عدلیہ کے سیاسی فیصلوں نے جمہوریت کو کیسے کمزور کیا؟

تاريخ کے اوراق یہ بتاتے ہیں کہ عدلیہ اور پاکستانی سیاست کے راستے ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں۔ کئی مرتبہ عدلیہ کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں پر تنقید کی گئی اور کبھی انھیں مخصوص حلقوں کی طرف سے سراہا بھی گیا اور یہ سلسلہ آج بھی برقرار ہے۔

گذشتہ چند سالوں پر نظر ڈالیں تو عدلیہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہاں بھی سیاسی پارٹیاں تو تبدیل ہوئیں لیکن اعتراضات وہیں رہے۔پہلے مسلم لیگ ن نے عدلیہ پر عمران خان کی حمایت کا الزام لگایا تو اب تحریک انصاف یہ شکوہ کر رہی ہے کہ انھیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔

اس بارے میں تجزیہ کار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ’عدالتی ہواؤں کے رُخ سیاسی حالات دیکھ کر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ معاملات آج سے نہیں ہیں۔ ہماری عدلیہ کی ایک تاریخ ہے جس میں کئی مقدمات شامل ہیں۔‘وہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہماری عدلیہ ملک کے سیاسی نظام میں مداخلت کرنے والوں کی ساتھی رہی ہے اور سازشی کردار ادا کرتی رہی ہے۔‘

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنما ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں نواز شریف عدلیہ کے لیے تحریک چلاتے رہے۔۔۔ لیکن وہی نواز شریف پچھلے کچھ عرصے سے عدلیہ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ تو یہ صرف وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔‘انھوں نے مزید تبصرہ کیا کہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے ’ہمارے ملک میں سیاسی انجینیئرنگ کی جاتی ہے اور غیر جمہوری عمل کے ہتھکنڈے استعمال کر کے لوگوں کو اقتدار میں لایا جاتا ہے۔‘

دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت اور آنے والے دنوں میں سیاست میں بیانیے کا پہیہ ملکی معیشت پر چلے گا۔2015 تک پاکستان موجودہ معاشی حالات سے بہتر تھا۔ مسلم لیگ ن، پی پی پی اور دیگر سیاسی جماعتیں عمران خان اور ان کی معاشی پالیسوں کو اس کا قصوروار سمجھتی ہیں جبکہ تحریک انصاف اس کا قصور وار 18 ماہ اقتدار میں رہنے والی شہباز شریف کی حکومت کو قرار دیتی ہے۔

تجزیہ کار عاصمہ شیرازی اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’یہ بات درست ہے کہ پاکستانی معیشت اس وقت تمام سیاسی فیصلے کروا رہی ہے۔‘انھوں نے مزيد کہا کہ عین ممکن ہے کہ نواز شریف مزاحمتی بیانیہ ترک کر کے اب معاشی بیانیہ سامنے لے کر آئیں گے۔ ’لیکن ان کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ کیسے اس سب میں آئین کی بالادستی برقرار رکھ پائیں گے۔‘

مبصرین کے مطابق گزشتہ 4 سال میں ملکی سیاست اور معیشت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ معاشرے اور عوام کے رویوں میں خاصی تبدیلی آئی ہے۔ پاکستان کا ووٹر آج پہلے سے زیادہ سیاسی سمجھ بوجھ کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات میں دلچسپی لینے لگا ہے جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔جبکہ معاشرے میں عدم برداشت اور سیاسی تفریق بھی بڑھ گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار اس بارے میں کہتے ہیں کہ یہ سب سیاسی نفرتوں کا نتیجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اتنا تقسیم ہو گیا ہے۔وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے عوام کو 1958 سے بتایا، سمجھایا اور پڑھایا گیا ہے کہ سیاستدان بدعنوان اور نااہل ہیں۔ یہ ذہن سازی نصاب، مذہبی علما، اخبار، الیکٹرانک میڈیا، استاد اور حمایتی سیاست دانوں کے ذریعے کی گئی ہے۔’عوام کی اکثریت سیاست سے نابلد، لاتعلق اور بیزار ہو چکی ہے۔ وہ ایک بند ذہن کے ساتھ کسی ایسے مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کے قرضے معاف کروا دے، ان سے ٹیکس نہ لے، چیزیں سستی کر دے اور اگر ممکن ہو تو ان کے لیے

اسرائیلی فوج کی غزہ میں داخلے کی کوشش ناکام،ٹینک تباہ

دو چار ملک بھی فتح کر دے۔‘

Back to top button