حکومت کیلئے بڑھتی مہنگائی پر قابو پانا ایک چیلنج کیوں؟

گزشتہ سال بیشتر معاشی اہداف حاصل نہ کر سکنے والی حکومت معیشت میں بہتری کی دعویدار ہے۔ غیر جانب دار اقتصادی تجزیہ کار خاص طور پر افراط زر کے کم ہونے اور شرح نمو میں اٖضافے کے حکومتی دعوؤں پر حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق تیسری دنیا کے ملکوں میں سرکاری معاشی اعدادوشمار مرتب کرنے کا عمل کئی وجوہات کی بنا پر ‘کمپرومائزڈ‘ ہی ہوتا ہے، ”خاص طور پر زرعی گروتھ ظاہر کرنے کے معاملے میں حکومتیں اعدادوشمار کو آسانی سے تبدیل کر سکتی ہیں، کیونکہ ان کی تصدیق کرنے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگوں کی زندگی کو متاثر کرنے والے امور کے بارے میں جو اکنامک انڈیکیٹرز حکومتیں بتاتی ہیں،ان کا اظہار ہمیں عام لوگوں کی زندگیوں میں نظر نہیں آتا۔‘‘پاکستان میں تقریبا ہر حکومت عام طور پر اپنی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لیے اعدادوشمار کی جادوگری کو اس طرح استعمال کرتی رہی ہے کہ عام آدمی کو آدھا گلاس بھرا ہوا تو نظر آتا ہے لیکن اسے آدھے گلاس کے خالی ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔

جاوید لطیف کا دوبارہ عام انتخابات کرانے کا مطالبہ

 

اقتصادی ماہرین کے بقول اس سال اکنامک سروے میں بتائے جانے والے دو اعداوشمار ایسے ہیں، جن کو درست ماننا بہت مشکل ہے۔ ان کے بقول، ”حکومت دعویٰ تو کر رہی ہے کہ افراط زر اڑتیس فی صد سے گیارہ اعشاریہ آٹھ فی صد تک نیچے آ گئی ہے لیکن اس نے یہ اعدادوشمار کیسے نکالے ہیں؟ اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔‘‘ان کا مزید کہنا ہے کہ ”ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ زرعی اجناس کی پیداوار بڑھی، مارکیٹ میں ان کی سپلائی بہتر ہوئی اور قیمتیں کم ہو گئیں لیکن دوسری طرف کہتی ہے کہ چاول برآمد کر دیے گئے۔ ایک طرف گندم کی بمپر کراپ کا تو ذکر ہے لیکن دوسری طرف مہنگی اور غیر میعاری گندم کی بڑی تعداد میں درآمد اور اس کے اثرات پر بات نہیں کر رہی۔ مہنگی گندم منگوانے والا سستی گندم کیسے بیچ رہا ہے۔ اس کا ہمیں کچھ اندازہ نہیں۔‘‘ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ”حکومت اس بات پر خوش ہے کہ پاکستان روپیہ ڈالر کے مقابلے میں دو سو اسی روپے پر مستحکم ہے لیکن وہ یہ نہیں بتا رہی کہ یہ روپیہ ایک سو روپے سے دو سو اسی تک پہنچا ہے اسے ہائی ویلیو پر برقرار رکھنا کارنامہ نہیں بلکہ اسے اس کی اصل ویلیو پر لانا ہی کمال ہوگا۔‘‘معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کہتی ہے کہ ایک سال پہلے اس کے پاس صرف چند ہفتے کی ضروریات پوری کرنے کے زرمبادلہ کے ذخائر تھے لیکن اب اس کے خزانے میں نو ارب ڈالر جمع ہیں لیکن حکومت کو یہ بھی تو بتانا چاہیے کہ اگلے ایک سال میں انہوں نے انتیس ارب ڈالر کا قرضہ کیسے ادا کرنا ہے؟ ، ”ملکی برآمدات تو چھبیس ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ حکومت فخر کر رہی ہے کہ منفی گروتھ سے باہر آ گئے ہیں لیکن یہ بھی تو دیکھے کہ جتنی گروتھ ہو رہی ہے اتنی آبادی بھی بڑھ رہی ہے۔ اصل میں دیکھنا یہ چاہیے کہ اصل گروتھ کتنی ہے۔‘‘ ملکی اقتصادی بحران کا حل یہ ہے کہ ہائی جی ڈی پی گروتھ کی طرف آیا جائے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ”اگر ہم حکومتی اعدادوشمار کو درست بھی مان لیں تو ہمیں اقتصادی سروے بتاتا ہے کہ حکومت افراط زر، بجٹ خسارے اور شرح نمو سمیت اپنے بہت سے ٹارگٹ پورے کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔امید کی کرن صرف یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کہلانے والا جہاز جہاں راستے سے بہت دور جا چکا ہے، وہ اب بھی راستہ بدل سکتا ہے، بشرطیکہ حکمران طبقہ اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر دیکھے۔

Back to top button