ایران امریکہ مذاکرات، آئندہ 24گھنٹے میں کیا ہونےوالا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران پاکستان اچانک عالمی سفارتکاری کے مرکز میں آ گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے پاکستان کے کردار کو "قابلِ تحسین” قرار دینا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب اسلام آباد کو صرف ایک علاقائی اتحادی نہیں بلکہ ایک مؤثر ثالث کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر مسلسل رابطے میں ہیں اور پاکستان ایران امریکا بحران میں بنیادی ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی مزید کام باقی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں خطے میں امن، جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔سفارتی حلقے اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ ایران امریکی تجاویز پر اپنا حتمی ردعمل دینے کے قریب بتایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی گزشتہ کئی روز سے تہران میں سرگرم ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان امریکا کی تجاویز اور ایران کے تحفظات کے درمیان ایک درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مکمل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی ممکن ہو سکے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے ایران پر سخت دباؤ ڈالا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ تہران کیا فیصلہ کرتا ہے۔
تاہم تمام تر سفارتی پیش رفت کے باوجود کئی بڑے معاملات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔ ایرانی حکام واضح کر چکے ہیں کہ اگر امریکا نے افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کرنے کا مطالبہ برقرار رکھا تو کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ اختلافات بدستور موجود ہیں اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اعتراف کیا کہ مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں، لیکن یورینیم ذخائر، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے حساس معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔
ادھر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران نے ہرمز کھولنے سے انکار کیا تو امریکا کے پاس "پلان بی” بھی موجود ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین نے بھی ایران کے خلاف ممکنہ پابندیوں کی تیاری شروع کر دی ہے، خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ڈالی گئی۔
سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس وقت واشنگٹن اور تہران دونوں اسلام آباد پر اعتماد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد مسلم ہمسایہ سمجھتا ہے، جبکہ امریکا پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہے۔یہ صورتحال پاکستان کے لیے سفارتی لحاظ سے ایک بڑا موقع بھی سمجھی جا رہی ہے۔ اگر اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان کسی قابلِ عمل معاہدے یا جنگ بندی میں کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔فی الحال تمام نظریں تہران میں ہونے والی ملاقاتوں اور آئندہ 48 گھنٹوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہی وقت طے کرے گا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نئی جنگ کی طرف جاتا ہے یا مذاکرات اور امن کی جانب۔
