ایران اور امریکہ کے مابین اسلام آباد میں امن معاہدے کا امکان

 

 

 

 

پاکستانی سویلین اور فوجی قیادت کی کئی ماہ کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اب یہ بڑی خبر آ رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین بالآخر وہ امن ڈیل ہونے جا رہی ہے جس کا انتظار پوری دنیا کو ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے مابین ممکنہ ڈیل پر اسلام آباد میں دستخط کیے جائیں گے۔

 

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بڑے امن معاہدے کا اعلان جلد متوقع ہے اور مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ، سفارتی تجزیہ کار اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ دونوں ممالک واقعی کتنے قریب پہنچ چکے ہیں اور اس پوری پیش رفت میں پاکستان نے کیا کردار ادا کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران کے معاملے پر کئی اہم مسلم ممالک کے رہنماؤں سے تفصیلی گفتگو کی ہے اور تمام رہنماؤں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ہونے والی گفتگو نہایت اہم رہی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے ساتھ بھی مسلسل رابطے جاری رہے۔

 

دوسری جانب پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدّم نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران سے پاکستان واپسی پر انہیں فون کیا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کی کامیابیوں پر انہیں مبارک باد دی ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نےخلوص کے ساتھ سفارتی کردار ادا کیا ہے جس کا نتیجہ ایک ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور فوج کی مخلصانہ کاوشیں خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ بہادر ایرانی قوم کی مزاحمت نے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ پاکستانی ثالثی کہ بغیر خطے میں امن کی بحالی ممکن نہیں تھی۔

 

سفارتی حلقوں کے مطابق اس پورے عمل میں پاکستان پسِ پردہ سب سے متحرک ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف واشنگٹن بلکہ تہران اور خلیجی قیادت کے ساتھ بھی مسلسل رابطے رکھے اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت ان چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت ایران، امریکہ، سعودی عرب اور چین کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتے ہیں، اسی لیے اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس ممکنہ معاہدے میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کردار بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے جو گزشتہ کئی روز سے ایران میں سفارتی سرگرمیوں میں مصروف رہے جہاں انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ متعدد نشستیں کیں۔ سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنا اور بعض حساس معاملات پر درمیانی راستہ نکالنا تھا۔

 

اطلاعات کے مطابق پاکستانی قیادت نے ایران کو یہ یقین دہانی کروانے کی کوشش کی کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو خطے میں اقتصادی استحکام اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح امریکہ اور خلیجی ممالک کو بھی یہ پیغام دیا گیا کہ ایران کو مکمل سفارتی تنہائی میں رکھنا خطے کے مفاد میں نہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذاکرات کا سب سے اہم نکتہ آبنائے ہرمز کا معاملہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا جس سے عالمی تجارت اور تیل کی رسد بحال ہو جائے گی۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی بڑی معیشتیں اس وقت اسی مسئلے کے حل کی منتظر ہیں کیونکہ خلیج میں کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اس معاملے پر اپنا واضح مؤقف پیش کر دیا ہے۔ ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز ایرانی انتظامیہ کے مکمل کنٹرول میں رہے گی۔ ان کے مطابق ٹرانزٹ راستوں، اوقات کار اور بحری اجازت ناموں کا اختیار صرف ایرانی حکام کے پاس ہوگا۔

ایران امریکہ مذاکرات، آئندہ 24گھنٹے میں کیا ہونےوالا ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق یہی نکتہ اس وقت مذاکرات کا سب سے حساس پہلو بن چکا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی جہاز رانی مکمل آزادی کے ساتھ جاری رہے جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاعی برتری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں دکھائی دیتا۔ مشرقِ وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اس بار مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی، اقتصادی راہداریوں، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام جیسے بڑے معاملات بھی زیر بحث ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ بھی اس وقت ایک بڑے سفارتی حل کا خواہاں ہے کیونکہ مسلسل کشیدگی سے نہ صرف عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ واشنگٹن پر داخلی سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

 

دوسری جانب ایران شدید اقتصادی پابندیوں، مہنگائی اور مالی بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث تہران بھی کسی ایسے معاہدے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے جس سے اسے اقتصادی ریلیف مل سکے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی اہم پیغامات کی ترسیل میں بھی کردار ادا کیا۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے دونوں ممالک کو براہِ راست تصادم سے دور رکھنے اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے میں خاموش مگر مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی سرگرمیوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے نہ صرف خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی بلکہ مختلف ممالک کے درمیان رابطہ کاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست تبدیل ہو سکتی ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی میں استحکام پیدا ہوگا، خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی جبکہ پاکستان کی سفارتی اہمیت بھی مزید بڑھ سکتی ہے۔

 

Back to top button