اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کو خفیہ رکھنے پر پابندی ختم

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی، اسٹیٹ بینک کے جمع ریکارڈ کو تین سال 9 ماہ بعد خفیہ رکھنے پر پابندی ختم کر دی گئی ہے۔
ای سی پی پٹیشنر اکبر ایس بابر کو کیس کا ریکارڈ آج حوالے کریگا، سکرونٹی کمیٹی رپورٹ سے منسلک ریکارڈ، 8 والیمز حوالے کیئے جائیں گے، آٹھ والیمز میں پی ٹی آئی سے متعلق ریکارڈ شامل ہے۔
ریکارڈ سٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں اور بینکوں سے جمع کیا، پی ٹی آئی کی بینک ٹرانزیکشن کی مصدقہ تفصیلی پہلی بار سامنے آئے گی، 8 والیمز میں پی ٹی آئی کے بینک اکاونٹ کی تفصیلات شامل ہیں، پی ٹی آئی گزشتہ سال سے تمام ریکارڈ خفیہ رکھنے کی بار بار استدعا کرتی رہی ہے۔
میرشکیل الرحمن پرائیوٹ پراپرٹی کیس میں بری
الیکشن کمیشن نے سکرونٹی کمیٹی کا فیصلہ مسترد کر دیا تھا، الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کی دستاویزات پبلک ریکارڈ کا حصہ ہیں، نہیں خفیہ رکھنے کی استدعا ناقابل قبول ہے۔
فارن فنڈنگ کا کیس 7 سال سے زیر التواء ہے، اکبر ایس بابر کو ریکارڈ کے محدود حصے تک 55 گھنٹے رسائی دی گئی تھی، محدو د ریکارڈ کا دو غیر جانبدار مالیاتی ماہرین نے آڈٹ کیا تھا۔
2.2 ارب روپے کی غیر قانونی فنڈنگ ثابت ہوئی تھی، سکرونٹی کمیٹی رپورٹ میں 7.5 ملین امریکی ڈالر فنڈنگ ظاہر کی گئی۔
