ایشیا پیسیفک ‘ کی جانب سے ٹیکنالوجی ٹولز پاکستان کو سنگا پور میں موجود آفس کے ذریعے بیچے گئے۔ یہ ٹولز ایف آئی اے اور پولیس استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے اور پولیس 2012 سے اسرائیلی فرم کی مصنوعات استعمال کر رہی ہے۔ سیلسبرٹ ایشیا پیسیفک نے 2019 تک پاکستانی کمپنیوں ، ایف آئی اے کومصنوعات بیچیں۔ 2012 میں سندھ پولیس نے بھی اسرائیلی فرم کی یو ایف ای ڈی ٹچ الٹی میٹ ڈیوائس حاصل کی تھیں۔سیلبرائٹ کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے یہ آلات صرف سیکیورٹی اداروں کوفروخت کیے جاتے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی دہشت گردی سمیت سنگین جرائم سے مقابلے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔تاہم، دیکھا گیا ہے کہ یہی مصنوعات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی کچھ تنظیموں کے زیر استعمال بھی ہیں جو اس ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی حقوق کے کارکنوں، اقلیتوں اور دیگر پسماندہ کمیونٹیز کو پریشرائز کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بیلاروس، چین، یوگنڈا، وینزویلا، انڈونیشیا، فلپائن، روس، ایتھوپیا اور بنگلا دیش اسرائیلی فرم کے کلائنٹس میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ 2022 میں، امریکی محکمہ خارجہ کی پاکستان میں انسانی حقوق کے بارے میں 2022 کی رپورٹ میں کہا گیا: "انسانی حقوق کے اہم مسائل میں شامل ہے جن میں سے چند رپورٹ شدہ مسائل میں غیر قانونی قتل بشمول حکومت یا اس کے ایجنٹوں کی جانب سے ماورائے عدالت قتل؛ حکومت یا اس کے ایجنٹوں کی طرف سے جبری گمشدگی؛ تشدد اور حکومت یا اس کے ایجنٹوں کی طرف سے ظالمانہ، غیر انسانی، یا ذلت آمیز سلوک یا سزا کے مقدمات؛ جیل کے سخت اور جان لیوا حالات؛ من مانی حراست؛ سیاسی قید؛ دوسرے ملک میں مقیم افراد کے خلاف بین الاقوامی جبر؛ رازداری کے ساتھ من مانی یا غیر قانونی مداخلت؛ آزادی اظہار اور میڈیا پر سنگین پابندیاں، بشمول صحافیوں کے خلاف تشدد۔ شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فرم سیلیبریٹ ایشیا پیسیفک نے اسرائیلی اخبار کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی پاکستان کو براہ راست یا بالواسطہ فروخت نہیں کرتی تاہم اسرائیلی فرم سیلیبریٹ نے پاکستان کے لیے سنگاپور شپمنٹ سرٹیفیکیٹ اور پاکستانی سرکاری ٹینڈرز کے ساتھ تعلق کی

بلوچستان میں وفاداریاں تبدیل کرنے میں تیزی آنے لگی

وضاحت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

Back to top button