پی آئی اے کی نجکاری لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج، فوری روکنے کی استدعا

قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے، جہاں درخواست گزار ایڈووکیٹ نبیل جاوید کاہلوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ چونکہ پی آئی اے اب منافع میں جا رہی ہے، لہٰذا اس کی نجکاری کا کوئی جواز نہیں بنتا اور حکومت کو یہ عمل فوری طور پر روکنے کا حکم دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کو پہلے ہی اس کی یونینز کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ نجکاری کے عمل میں شامل چار کنسورشیم نے پی آئی اے ہیڈ آفس اور دیگر اہم تنصیبات کا دورہ مکمل کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نجکاری کمیشن کے بورڈ نے اپنے 237 ویں اجلاس میں، جو وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا، ان چار دلچسپی رکھنے والے گروپس کی پری کوالیفیکیشن کی منظوری دی تھی۔

قبل ازیں، پی آئی اے کی نجکاری کے لیے 31 اکتوبر 2023 کو بولی کھولی گئی تھی، جہاں حکومت نے 60 فیصد حصص کے لیے 85 ارب روپے کی امید ظاہر کی تھی، تاہم ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سے صرف 10 ارب روپے کی پیشکش سامنے آئی۔

بعد ازاں، دبئی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بزنس گروپ "النہانگ گروپ” نے پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو واجبات سمیت 125 ارب روپے سے زائد کی بولی دی، ساتھ ہی ملازمین کی نوکریوں کو برقرار رکھنے اور تنخواہوں میں 30 سے 100 فیصد مرحلہ وار اضافے کی بھی پیشکش کی۔

تاہم، سابق وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد نے دسمبر 2023 میں حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو سبوتاژ کیا، حالانکہ تمام انتظامی اور تکنیکی امور مکمل کیے جا چکے تھے۔

Back to top button