خفیہ ادارے بیرون ملک بھی ناقدین کو ٹارگٹ کر رہے ہیں

برطانوی عدالت کی جانب سے پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار شخص کو قصور وار قرار دئیے جانے کے بعد گورایہ نے کہا ہے کہ ثابت ہو گیا ہے پاکستانی خفیہ ادارے مغربی ممالک میں مقیم ایسے لوگوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں، جو ان سے اختلاف رائے کرتے ہوئے جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور آزادی صحافت اور رائے کا علم تھامے ہوئے ہیں۔ گورایہ نے کہا کہ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ وہ سستی شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے یا انکی جان کو واقعی خطرہ لاحق تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انکے قتل کی سازش کے محرک خفیہ ہاتھوں کا پول بھی جلد کھل جائے گا۔
انسانی حقوق کے کارکن اور بلاگر احمد وقاص گورایہ نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ان کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا لیکن آخر کار ان کو قتل کرنے کی سازش کا فاش ہوجانا اور ‘کرائے کے قاتل‘ پر برطانیہ کی عدالت میں جرم ثابت ہونا ایک انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوئی ہے۔ گورایہ نے کہا کہ اس دوران انہیں نہ صرف ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا سامنا رہا بلکہ ان کے خاندان کی زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔
اس دوران انہوں نے کئی مرتبہ ہالینڈ میں اپنی رہائش بدلی جس سے ان کا کام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ تاہم اب وہ مطمئن ہیں کیوں کہ کم ازکم یہ تو پتہ چل گیا ہے کہ وہ سستی شہرت یا توجہ کی خاطر اپنے خدشات کا اظہار نہیں کر رہے تھے بلکہ انکی زندگی کو حقیقی خطرہ لاحق تھا۔
نیدرلینڈز میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے والے احمد وقاص گورایہ نے مزید کہا کہ اب برطانوی اور مغربی حکام کو پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہیے اور کرائے کے قاتل کا بندوبست کرنے والے خفیہ ہاتھوں کے بارے میں مزید حقائق سامنے لانا چاہییں۔یاد رہے کہ برطانیہ کی کنگسٹن کورٹ نے 28 جنوری کو ایک پاکستانی نژاد برطانوی شخص گوہر خان کو احمد وقاص گورایہ کا قتل کرنے کی سازش میں مجرم قرار دے دیا تھا۔ 31 سالہ گوہر۔ کے پر الزام ثابت ہوا کہ اس نے ‘کرائے کے قاتل‘ کے طور پر گورایہ کے قتل کی حامی بھری تھی اور اس مقصد کی خاطر وہ نیدرلینڈز بھی گیا، تاہم وہ اپنے اس مشن میں ناکام رہا اور لندن واپسی کے دوران ٹرین سے گرفتار کر لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ گوہر کو کو 11 مارچ 2022 کو سزا سنائی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کو خفیہ رکھنے پر پابندی ختم
احمد وقاص گواریہ نے بتایا کہ برطانیہ میں اس مقدمے کی کارروائی اور نتیجے سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے اور حکام مغربی ممالک میں مقیم ایسے لوگوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں، جو ان سے اختلاف رائے رکھتے ہوئے جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور آزادی رائے و صحافت کا علم تھامے ہوئے ہیں۔ گورایہ کے مطابق اب ایسے تمام شکوک ختم ہو گئے ہیں کہ اپنی جان بچا کر پاکستان سے فرار ہونے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کو مغربی ممالک میں بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول برطانوی عدالت کا فیصلہ موجودہ صورتحال میں بہتری کی امید کی ایک کرن ثابت ہو گا۔
احمد وقاص گورایہ کا اصرار ہے کہ مغربی ممالک کو اب حکومت پاکستان پر دباؤ مزید بڑھانا چاہیے اور اس کیس میں ایسے پہلوؤں کو عیاں کیا جانا چاہیے، جو ابھی تک واضح نہیں ہوئے۔ مثال کے طور پر گوہر کو رقوم دینے والے کون تھےِ؟ بظاہر گوہر کو اس واردات کے لیے رضا مند کرنے والے لوگ پاکستان سے آپریٹ کر رہے تھے۔ تاہم ابھی تک پاکستانی حکام نے برطانوی عدالت کے فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
ایک سوال کے جواب میں گورایہ نے بتایا کہ برطانوی عدالت کا فیصلہ نہ صرف پاکستان بلکہ ایسے تمام ممالک کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ جبر پر مبنی ریاستیں، مغربی ممالک میں جلا وطنی اختیار کرنے والے اپنے شہریوں کو نہ تو سیاسی تعاقب کا نشانہ بنا سکتی ہیں اور نہ ہی انہیں ہراساں کر کے ان کی یا دیگر کارکنوں کی آوازیں خاموش کرا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے نیدرلینڈز کے رہائشی احمد وقاص گورایہ 2017 میں چھٹیوں پر پاکستان گئے تھے جب 4 جنوری کو وہ اچانک لاہور سے لاپتہ ہو گئے۔ گورایہ کے مطابق خفیہ ایجنسی کے اغوا کاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ عالمی اور ملکی سطح پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے چند ہفتوں بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا چنانچہ 29 جنوری 2017 کو گورایہ نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی جس کے بعد ایک خفیہ ایجنسی نے انہیں مروانے کے لیے ایک پلان ترتیب دیا جو ناکام ہوگا۔ گورایہ کے بقول ان کے اس اغوا کے پیچھے بھی خفیہ ایجنسیاں کارفرما تھیں اور قتل کے منصوبے وبے کے پیچھے بھی، جو ان کی آواز خاموش کرانا چاہتی ہیں۔
