وزیراعظم اپنے اثاثوں بارے کسی کو جوابدہ نہیں ہیں

فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ سمجھے جانے والے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے فل بینچ کا فیصلہ غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فائز عیسی اپنے اثاثوں بارے عدالت کو جوابدہ نہیں تو پھر میں اور وزیراعظم عمران خان بھی اپنے خاندان کے اثاثوں بارے کسی عدالت کو جوابدہ نہیں.
شہزاد احمد سے گفتگو کرتے ہوئے ایجنسیوں کے۔ماوتھ پیس فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مخالف نہیں۔

ہمارے پاس انکے خلاف کچھ معلومات آئیں، جو ہم نے آگے بڑھائیں اب اگر عدالت انہیں تسلیم نہیں کرتی تو اس میں ہمارا کیا قصور۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا کیا مسز سرینا عیسیٰ نے یہ وضاحت دی کہ انکے پاس پیسے کہاں سے آئے؟ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ میری فیملی امیر ہے۔

ایف بی آر نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مسز سرینا عیسیٰ اپنے ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ وزیر قانون ہمیشہ کی طرح غلط بیانی سے کام لے رہے تھے چونکہ مسز سرینا عیسی سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران اپنے ذرائع آمدن کے حوالے سے تفصیلی مؤقف بیان کر چکی ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ 29 جنوری 2022 کو جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کیس کا مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھاہازا نظر ثانی درخواستوں کا تحریری فیصلہ 70 روز بعد جاری کیا گخا جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ تحریر کیا ہے جب کہ فیصلہ 45 صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی اور اہلخانہ کا ٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیا گیا۔

یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ستمبر 2023 میں اگلے چیف جسٹس ہوں گے لہذا اسٹیبلشمنٹ انہیں کسی بہانے سپریم کورٹ سے نکالنا چاہتی ہے۔ کیس کے عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدلیہ کو کسی جج کے خلاف ازخود نوٹس لینے کی ہدایت دینا سپریم جوڈیشل کونسل کی آزادی کے خلاف ہے۔ آئین کے تحت سرکاری افسران ججز کےخلاف شکایت درج نہیں کرا سکتے جبکہ چیئرمین ایف بی آر کی رپورٹ دراصل جسٹس فائز عیسیٰ کےخلاف شکایت ہی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو جسٹس عیسی کے خلاف تحقیقات کا حکم دینا غلط تھا، عدالت کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل ججز کے خلاف کارروائی صدر کی سفارش پر کرتی ہے نہ کہ وزیر اعظم کی سفارش پر۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کا ٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیا گیا۔ مرکزی کیس میں بھی جسٹس فائز اور ان کی اہلیہ کا مکمل مؤقف نہیں سنا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ کسی ایک جج کےخلاف کارروائی سے پوری عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھتا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ عدالت کی ججمنٹ ٹھیک نہیں ہے، ہمارے پاس اس فیصلے کے خلاف قانونی آپشنز موجود ہیں، اگر ججز کے اختیارات سب سے زیادہ ہوتے ہیں تو انکی ذمہ داری بھی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج وزیر قانون نہیں بلکہ آزاد شہری اوربطور وکیل بات کر رہا ہوں۔ میرا جسٹس فائز عیسیٰ سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی طرح دیگر سرکاری افسران بھی پبلک آفس ہولڈرز ہیں۔

مشرف کیخلاف انکوائری نہ ہونے پر چیئرمین نیب کو نوٹس

کیا اب ڈسٹرکٹ ججز اور انتظامی افسران بھی اہلخانہ کے معاملات سے آزاد ہونگے؟ اگر ایسا ہے تو پھر میں بھی کیوں اپنے اہلخانہ کے اثاثے ظاہر کروں؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کا جج اپنے اہلخانہ کے اثاثوں کا جواب دہ نہیں تو کیا یہ معیار دیگر سرکاری ملازمین کیلئے بھی ہوگا؟ اگر جج جوابدہ نہیں تو وزیر اعظم اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جواب دہ ہوں گے؟

تاہم فروغ نسیم کا یہ موقف بھی غلط ہے چونکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں صاف کہا ہے کہ عدالت کےجج سمیت کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں، لیکن کسی شخص کو اسکے قانونی حق سے محروم بھیننہیں کیا جا سکتا، ہر شہری اپنی زندگی، آزادی، ساکھ اور جائیداد سے متعلق قانون کے مطابق سلوک کا حق رکھتا ہے جب کہ آئین کے آرٹیکل 9 سے 28 ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدلیہ کا احتساب ضروری ہے لیکن قانون کے مطابق ہونا چاہیے

یاد رہے کہ عدالت عظمیٰ کے دس رکنی لارجربینچ نےچھ چار کے تناسب سے سرینا عیسیٰ کے حق میں فیصلہ سنایا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں اکثریت سے منظور کی جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر، جسٹس مظہر عالم، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین نے فیصلہ تحریر کیا۔

جسٹس یحیٰ آفریدی نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے سابق چیئرمین بیرسٹر شہزاد اکبر اور وزیرِ قانون فروغ نسیم کی غیر قانونی ہدایات پر ٹیکس حکام نے سرینا عیسیٰ کے مقدمے میں ٹیکس سے متعلق رازداری کے حق کو بھی واشگاف طور پر پامال کیا ہے۔ اضافی نوٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ شہزاد اکبر اور فروغ نسیم سرینا عیسیٰ کے خلاف مقدمے میں ٹیکس سے متعلق رازداری کے قانون کو توڑنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

وزیر قانون اور چیئرمین اے آر یو کی آئین اور قانون کی خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس یحیٰ آفریدی نے لکھا کہ اس عدالت کی جانب سے ان افراد کے اقدامات کو متفقہ طور پر غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیے جانے کے باوجود ان کو عہدے پر برقرار رکھنا متحرم وزیر اعظم کے ان خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کو واضح کرتا ہے۔ اپنے نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا سپریم جوڈیشل کونسل کو ایف بی آر کی طرف سے موصول ٹیکس رپورٹ بھیج کر یہ ہدایات دینا کہ اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے دراصل اس کونسل کے دائرہ اختیار میں مداخلت ہے۔

جسٹس آفریدی کے مطابق کونسل حاصل ہونے والی ایسی معلومات پر از خود غور کر سکتی ہے کہ اس میں جج کے کردار پر تحقیق ہونی چائیے یا نہیں۔ ٹیکس حکام کی رپورٹ پر سپریم جوڈیشل کونسل کو ہدایات دینے سے یہ عدالت خود ’فیصلہ کنندہ‘ کے بجائے ’شکایت کنندہ‘ بن جاتی ہے۔

Back to top button