چیف جسٹس کو دھمکی دینے کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور

انسداد دہشت گردی عدالت نے چیف جسٹس پاکستان کےخلاف فتویٰ جاری کرنے کےمقدمے میں گرفتار ملزم کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کےحوالے کردیا۔
لاہور میں ٹی ایل پی کے رہنما مولانا طاہر سیفی کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیاگیا اور ان کی تقریر عدالت میں سنائی گئی۔دوران سماعت جج خالد ارشد نےملزم سےاستفسار کیاکہ آپ تو بہت جوش سےتقریر کرتےہیں،کیا یہ آپ کی تقریر ہے؟ اس پر ملزم نےکہا جی یہ میری ہی تقریر ہے۔
اگر کسی مدرسے میں ریاست دشمن چھپے ہیں تو ہم کارروائی کیلئے تیار ہیں: اتحاد تنظیمات المدارس
عدالت نے استفسار کیاکہ آپ چیف جسٹس پاکستان کے خلاف کیوں بول رہے ہیں ؟ملزم نےکہاکہ ہم چیف جسٹس کومحتاط ہونےکا مشورہ دےرہے ہیں،جو فیصلہ ہوا وہ آئین کےخلاف ہے، ابھی موقع ہےکہ چیف جسٹس فیصلے پرنظر ثانی کریں۔دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کوبتایا کہ ملزم کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ اور مائیکرو فون بھی برآمد کرناہے جس کےلیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔فریقین کےدلائل سننے کےبعد عدالت نےملزم کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا اور 6 اگست کو دوبارہ پیش کرنےکا حکم دیا۔
