حکومتی سسٹم کے خاتمے کی افواہوں کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

سیاسی حلقوں میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک بار پھر یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آیا موجودہ سیاسی نظام اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہے گا یا نہیں۔ اسی دوران وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان مبینہ اختلافات، سول ملٹری تعلقات میں دراڑ اور ممکنہ سیاسی تبدیلیوں سے متعلق افواہوں نے بھی سیاسی منظرنامے کو گرمائے رکھا۔ تاہم حکومتی اور عسکری ذرائع ان تمام قیاس آرائیوں کو مسلسل مسترد کرتے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ان افواہوں کو سب سے زیادہ تقویت اس وقت ملی جب سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے حالیہ کالموں میں موجودہ حکومتی ڈھانچے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھائے۔ ان کے تجزیوں کو سیاسی حلقوں میں غیر معمولی توجہ ملی اور بعض حلقوں نے انہیں موجودہ سسٹم کے مستقبل کے بارے میں ایک اہم اشارہ قرار دیا۔
سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ بظاہر حکومت مضبوط دکھائی دیتی ہے اور مقتدرہ، عدلیہ یا اندرونی سیاسی لڑائی کی جانب سے کوئی فوری خطرہ نظر نہیں آتا، لیکن معاشی مشکلات اور عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی مستقبل میں حکومت کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاشی سمت تبدیل نہ ہوئی تو جولائی سے حکومت کے زوال کا سفر شروع ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سہیل وڑائچ کے اس تجزیے کو بعض حلقوں نے محض معاشی اور سیاسی تجزیہ سمجھنے کے بجائے نظام میں ممکنہ تبدیلی کی پیش گوئی کے طور پر لیا، جس کے بعد اسلام آباد کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں مختلف قسم کی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ اس دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے سہیل وڑائچ کے دعوے کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ ان میں کسی قسم کی حقیقت نہیں اور سینیئر صحافی کے ایسے اکثر تجزیے پچھلے چند سالوں میں غلط ثابت ہوئے ہیں۔
اس سے قبل بھی سہیل وڑائچ اپنے کالموں میں "ہائبرڈ نظام” اور اقتدار کے موجودہ ڈھانچے پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ ایک کالم میں انہوں نے یہ تاثر بیان کیا تھا کہ اسلام آباد کے بعض حلقوں میں یہ بحث پائی جاتی ہے کہ اگر اصل طاقت فوج کے پاس ہے تو پھر بالواسطہ کے بجائے براہ راست حکمرانی کیوں نہیں ہونی چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انہی مباحث نے موجودہ دنوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید ریاست کے اہم مراکز کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود نہیں اور پس پردہ کسی نئی سیاسی ترتیب پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی ماحول میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تعلقات کے بارے میں بھی مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں۔ بعض سیاسی حلقوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بعض اہم معاملات پر اختلاف رائے موجود ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ایسے تبصرے سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ "سب کچھ ٹھیک نہیں” اور ریاستی طاقت کے دو اہم مراکز کے درمیان فاصلے پیدا ہو رہے ہیں۔
ان افواہوں کو مزید تقویت اس وقت ملی جب حکومت کے قریب سمجھے جانے والے بعض سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو مختلف انداز میں تعبیر کیا گیا۔
ان بیانات کی بنیاد پر بعض مبصرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آنے والے مہینوں میں سیاسی منظرنامے میں اہم تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
تاہم حکومتی اور عسکری ذرائع نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان تعلقات نہ صرف خوشگوار ہیں بلکہ حالیہ مہینوں میں قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور علاقائی صورتحال سے متعلق امور پر قریبی مشاورت کے باعث مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے ذرائع کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ پاکستان کو ایک طرف معاشی مشکلات اور دوسری جانب خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کا سامنا ہے، جس کے باعث سول اور عسکری قیادت کے درمیان مسلسل رابطہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی پیش رفت اور خطے کی بدلتی صورتحال سمیت متعدد اہم معاملات پر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان باقاعدہ مشاورت جاری رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے مابین امن ڈیل بھی فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی باہمی کوششوں سے ہی ممکن ہوئی اور ان کے مابین بہترین انڈرسٹینڈنگ ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب سے موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے سوشل میڈیا پر بھی تحریک انصاف کے سپورٹرز کی جانب سے اکثر ایسی افواہیں اڑائی جاتی رہی ہیں جن کا حقیقت سے تعلق نہیں تھا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ موجودہ سسٹم کے بڑوں کے مابین اختلافات موجود ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اہم قومی معاملات پر ریاستی ادارے کس حد تک ایک مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سرکاری سطح پر یہی پیغام دیا جا رہا ہے کہ اہم پالیسی امور پر حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان قریبی رابطہ برقرار ہے۔
دوسری جانب سہیل وڑائچ کے حالیہ کالموں نے اس بحث کو ضرور زندہ کر دیا ہے کہ موجودہ نظام کی اصل طاقت کیا ہے، حکومت کی عوامی مقبولیت کس سطح پر ہے اور معاشی کارکردگی مستقبل کے سیاسی استحکام پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تجزیے سیاسی حلقوں میں مسلسل زیر بحث ہیں۔
گلگت بلتستان: کیا فوج PPP کی حکومت نہیں بننے دے گی؟
فی الحال دستیاب معلومات اور سرکاری مؤقف یہی ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ نظام کے فوری خاتمے یا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان کسی بڑی کشیدگی کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔ البتہ سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ معاشی صورتحال، عوامی ردعمل اور آنے والے مہینوں کی سیاسی پیش رفت ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ موجودہ نظام کس حد تک اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہتا ہے یا مستقبل میں کسی نئی سیاسی ترتیب کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
