نیب کے بعد فوجداری کیسز میں بھی پلی بارگین کی تجویز

پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیب قانون کی طرز پر فوجداری قوانین میں بھی سزا سے بچنے کے لیے ’پلی بارگین‘ کا حق دینے کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے جو قانونی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اس تجویز کے ناقد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پلی بارگین کے قانون کو صرف مالی معاملات کے تصفیے تک محدود رکھنا چاہیئے، تاہم حکومتی حلقوں کے مطابق یہ راضی نامے کی ہی ایک شکل ہے لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے عدالتوں پر بوجھ میں کمی آئے گی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کریمنل لاء اینڈ جسٹس ریفارمز کے تحت مختلف قوانین میں ترامیم کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے تیار کردہ ڈرافٹ کو وزیراعظم عمران خان نے منظور کر لیا ہے جس کی باضابطہ منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔ اس ڈرافٹ میں 600 سے زائد قوانین میں ترمیم اور نئے قوانین شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پاکستان میں پہلی مرتبہ فوجداری مقدمات میں بھی ’پلی بارگین‘ کا تصور پیش کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر قانون کی جانب سے تجویز کردہ ترامیم میں ضابطہ فوجداری میں نئے سیکشن 266 کا اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے مطابق ملزم جرم کو تسلیم کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست دائر کر سکتا ہے۔ اس سیکشن کا اطلاق سزائے موت یا سات سال سے زائد سزا کے جرائم پر نہیں ہوگا جبکہ خواتین اور 18 سال سے کم عمر کے خلاف کیے گئے جرائم پر بھی اطلاق نہیں ہوگا، جن میں ریپ، قتل، دہشت گردی، غداری اور دیگر سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔
سیکشن 266 کے مطابق پلی بارگین میں ملزم ٹرائل کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست دائر کرے گا جس کے بعد عدالت پراسیکیوٹر اور شکایت کنندہ کو نوٹس جاری کرے گی۔ عدالت کے اس بات پر مطمئن ہونے پر کہ ملزم کی طرف سے یہ درخواست رضاکارانہ بنیاد پر دی گئی ہے، عدالت کیس کے خاتمے کے لیے کام کرنے کی اجازت دے گی۔
کسی بھی ملزم کی ایک جیسے نوعیت کے مقدمات میں پلی بارگین کی درخواست ایک سے زائد بار آنے کی صورت میں عدالت معاملے کو ختم کر سکتی ہے۔ پلی بارگین کے لیے تمام فریقین کے درمیان تصفیہ ہونے کی صورت میں عدالت اس کیس کو ختم یا سزا میں کمی کر سکتی ہے اور تصفیہ نہ ہونے کی صورت میں کیس کو وہیں سے چلایا جائے گا جہاں سے پلی بارگین کی درخواست آئی تھی۔ تجویز کردہ ترمیم میں واضح کیا گیا ہے کہ پلی بارگین میں عدالت کے مطمئن ہونے پر ہی کیس ختم کیا جا سکے گا۔
راوی پراجیکٹ کو غیرقانونی قرار دینے کا فیصلہ چیلنج
اس سے قبل انسداد بدعنوانی قانون میں پلی بارگین کا تصور موجود ہے، جس کے تحت ملزم رضاکارانہ طور پر رقم کا کچھ حصہ لوٹانے کے بعد پلی بارگین یعنی عدالت سے سزا کم یا ختم کروا سکتا ہے۔ لیکن نیب کے اس قانون پر بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ نیب کے سابق ایڈیشنل پراسیکیوٹر عمران شفیق کے مطابق پلین بارگین کا قانون فوجداری مقدمات میں متعارف کروانے سے نظام انصاف متاثر ہو سکتا ہے۔
مالی معاملات کی حد تک پلی بارگین کا قانون متاثرہ فریق کو ریلیف فراہم کر سکتا ہے لیکن دیگر جرائم میں پلی بارگین کے نظام کو لانا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’تجویز کردہ سیکشن میں سات سال سے کم سزا ہونے والے تمام جرائم پر پلی بارگین کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ پلی بارگین کو مالی معاملات کے کیسز کی حد تک محدود نہ کرنا درست نہیں ہے۔
عمران شفیق کے مطابق ’پلی بار گین کی مالی نوعیت کے کیسز میں بالکل اجازت ہونی چاہیے، کیونکہ جس کے ساتھ مالی طور پر دھوکہ یا فراڈ ہوا ہے تو اس کی دلچسپی یہی ہوتی ہے کہ اس کی رقم اسے واپس وصول ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ لین دین یا مالی بے ضابطگیوں کے جتنے بھی مقدمات ہیں ان میں بلآخر چار پانچ سال تک جیل میں رہ کر آخر میں صلح ہی کرتے ہی۔
اگر مالی نوعیت کے مقدمات میں پلی بارگین کی شق ڈالی جائے تو اس سے عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا اور عدالت کی زیر نگرانی لوگوں کو ڈوبی ہوئی رقم ملنا شروع ہوں گی اور جھوٹے مقدمات کا اندراج بھی ختم ہوگا کیونکہ دھوکہ دہی کی دفعات قابل ضمانت ہیں تو ایسے کیسز میں متاثرہ فریق جھوٹ کا سہارا لے کر ایسی دفعات بھی شامل کرتے ہیں جو ناقابل ضمانت ہوں۔ تاہم اگر مالی معاملات سے ہٹ کر کوئی اگر کیس میں دفعات ڈال رہے ہیں وہ درست نہیں ہوگا۔
