دفاعی بجٹ میں اضافے کے لیے ٹیکسز: عوام کی چیخیں

 

 

 

وفاقی حکومت نے اس سال کے دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافے کا سارا مالی بوجھ مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام پر منتقل کر دیا ہے، جو پہلے ہی بھاری ٹیکسوں تلے دبے ہوئے ہیں اور اب ان کی چیخیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔

 

حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی اخراجات کے لیے مختص رقم میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جسکے بعد پاکستان کا دفاعی بجٹ تقریباً تین ہزار ارب روپے کی سطح کو چھونے لگا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے ساتھ ہی حکومت نے نئے ٹیکس اقدامات اور محصولات میں اضافے کے ذریعے عام شہریوں، تنخواہ دار طبقے اور کاروباری حلقوں پر مزید مالی دباؤ ڈال دیا ہے۔

معاشی مبصرین کے مطابق بجٹ میں دفاعی اخراجات میں اضافے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک کی ایک بڑی آبادی مہنگائی کی بلند ترین شرح، بجلی و گیس کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے شدید متاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید محصولات اکٹھے کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔

 

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2025-26 میں دفاعی بجٹ 2550 ارب روپے رکھا گیا تھا جو بعد ازاں نظرثانی کے بعد 2595 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس سے ایک سال قبل مالی سال 2024-25 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے دفاعی بجٹ کے لیے 2122 ارب روپے مختص کیے تھے۔ یوں صرف تین برسوں کے دوران دفاعی اخراجات میں مجموعی طور پر 878 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق اگر مجموعی وفاقی بجٹ کا حجم تقریباً 18 ہزار ارب روپے تصور کیا جائے تو دفاعی اخراجات کا حصہ 16 فیصد سے زیادہ بنتا ہے، جو ملک کے محدود مالی وسائل کے تناظر میں ایک اہم تناسب سمجھا جا رہا ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا صحت، تعلیم اور سماجی بہبود جیسے شعبے بھی اسی رفتار سے وسائل حاصل کر رہے ہیں یا نہیں۔

 

دوسری جانب حکومت دفاعی بجٹ میں اضافے کو ناگزیر قرار دے رہی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور حکومتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو ایک ایسے خطے میں اپنی سلامتی یقینی بنانا ہے جہاں سکیورٹی خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور علاقائی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات، سرحدی تنازعات، دہشت گردی کے خطرات اور افغانستان سے جڑے سکیورٹی چیلنجز کے باعث دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ حکام کے مطابق قومی سلامتی پر سمجھوتہ کسی صورت ممکن نہیں۔

 

دفاعی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید نگرانی کے نظام اب دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے بغیر کسی بھی ملک کے لیے دفاعی برتری برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

 

تاہم معاشی ماہرین اس دلیل کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالیاتی نظم و ضبط کا پابند ہے اور حکومت مسلسل نئے ٹیکس لگانے، سبسڈیز کم کرنے اور عوامی اخراجات محدود کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔

ان ماہرین کے مطابق اگر دفاعی اخراجات میں اضافہ ناگزیر تھا تو اس کے ساتھ ساتھ عوام کو مہنگائی سے بچانے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو وسعت دینے کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی سامنے آنی چاہیے تھی۔ ان کا استدلال ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر طویل المدت قومی سلامتی بھی ممکن نہیں۔

 

اپوزیشن جماعتوں نے بھی دفاعی بجٹ میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف عوام کو کفایت شعاری اور قربانیوں کا درس دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف ریاستی اخراجات میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق عام شہری سے ہر ممکن ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے لیکن اس کے بدلے اسے بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔

حکومتی سسٹم کے خاتمے کی افواہوں کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

عوامی حلقوں میں بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ جب لاکھوں افراد غربت کی لکیر کے قریب زندگی گزار رہے ہیں، صحت اور تعلیم کے نظام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے تو کیا وسائل کی ترجیحات پر ازسرنو غور نہیں ہونا چاہیے۔ ادھر دفاعی بجٹ کے حامی حلقے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کو ایک ایسے ہمسایہ ملک کا سامنا ہے جس کا دفاعی بجٹ پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کو کمزور کرنا یا دفاعی تیاریوں میں کمی لانا مستقبل میں کہیں زیادہ بھاری قیمت کا باعث بن سکتا ہے۔ معاشی و دفاعی ماہرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اصل مسئلہ دفاع یا ترقی میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں بلکہ دونوں کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔ ان کے مطابق مضبوط دفاع اور مضبوط معیشت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور کسی ایک شعبے کو نظرانداز کرنا قومی مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے ہفتوں میں پارلیمنٹ میں بجٹ پر ہونے والی بحث کے دوران دفاعی اخراجات اور عوام پر عائد کیے گئے نئے ٹیکسوں کا معاملہ سب سے زیادہ زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔ یہی بحث اس سوال کا جواب بھی فراہم کرے گی کہ آیا حکومت قومی سلامتی کے تقاضوں اور مہنگائی سے پریشان عوامی مفادات کے درمیان کوئی قابل قبول توازن قائم کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔

Back to top button