طاقتورخفیہ والے سپریم کورٹ سے بھی زیادہ طاقتور ہو گئے؟

سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت پررہائی کا حکم ملنے کے باوجود طاقتور ترین خفیہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو رہا کرنے سے انکاری ہے اور اب انھیں ان کے آبائی علاقے وزیرستان کی جیل منتقل کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ایسے میں ناقدین سوال کر رہے ہیں کہ کیا علی وزیر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے والے طاقتور خفیہ ہاتھ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔
یاد رہے کہ علی وزیر کو دسمبر 2020 میں فوجی اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر گرفتار کرکے ان پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ لیکن تقریباً ایک برس بعد نومبر 2021 میں سپریم کورٹ نے ان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم دو مہینے گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہو پایا۔
اب اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے زیرِ حراست رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو اُن کے آبائی علاقے وزیرستان منتقل کرنے کے لیے آئی جی جیل خانہ جات سندھ کو ایک خط لکھ کر بتایا ہے کہ زیر حراست رکن اسمبلی کو ایک مقدمے میں عدالت کے سامنے شمالی وزیرستان میں پیش کیا جانا ہے۔
خط کے مطابق سندھ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزم علی وزیر کو شمالی وزیرستان کے میران شاہ تھانے کی حوالات میں منتقل کرنے کے لیے این او سی جاری کیا ہے۔نسینیئر سپرنٹنڈنٹ جیل نے خط میں درخواست کی ہے کہ محکمہ داخلہ سندھ ملزم کی شمالی وزیرستان منتقلی کے لیے ضروری انتظامات کرنے کے احکامات جاری کرے۔
انسداد دہشت گردی عدالت سندھ نے پولیس کو کہا ہے کہ دوسرے صوبے منتقل کیے جانے کے بعد جب بھی ملزم کے خلاف مقدمے کی سماعت ہو تو اس کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے یقینی بنائی جائے۔ خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے رکن اور پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ علی وزیر کے خلاف تین مختلف مقدمات درج ہیں جن میں سے دو کراچی اور ایک شمالی وزیرستان میں زیرسماعت ہے۔
کراچی کے سہراب گوٹھ اور شاہ لطیف ٹاؤن تھانوں میں درج مقدمات میں علی وزیر کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کی دفعات شامل ہیں جبکہ شمالی وزستان میں ان کے خلاف لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔علی وزیر کو 16 دسمبر 2020 کو سندھ پولیس کی درخواست پر پشاور سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔
صدارتی نظام کے لیے کونسی بڑی شرط پوری کرنا ممکن نہیں؟
انھیں چھ دسمبر 2020 کو کراچی میں نکالی گئی پی ٹی ایم کی ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔نرکن قومی اسمبلی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ علی وزیر کی صحت جیل میں خراب ہوئی ہے اور ان کو گزشتہ رات بھی جیل سے کراچی کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ برس نومبر میں علی وزیر کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر لی تھی۔ جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے علی وزیر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کرتے ہوئے چار لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی تھی۔
نومبر 2021 میں سپریم کورٹ میں علی وزیر کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا تھا کہ ’کیا رکن قومی اسمبلی کے الزامات پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہونی چاہیے؟‘
جسٹس جمال مندوخیل نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا تھا کہ ’علی وزیر کا ایک بھی الزام درست نکلا تب کیا ہوگا؟‘ سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ علی وزیر پر مختلف مقدمات ہیں اور کسی بھی مقدمے میں ان کی ضمانت نہیں ہوئی۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے اس پر پراسیکیوٹر سندھ سے کہا کہ ’کسی دوسرے کیس میں ضمانت نہیں تو اسے سنبھال کر رکھیں۔
جسٹس سردار طارق نے پوچھا تھا کہ اگر علی وزیر کی تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنتا تو متعلقہ دفعہ کیوں لگائی گئی؟۔ اس کے بعد انہوں نے علی و زیر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا لیکن طاقتور حلقے انہیں جیل کی سلاخوں سے باہر نہیں آنے دے رہے۔
