نوازشریف کی طبی رپورٹس کے جعلی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں

وزیراعظم عمران خان کے دعوے کے برعکس اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں جس کی بنیاد پر نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کو جعلی کہہ سکیں، انہوں نے کہا کہ ہم شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ عدالت میں جائے بغیر ہی حل ہو جائے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان اعر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کو جعلی قرار دے چکے ہیں اور یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ انہوں نے باہر جانے کے لیے ٹمپرڈ رپورٹس تیار کروائیں۔ جیو نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خالد جاوید خان نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں جس کی بنیاد پر نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کو جعلی کہہ سکیں، ہم ان کی لندن سے واپسی کے لیے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی نہیں چاہتے، ہماری صرف اتنی خواہش یے کہ یہ معاملہ عدالت جائے بغیر ہی حل ہو جائے۔
خیال رہے کہ اپنے اس موقف کے برعکس اٹارنی جنرل اس معاملے پر عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔ خالد جاوید خان نے عمران خان کی خواہش پر نواز شریف کی واپسی کا بیان حلفی دینے پر شہباز شریف کو خط لکھا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اپنے وعدے کے مطابق نواز شریف کو وطن واپس لائیں ورنہ توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کری۔
خط میں لکھا گیا یے کہ 16 نومبر 2019ء کو لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی، ڈاکٹرز کی ہدایات روشنی میں نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت چار ہفتوں کے لیے تھی، میڈیا رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ اب نوازشریف کی طبیعت بہتر ہے، جب وہ باہر گئے تو ان کی حالت نازک بتائی گئی تھی لیکن نواز شریف جیسے ہی لندن پہنچے ان کی حالت بہتر ہوگئی۔ لندن جانے کے بعد نواز شریف ایک بھی دن ہسپتال میں داخل نہیں رہے، اور ان کی سیاسی اور سماجی سرگرمیاں جاری ہیں۔
سرینا عیسیٰ کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا
اٹارنی جنرل کی طرف سے شہباز شریف کو لکھے گے خط میں لاہور ہائی کورٹ میں دی گئی گارنٹی کا حوالہ دیا گیا ہے اور شہبازشریف کو عدالت میں دیئے گئے بیان حلفی پر عمل درآمد کی تلقین کی گئی ہے ، شہباز کو بیان حلفی پر عمل درآمد کے لیے مخصوص وقت بھی دیا گیا ہے اور عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں انہیں توہین عدالت کی کارروائی سے متنبہ کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ وفاقی کابینہ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ انڈر ٹیکنگ کی خلاف ورزی پر آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
ہائی کورٹ کے حکم نامے پر پنجاب حکومت نے میڈیکل بورڈ بنایا جس نے نوازشریف کی فراہم کردہ رپورٹس کو ناکافی قرار دیا ہے، خط میں کہا گیا یے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے عیاں ہے آپ میڈیکل رپورٹس دینے میں ناکام رہے، اس لیے انڈرٹیکنگ خلاف ورزی پر آپ کے خلاف ہائی کورٹ رجوع سے پہلے خط لکھ رہے ہیں، خط ملنے کے 10 دن میں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس جمع کرائیں، ورنہ آپ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔
